سمارٹ فون: چودہ برس سے کم عمر بچوں پر پابندی کی تجویز

جرمنی میں انٹرنیٹ کی ماہر ایک خاتون کہا ہے کہ چودہ برس سے کم عمر کے بچوں کے لیے سمارٹ فون پر پابندی عائد کر دینا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ پورنو گرافی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

جرمنی میں انٹر نیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ماہرجولیا فان وئلر نے خبردار کیا ہے کہ سمارٹ فون جیسی ٹیکنالوجی کم عمر میں ہی بچوں کو پورنو گرافی تک رسائی فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چودہ برس سے کم عمر بچوں کو سمارٹ فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونا چاہیے۔

جرمن حکومت کی مشیر فان وئلر کے مطابق کم عمر بچوں میں سمارٹ فون کا استعمال ایسے راستے فراہم کر سکتا ہے، جن کے باعث وہ فحش فلموں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم عمری میں ایسے مواد تک رسائی بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

جولیا فان وئلر نے فنکے میڈیا گروپ سے گفتگو میں کہا کہ ایسی معلومات میسر ہیں کہ نو برس سے کم عمر کے بچوں نے پورنو گرافی دیکھی اور ان کے مابین ایسی ویڈیوز شیئر کی گئیں ، جن میں کچھ مشت زنی بھی کر رہے تھے۔

انٹر نیٹ ماہر فان وئلر نے مزید کہ جیسے بچوں کو الکوحل اور منشیات سے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے، ویسے ہی ان کم عمر کے بچوں کو سمارٹ فون سے بھی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق حالیہ عرصے میں بچوں سے متعلق ایسے جرائم کی شرح میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ برلن میں وفاقی مجرمانہ تفتیش کار کے دفتر سے منسلک یوڈیتھ ڈوبرو نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ کچھ برسوں کے مقابلے میں ایسے کیسوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی کیسوں کی چھان بین کے سلسلے میں پولیس اہلکار آئے روز اسکول جاتے رہتے ہیں، ’’اب ہر بچے کے پاس سمارٹ فون ہے۔ ملزم کم عمر سے کم عمر ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘

جرمن حکومت کے خصوصی اہلکار یوہانس ویلہلم رورِنگ نے کہا ہے کہ اس معاملے کو باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے اور ان مسائل کے حل کی خاطر جلد ہی کوئی حکمت عملی بنا لی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمارٹ فون استعمال کرنے کی ایک عمر کا تعین کیا جا سکتا ہے تاہم اس سے بچوں کو انٹر نیٹ پر ہونے والے جرائم سے مکمل طور پر نہیں بچایا جا سکتا۔

اسمارٹ فونز کا حیران کن عروج

متاثر کُن اور حیران کُن

یہ دنیا کے پہلے اسمارٹ فون کی تصویر ہے۔ نوکیا 9000 کمیونیکیٹر میں ایک پرسنل کمپیوٹر کے فیچرز موجود تھے۔ اس کے علاوہ اس میں آفس سافٹ ویئر، ویب براؤزر اور فیکس فنکشن بھی موجود تھا۔ اس کی فروخت 15 اگست 1996ء کو شروع ہوئی۔ امریکی مارکیٹ میں اس کی کم از کم قیمت 800 ڈالرز تھی۔

اسمارٹ فونز کا حیران کن عروج

ہلکا پھُلکا مگر طاقتور

موجودہ دور کے اسمارٹ فون ابتدائی شکل سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ مگر اس حقیقت کا کہ ان کا وزن اسمارٹ فونز کے ابتدائی ماڈلز سے کہیں کم ہے، یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ صلاحیت کے حوالے سے یہ کم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور کے اسمارٹ فونز کی کمپیوٹنگ صلاحیت اُن کمپیوٹرز سے بھی کہیں زیادہ ہے جو اپالو 11 نامی امریکی خلائی جہاز کو چاند کی سطح پر اُتارنے کے لیے استعمال ہوئے۔

اسمارٹ فونز کا حیران کن عروج

غیر متوقع اثرات

اسمارٹ فونز کے لیے ایسی بے شمار ایپلیکیشنز دستیاب ہیں جو استعمال کنندگان کی دلچسپی اور ضروریات پر پورا اترتی ہیں تاہم بعض ایسے پروگرام بھی ان میں شامل ہوتے ہیں جو حکام کے لیے انتہائی فائدہ مند ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر انڈونیشیا کے حکام ڈونیشن کے طور پر دیے گئے ایسے اسمارٹ فونز کا استعمال کر رہے ہیں جو غیر قانونی طور پر لاگ اِن ہو کر اپنے ارد گرد کی آوازیں حکام تک پہنچاتے ہیں۔

اسمارٹ فونز کا حیران کن عروج

فون موسم کا حال بتانے والا ماہر بھی

نیٹ ورکنگ گروپ ’اوپن سگنل‘ کے محققین کے مطابق اینڈرائڈ سسٹم کے حامل اسمارٹ فونز میں بیٹری کا درجہ حرارت، بجلی کے استعمال اور دباؤ جانچنے کے لیے نصب سینسرز دراصل موسم کی بالکل درست صورتحال بتانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

اسمارٹ فونز کا حیران کن عروج

پیشاب سے اسمارٹ فون کے لیے پاور

برطانوی سائنسدانوں نے ایک ایسا فیول سیل تیار کیا ہے جو موبائل فون چارج کرنے کے لیے انسانی پیشاب سے بجلی پیدا کرتا ہے۔ 600 ملی لٹر پیشاب سے اس قدر بجلی حاصل ہوتی ہے جو اسمارٹ فون پر تین گھنٹے دورانیے کی کالز سننے کے لیے کافی ہے۔ اس فیول سیل میں بیکٹیریا اس مائع کو بجلی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

اسمارٹ فونز کا حیران کن عروج

رومنگ چارجز

امریکی ریاست فلوریڈا کی رہائشی سیلن آرنز قریب دو برس قبل اُس وقت میڈیا ہیڈلائنز کا حصہ بن گئیں جب انہیں اسمارٹ فون استعمال کرنے کا اب تک کا سب سے زیادہ بِل موصول ہوا۔ کینیڈا میں چھٹیاں گزارنے کے دوران ایس ایم ایس پیغامات کی بھرمار کے باعث انہیں 201,000 ڈالرز ادا کرنا تھے۔ کیا آپ نے آج تک اتنے زیادہ رومنگ چارجز کے بارے میں کبھی سنا ہے؟

اسمارٹ فونز کا حیران کن عروج

ناقابل یقین کامیابی

دنیا میں اِس وقت قریب 1.9 بلین اسمارٹ فون صارفین موجود ہیں اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں پوری دنیا میں 349 ملین نئے اسمارٹ فون فروخت ہوئے۔ 2015ء میں اسی عرصے کے مقابلے میں یہ فروخت 15 فیصد زائد ہے۔ سب سے زیادہ فروخت ہونے والا فون سام سنگ کا گلیکسی S7 تھا جبکہ ایپل کمپنی کا آئی فون 6S اور 6S پلس کی فروخت کم فرق کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔

ہمیں فالو کیجیے