1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سوات میں آٹھ لاکھ متاثرین حکومتی امداد کے منتظر

9 اگست 2010

مون سون بارشوں کے دوسرے سلسلے کی وجہ سے صوبہ خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بند کردی گئی ہیں۔

https://p.dw.com/p/OfTt
پاکستان کے سوئٹزرلینڈ، وادئی سوات میں سیلاب کی تباہکاریوں کے شکار لاکھوں افراد امداد کی راہ تک رہے ہیںتصویر: AP

ملاکنڈ ڈویژن باالخصوص کالام ، بحرین ، مدین ، شانگلہ ، کوہستان اور چترال کا ملک کے دیگر علاقوں سے رابطے منقطع ہوگئے ہیں۔ سوات میں چودہ دن سے بجلی ، گیس معطل ہے جبکہ آٹھ لاکھ لوگ بے سرو سامانی کے عالم میں پناہ گزینوں کی سی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے پاس اشیاء خوردونوش اورادویات کی قلت ہے کالام اوربحرین میں 120سے زیادہ بڑے ہوٹل اور ہزاروں گھر دریا بُرد ہوچکے ہیں حکومتی امداد نہ ہونے کی وجہ سے عوام اپنی مدد آپ کے تحت عارضی پل بناتے ہیں اور گھروں میں موجود کھانا اورادویات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں آج بھی لاکھوں لوگ حکومتی اور بین الاقوامی امداد کے منتظر ہیں تاہم امداد پہنچانے کیلئے ہیلی کاپٹر سروس چوتھے روز بھی بند رہی جبکہ دریائے سوات میں اونچے درجے کے سیلاب کی وجہ سے کشتی سروس بھی معطل رہی ۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie
امدادی کاروائیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیںتصویر: AP

تاہم صوبائی حکومت کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے ” ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو نکالنا مشکل ہے اس لیے عارضی رابطہ پل تیزی سے بنارہے ہیں عدنان خان کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریلیف کا کام جاری ہے میادم سے لیکر چک درہ تک سترہ پل تباہ ہوئے ہیں جسکی وجہ سے سوات دوحصوں میں تقسیم ہے ان پلوں کی وجہ سے دیر اور چترال سے ہمارارابطہ ممکن نہیں ہوسکا فی الحال عارضی پل بنایا گیا ہے جس پر لوگ پیدل جاسکتے ہیں بحالی کا کام پھر سے بارشوں کی وجہ سے متاثر ہواہے اب تک سترہ کے قریب ٹرکوں میں متبادل روٹ کے ذریعے سامان پہنچا یا گیا ہے ہم ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی امداد پہنچارہے ہیں جو ہیلی کاپٹر سامان اتار کرآتے ہیں وہ اپنے ساتھ چند لوگوں کو بچا کر محفوظ مقامات تک پہنچاتے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ یا مٹی کے تودے گرنے سے متاثرہ علاقوں میں سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ وہاں آمد و رفت کو ممکن بنانے کے لئے تیزی سے کام شروع کیا ہے تاکہ روڈ کے ذریعے لوگوں تک امداد پہنچائی جائے اور انکو نکالاجاسکے کیونکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاکھوں پھنسے افراد کو نہیں نکالاجاسکتا “۔

Überschwemmung in Pakistan
نوشہرہ کے ایک گاؤں کے مکین بقاء کی تلاش میںتصویر: ap

دارالحکومت پشاورسمیت صوبہ بھر میں گزشتہ چاردنوں سے جاری بارش نے مزید تباہی مچائی ہے جبکہ کھلے آسمان تلے خیموں اور سکولوں میں رہائش پذیر متاثرین کے مسائل میں مزید اضافہ ہواہے سیلاب نے جہاں صوبہ بھر میں تباہی مچائی ہے وہاں محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سوات سمیت پشاور، نوشہرہ ، چارسدہ ، شانگلہ ، کوہاٹ ، بنوں اورجنوبی اضلاع میں مزید بارشوں کا امکان ہے اس بارش سے جہاں مزید علاقے زیر آب آئیں گے وہاں پہلے سے سیلاب میں گھرے متاثرین کے مسائل میں اضافہ ہو گا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ایک کروڑ 30 لاکھ انسان متاثر ہوئے ہیں یہ تعداد سونامی اور 2005ء کے زلزلے سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ: فریداللہ خان

ادارت: کشور مصطفیٰ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں