سعودی مہمان کی آمد: اپوزیشن اور میڈیا کو دور رکھنے پر تنقید

پاکستانی حکومت پر میڈیا اور اپوزیشن جماعتوں کو سعودی ولی عہد کے اعزاز میں تقریبات سے دور رکھنے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ کئی ناقدین کے خیال میں عمران خان حکومت ایسا ممکنہ طور پر سخت سوالات سے بچنے کے لیے کر رہی ہے۔

اتوار کی شام اسلام آباد پہنچنے والے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اس دورے کے دوران کوئی ایسی پریس کانفرنس ابھی تک نہیں رکھی گئی، جس میں ملکی میڈیا کو مدعو کیا گیا ہو اور نہ ہی دونوں ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں کی کسی مشترکہ پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کے بڑے اداروں کو مدعو کیا گیا ہو۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، سیاست دان اور صحافی حکومت کے اس فیصلے کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔
سعودی ولی عہد کے اس دورے کے دوران تقریباﹰ دس ارب ڈالر مالیت کے منصوبوں کی مفاہمتی دستاویزات پر دستخط کیے جائیں گے۔ پاکستانی معیشت اس وقت شدید بد حالی کا شکار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ساٹھ فیصد سے زیادہ بجٹ دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کی مد میں چلا جائے گا جب کہ ملک کو تقریباﹰ بیس بلین ڈالر مالی خسارے کو پورا کرنے اور دیگر امور کے لیے چاہییں۔

سعودی ولی عہد اتوار کی شام پاکستان پہنچے

اسلام آباد کو آنے والے مہینوں میں ممکنہ طور پر بارہ بلین ڈالر سے زیادہ مالیت کے جرمانوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ جرمانے مختلف بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کی وجہ سے عائد کیے جانے کا خدشہ ہے۔
اس صورت حا ل میں پاکستان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی دوست ممالک کی طرف دیکھ رہا ہے۔ سعودی عرب چھ بلین ڈالر مختلف شرائط پر پاکستان کو دے چکا ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر سی پی سے تعلق رکھنے والے اسد بٹ کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں پاکستان سعودی عرب کو کبھی بھی ناراض نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر صحافیوں کو دعوت دیتے، تو وہ جمال خاشقجی کے حوالے سے کوئی نہ کوئی سوال پوچھ سکتے تھے، جس پر سعودی ولی عہد ناراض ہوتے اور مالی امداد سے ہاتھ کھینچ لیتے۔ اس لیے صحافیوں کو سعودی مہمان سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

عراق

گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق گزشتہ برس عراق میں دہشت گردی کے واقعات میں 4271 افراد ہلاک ہوئے جب کہ سن 2016 میں یہ تعداد قریب 10 ہزار تھی۔ داعش کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں 52 فیصد کمی ہوئی۔ اس کے باوجود عراق دہشت گردی کے شکار ممالک کی فہرست میں گزشتہ مسلسل چودہ برس سے سر فہرست رہا۔ عراق کا جی ٹی آئی اسکور دس سے کم ہو کر 9.75 رہا۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

افغانستان

تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے تاہم اس برس افغانستان میں دہشت گردی کے سبب ہلاکتوں کی تعداد عراق سے بھی زیادہ رہی۔ گزشتہ برس افغانستان میں قریب بارہ سو دہشت گردانہ حملوں میں 4653 افراد ہلاک جب کہ پانچ ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ زیادہ تر حملے طالبان نے کیے جن میں پولیس، عام شہریوں اور حکومتی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔ افغانستان کا جی ٹی آئی اسکور 9.39 رہا۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

نائجیریا

دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں جی ٹی آئی اسکور 8.66 کے ساتھ نائجیریا اس تیسرے نمبر پر ہے۔ سن 2017 کے دوران نائجیریا میں دہشت گردی کے سبب ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے کچھ زائد رہی جو اس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں سولہ فیصد کم ہے۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

شام

سن 2016 کی نسبت گزشتہ برس شام میں دہشت گردانہ حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد اڑتالیس فیصد کم رہی۔ اس کے باوجود خانہ جنگی کا شکار یہ ملک قریب گیارہ سو ہلاکتوں کے ساتھ دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران شام میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں زیادہ تر داعش اور النصرہ کے شدت پسند ملوث تھے۔ شام کا اسکور 8.6 سے کم ہو کر اس رپورٹ میں 8.3 رہا۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

پاکستان

پانچویں نمبر پر پاکستان ہے جہاں گزشتہ برس 576 دہشت گردانہ واقعات میں ساڑھے آٹھ سو انسان ہلاک ہوئے۔ 2016ء کے مقابلے میں گزشتہ برس تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 17 فیصد کم رہی۔ داعش خراسان کے حملوں میں 50 فیصد جب کہ لشکر جھنگوی کے حملوں کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

صومالیہ

دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی امسالہ فہرست میں صومالیہ چھٹے نمبر پر رہا، گزشتہ انڈیکس میں صومالیہ ساتویں نمبر پر تھا۔ اس ملک میں الشباب تنظیم سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے نوے فیصد سے زائد حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ صومالیہ میں دہشت گردی کے سبب ہلاکتوں کی تعداد میں 93 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ جی ٹی آئی انڈیکس میں صومالیہ کا اسکور 7.6 سے بڑھ کر 8.02 ہو گیا۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

بھارت

بھارت بھی اس فہرست میں آٹھ کی بجائے ساتویں نمبر پر آ گیا۔ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا جب کہ ہلاکتوں کی تعداد میں بھی بارہ فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔ سن 2017 میں مجموعی طور پر 384 بھارتی شہری دہشت گردی کا نشانہ بن کر ہلاک جب کہ چھ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ انڈیکس کے مطابق بھارت کے مشرقی حصے میں ہونے والی زیادہ تر دہشت گردانہ کارروائیاں ماؤ نواز باغیوں نے کیں۔ بھارت کا اسکور 7.57 رہا۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

یمن

یمن میں متحارب گروہوں اور سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے علاوہ اس ملک کو دہشت گردانہ حملوں کا بھی سامنا ہے۔ تاہم سن 2016 کے مقابلے میں دہشت گردانہ حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 75 فیصد کم رہی۔ مجموعی طور پر دہشت گردی کے 141 واقعات میں 378 افراد ہلاک ہوئے۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں حوثی شدت پسندوں کے علاوہ القاعدہ کی ایک شاخ کے دہشت گرد ملوث تھے۔ گزشتہ انڈیکس میں یمن چھٹے نمبر پر تھا۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

مصر

مصر ایک مرتبہ پھر دہشت گردی سے متاثرہ ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہو گیا۔ 169 دہشت گردانہ واقعات میں 655 افراد ہلاک ہوئے۔ زیادہ تر حملے داعش کے گروہ نے کیے۔ مصر کا جی ٹی آئی اسکور 7.35 رہا۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

فلپائن

دہشت گردی کے 486 واقعات میں 326 انسانوں کی ہلاکتوں کے ساتھ فلپائن بھی ٹاپ ٹین میں شامل کیا گیا۔ فلپائن کا انڈیکس اسکور 7.2 رہا۔ فلپائن میں پینتیس فیصد حملوں کی ذمہ داری کمیونسٹ ’نیو پیپلز آرمی‘ نے قبول کی جب کہ داعش کے ابوسیاف گروپ کے حملوں میں بھی اٹھارہ فیصد اضافہ ہوا۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو

گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں 7.05 کے اسکور کے ساتھ گیارہویں نمبر جمہوری جمہوریہ کانگو ہے۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

ترکی

ترکی گزشتہ انڈیکس میں پہلی مرتبہ پہلے دس ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس برس ترکی میں دہشت گردی کے واقعات اور ان کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم ہوئی۔ موجودہ انڈیکس میں ترکی کا اسکور 7.03 رہا۔ دہشت گردی کے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری پی کے کے اور ٹی اے کے نامی کرد شدت پسند تنظیموں نے قبول کی جب کہ داعش بھی ترک سرزمین پر دہشت گردانہ حملے کیے۔

2018: دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک

لیبیا

لیبیا میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد یہ ملک تیزی سے دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق 2016ء میں لیبیا میں 333 دہشت گردانہ حملوں میں پونے چار سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دہشت گردی کی اکثر کارروائیاں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے منسلک مختلف گروہوں نے کیں۔ گزشتہ انڈیکس میں لیبیا 7.2 کے اسکور کے ساتھ دسویں جب کہ تازہ انڈیکس میں 6.99 اسکور کے ساتھ تیرہویں نمبر پر ہے۔


پاکستانی صحافیوں نے حالیہ ہفتوں میں بڑے پیمانے پر جبری بر طرفیوں کے خلاف مظاہرے بھی کیے ہیں اور حکومتی اکابرین کے پروگراموں کا میڈیا بائیکاٹ بھی۔ معروف صحافی اور روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کے سابق ایگزیکیٹو ایڈیٹر ضیاالدین کے خیال میں کوئی صحافی عمران خان سے ان بر طرفیوں کے بارے میں بھی پوچھ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ممکن ہے کہ اس لیے بھی صحافیوں کو دعوت نہ دی گئی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستانی اور سعودی دونوں حکومتوں نے ہی یہ فیصلہ کیا ہو کہ صحافیوں کو دعوت نہیں دی جائے گی۔‘‘

ضیاالدین نے کہا کہ کو ئی بھی صحافی جمال خاشقجی کے حوالے سے سوال نہیں کرتا۔ ’’تاہم صحافی اس مسئلے کو سوشل میڈیا پر اٹھا رہے ہیں۔ وہ یقیناً اس مسئلے پر ٹی وی پروگرام نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی پیشہ ور ایڈیٹر اس کی اجازت بھی دینا چاہے، تو بھی مالکان ایسے کسی پروگرام کی اجازت نہیں دیں گے۔ میرے خیال میں عمران خان ابھی تک اپنے دل کو وسیع نہیں کر پائے۔ اسی لیے انہوں نے نہ ہی صحافیوں کو مدعو کیا اور نہ ہی حزب اختلاف کو۔‘‘

معروف صحافی مطیع اللہ جان کے خیال میں حکومت نے صحافیوں کو اس لیے دعوت نہیں دی کہ وہ ان سے جان چھڑانا چاہتی ہے جب کہ حزب اختلاف کو اس لیے دعوت نہیں دی گئی کہ حکومت ان کی ’تذلیل‘ کرنا چاہتی ہے۔

کپتان سے وزیر اعظم تک

بطور وزیراعظم حلف

ہفتہ یعنی اٹھارہ اگست کو تقریب حلف برداری میں عمران خان بطور وزیر اعظم حلف اٹھائیں گے۔

کپتان سے وزیر اعظم تک

کرکٹر

عمران خان پانچ اکتوبر 1952ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ بچپن سے ہی کرکٹ میں دلچسپی تھی اور ان کا شمار پاکستان کرکٹ ٹیم کےکامیاب ترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔

کپتان سے وزیر اعظم تک

سیاست میں قدم

عمران خان نے تبدیلی اور حکومتی بدعنوانی کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ ایرپل 1996ء میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ ایک کرکٹ لیجنڈ ہونے کے باوجود انہیں ابتدا میں سیاسی میدان میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی تھی۔

کپتان سے وزیر اعظم تک

نوجوانوں کا ’ہیرو‘

پاکستان میں ’دو پارٹیوں کی سیاست‘ کے خاتمے کے لیے جب عمران خان نے سیاسی میدان میں قد م رکھا تو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے انہیں خوش آمدید کہا۔

کپتان سے وزیر اعظم تک

حادثہ

2013ء کے انتخابات گیارہ مئی کو منقعد ہوئے تھے۔ تاہم عمران خان سات مئی کو اس وقت ایک لفٹر سے گر کر زخمی ہو گئے تھے، جب انہیں لاہور میں ہونے والے ایک جلسے سے خطاب کے لیے اسٹیج پر لے جایا جا رہا تھا۔

کپتان سے وزیر اعظم تک

’امید‘

کہا جاتا ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت اپنے عروج پر تھی تاہم عمران خان کی جماعت 27 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ مسلم لیگ نون کی حکومت قائم ہوئی اور عمران خان نے حکمران جماعت پر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔

کپتان سے وزیر اعظم تک

’میں اسپورٹس مین ہوں‘

2008ء اور 2013ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف اپنی توقعات کے مطابق ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی تھی۔ اس موقع پر جب بھی عمران خان سے پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے سوال کیا جاتا تو وہ اکثر کہتے تھےکہ انہوں نے زندگی بھر کرکٹ کھیلی ہے۔ وہ ایک اسپورٹس مین ہیں اور شکست سے گھبراتے نہیں ہیں۔

کپتان سے وزیر اعظم تک

جلسے جلوس

عمران خان نے حالیہ انتخابات سے قبل ملک بھر میں جلسے کیے۔ مبصرین کی رائے تحریک انصاف کے ان جلسوں نے حامیوں کو متحرک کرنے اہم کردار ادا کیا۔

کپتان سے وزیر اعظم تک

عمران خان وزیر اعظم منتخب

عمران خان کی جماعت نے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں اکثریتی ووٹ حاصل کیے تھے۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف اتنے ووٹ حاصل نہیں کر پائی تھی کہ وہ سیاسی جماعتوں سے اتحاد کے بغیر حکومت قائم کر سکے۔ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے عمران خان کا مقابلہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف سے تھا۔ عمران خان کو 176جبکہ شہباز شریف کو 96 ووٹ ملے۔


سیاست دانوں کے خیال میں حکومت تلخ سوالات سے پریشان ہے۔ اسی لیے اس نے میڈیا اور اپوزیشن کے سیاست دانوں کو سعودی ولی عہد کے دورے سے دور رکھا ہے۔ کچھ سیاست دانوں کو گوادر اور بلوچستان میں سعودی سرمایہ کاری پر بھی شدید تحفظات ہیں۔ نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر حاصل بزنجو اس پر کھلے عام تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ بلوچستان کے پختون علاقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں بھی نہ صرف اس سرمایہ کاری پر خدشات کا اظہار کر رہی ہیں بلکہ وہ اس دورے پر بھی کئی سوالات اٹھا رہی ہیں۔

ان سیاسی جماعتوں کے خیال میں اگر انہیں سعودی ولی عہد کے اعزاز میں کسی پروگرام میں بلایا جاتا، تو وہ ان سوالات کو حکومت اور سعودی مہمان کے سامنے ضرور اٹھاتیں۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی ساری جماعتیں نہیں، بلکہ کچھ جماعتیں سعودی ولی عہد کی تقریبات کے دوران سخت سوالات کر سکتی تھیں۔ ’’مثال کے طور پر یہ جماعتیں یہ واضح کر سکتی تھیں کہ پاکستان یمن یا ایران کے خلاف کسی بھی تنازعے کا حصہ نہیں بنے گا۔ وہ گوادر میں ہونے والی سرمایہ کاری پر بھی سوالات اٹھاتیں اور خطے کی صورت حال کو بھی زیرِ بحث لاتیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب پاکستان میں زرعی زمین خریدنا چاہتا ہے۔ حکومت کو خطرہ تھا کہ یہ جماعتیں اس حوالے سے بھی سوالات اٹھاتیں۔ تو ہمارے خیال میں صرف ملازمین کو اس میں دعوت دی گئی ہے اور ہماری جماعت ملاز م نہیں ہے۔ ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمیں کرائے کے سپاہی نہیں بننا چاہیے بلکہ اپنے مفادات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔‘‘

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

کیا ہوا میں تحلیل ہو گئے؟

دو اکتوبر: سعودی عرب کے اہم صحافی جمال خاشقجی استنبول میں اپنے ملکی قونصل خانے گئے اور پھر واپس نہیں آئے۔ وہ اپنی شادی کے سلسلے میں چند ضروری کاغذات لینے قونصلیٹ گئے تھے۔ اُن کی ترک منگیتر خدیجہ چنگیز قونصل خانے کے باہر اُن کا انتظار کرتی رہیں اور وہ لوٹ کے نہیں آئے۔

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

قونصل خانے میں موجودگی کے بارے میں معلومات نہیں

تین اکتوبر: ترک اور سعودی حکام نے جمال خاشقجی کے حوالے سے متضاد بیانات دیے۔ سعودی دارالحکومت ریاض سے کہا گیا کہ صحافی خاشقجی اپنے کام کی تکمیل کے بعد قونصل خانے سے رخصت ہو گئے تھے۔ ترک صدر کے ترجمان نے اصرار کیا کہ وہ قونصل خانے کی عمارت کے اندر ہی موجود ہیں۔

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

قتل کے دعوے

چھ اکتوبر: ترک حکام نے کہا کہ اس کا قوی امکان ہے کہ جمال خاشقجی کو قونصل خانے میں ہلاک کر دیا گیا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ترک تفتیش کار ایک پندرہ رکنی سعودی ٹیم کی ترکی آمد کا کھوج لگانے میں مصروف ہے۔ یہی ٹیم قونصل خانے میں قتل کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

ترک حکومت کو ثبوت درکار ہیں

آٹھ اکتوبر: ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ جمال خاشقجی کے قونصل خانے سے رخصت ہونے کے ثبوت مہیا کرے۔ اسی دوران ترکی نے سعودی قونصل خانے کی تلاشی لینے کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی مقتول صحافی کی حمایت میں بیان دیا۔

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

’صحرا میں ڈاووس‘

بارہ اکتوبر: برطانیہ کے ارب پتی رچرڈ برینسن نے خاشقجی کی ہلاکت کے بعد اپنے ورجن گروپ کے خلائی مشن میں سعودی عرب کی ایک بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کو روک دیا۔ اسی طرح انہوں نے سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شریک ہونے سے بھی انکار کر دیا۔ سعودی عرب نے اس کانفرنس کو ’صحرا میں ڈاووس‘ کا نام دیا تھا۔ رچرڈ برینسن کے بعد کئی دوسرے سرمایہ کاروں نے بھی شرکت سے معذرت کر لی تھی۔

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

سرچ آپریشن

پندرہ اکتوبر: ترک تفتیش کاروں نے استنبول کے سعودی قونصل خانے میں خاشقجی کو تلاش کرنے کا ایک آپریشن بھی کیا۔ یہ تلاش آٹھ گھنٹے سے بھی زائد جاری رکھی گئی۔ عمارت میں سے فورینزک ماہرین نے مختلف نمونے جمع کیے۔ ان میں قونصل خانے کے باغ کی مٹی اور دھاتی دروازے کے اوپر سے اٹھائے گئے نشانات بھی شامل تھے۔

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

دست بدست لڑائی کے بعد ہلاکت

انیس اکتوبر: انجام کار سعودی عرب نے تسلیم کر لیا کہ کہ قونصل خانے میں خاشقجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ سعودی مستغیث اعلیٰ کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ قونصل خانے میں دست بدست لڑائی کے دوران خاشقجی مارے گئے۔ اس تناظر میں سعودی عرب میں اٹھارہ افراد کو گرفتار کرنے کا بھی بتایا گیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس افسوس ناک اور دردناک واقعے کی تفتیش جاری ہے۔

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

’انتہائی سنگین غلطی‘

اکیس اکتوبر: جمال خاشقجی کی ہلاکت کے حوالے سے سعودی موقف میں ایک اور تبدیلی رونما ہوئی۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے قونصل خانے میں صحافی کی ہلاکت کو ’شیطانی آپریشن‘ کا شاخسانہ قرار دیا۔ انہوں نے اس سارے عمل کو ایک بڑی غلطی سے بھی تعبیر کیا۔ الجبیر نے مزید کہا کہ سعودی ولی عہد اس قتل سے پوری طرح بے خبر تھے۔ انہوں نے خاشقجی کی لاش کے حوالے سے بھی لاعلمی ظاہر کی۔

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

جرمنی نے ہتھیاروں کی فراہمی روک دی

اکیس اکتوبر: جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جمال خاشقجی کی ہلاکت کے تناظر میں سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی معطل کر دی۔ سعودی عرب کو ہتھیار اور اسلحے کی فروخت میں جرمنی کو چوتھی پوزیشن حاصل ہے۔ بقیہ ممالک میں امریکا، برطانیہ اور فرانس ہیں۔

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

گلا گھونٹا گیا اور پھر تیزاب میں تحلیل کر دیا

اکتیس اکتوبر: ترک پراسیکیوٹر نے اپنی تفتیش مکمل کرنے کے بعد بتایا کہ سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے کچھ ہی دیر بعد جمال خاشقجی کو پہلے گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا اور پھر اُن کے جسم کو تیزاب میں تحلیل کر دیا گیا۔ ترک صدر نے اس حوالے سے یہ بھی کہا کہ خاشقجی کو ہلاک کرنے کا حکم سعودی حکومت کے انتہائی اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

اقوام متحدہ میں سعودی عرب پر تنقید

اقوام متحدہ میں جمال خاشقجی کے قتل کی گونج سنی گئی اور کئی رکن ریاستوں نے تشویش کا اظہار کیا۔ عالمی ادارے کو سعودی حکومت نے بتایا کہ خاشقجی کے قتل کی تفتیش جاری ہے اور ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔ سعودی حکومت کا یہ موقف اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں امریکا سمیت کئی ممالک کی جانب سے شفاف تفتیش کے مطالبے کے بعد سامنے آیا۔

جمال خاشقجی: پراسرار انداز میں گمشدگی اور ہلاکت

Fiancee in mourning

خاشقجی کی منگیتر کا غم آٹھ نومبر: مقتول صحافی جمال خاشقجی کی ترک منگیتر خدیجہ چنگیر نے ٹویٹ میں کہا کہ وہ اس غم کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ خاشقجی کی لاش کو تیزاب میں ڈال کر ختم کر دیا گیا۔ خدیجہ چنگیر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ قاتل اور اس قتل کے پس پردہ لوگ کیا واقعی انسان ہیں؟

موضوعات

ہمیں فالو کیجیے