1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شَین ژُو گیارہ: خلا میں چین کے طویل ترین انسانی مشن کا آغاز

مقبول ملک
17 اکتوبر 2016

چین نے خلا میں اپنے آج تک کے طویل ترین انسانی مشن کا آغاز کر دیا ہے۔ دو چینی خلا بازوں کو لے کر شَین ژُو گیارہ نامی خلائی جہاز پیر سترہ اکتوبر کو صحرائے گوبی میں ایک خلائی اسٹیشن سے اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔

https://p.dw.com/p/2RIso
China startet Shenzhou-11 Raumfahrzeug
شَین ژُو گیارہ کی خلا میں اپنے مشن پر روانگی کا منظرتصویر: Picture-Alliance/dpa/H. H. Young

شنگھائی سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یہ مشن چین کا خلا میں آج تک کا طویل ترین انسانی مشن ہے، جس دوران دو خلا باز زمین کے مدار میں سفر کرتے ہوئے ایک خلائی تجربہ گاہ میں ایک ماہ تک قیام کریں گے۔

شَین ژُو گیارہ نامی خلائی جہاز کی اس کے اس مشن پر روانگی بیجنگ کے اس بہت بڑے اور وسیع تر خلائی پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت چین 2022ء تک خلا میں اپنا ایک ایسا دیرپا خلائی اسٹیشن قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں مستقل بنیادوں پر چینی خلا باز مقیم رہیں گے۔

چین کے سرکاری ٹیلی وژن پر شَین ژُو گیارہ کی اس کے مشن پر روانگی کے مناظر براہ راست دکھائے گئے۔ یہ خلائی مشن صحرائے گوبی میں جِیُو چُوآن نامی خلائی مرکز سے مقامی وقت کے مطابق پیر 17 اکتوبر کی صبح سات بج کر 30 منٹ پر ایک ایسے راکٹ کے ساتھ اپنے سفر پر روانہ ہوا، جسے ’لانگ مارچ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

اس مشن کے ساتھ جانے والے دونوں چینی خلا باز خلا میں ’تیان گونگ دوئم‘ نامی اس خلائی لیبارٹری کے ساتھ جڑ جائیں گے، جسے بیجنگ نے گزشتہ مہینے ہی خلا میں بھیجا تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ مشن اپنے دورانیے کی مناسبت سے چین کی طرف سے آج تک خلا میں قیام کرنے والا طویل ترین انسانی مشن ہو گا۔

China Shenzhou 11 Astronaute
اس مشن کے دوران دو چینی خلا باز ایک ماہ تک زمین کے مدار میں ایک چینی خلائی تجربہ گاہ میں قیام کریں گےتصویر: Picture-Alliance/dpa/H. H. Young

سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کے مطابق خلا میں بھیجے جانے والے ان دو چینی خلا بازوں کے نام جِنگ ہائی پَینگ اور چَین ڈونگ ہیں، جن سے ان کی روانگی سے قبل پیر کو صبح سویرے ملکی خلائی پروگرام کے نگران طاقت ور ادارے سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب سربراہ فان چانگ لانگ نے خاص طور پر ملاقات بھی کی۔

اس موقع پر فان چانگ لانگ نے ان خلا بازوں سے کہا، ’’آپ اس لیے خلا میں اس سفر پر روانہ ہو رہے ہیں کہ چینی قوم کے خلائی سفر سے متعلق خواب کو حقیقت بنایا جا سکے۔ آپ کو ایک مشکل لیکن شاندار ذمے داری سونپی گئی ہے اور چینی قوم کو یقین ہے کہ آپ سرخرو ہو کر واپس لوٹیں گے۔‘‘

روئٹرز کے مطابق اس مشن پر جو خلا باز بھیجے گئے ہیں، ان میں سے شَین ژُو گیارہ جِنگ ہائی پَینگ نامی خلا باز کا تیسرا خلائی سفر ہے۔ وہ اس مشن کے دوران اس دو رکنی ٹیم کی قیادت بھی کریں گے اور اپنی 50 ویں سالگرہ اس مشن کے دوران خلا ہی میں منائیں گے۔

China Model des Raumlabor Tiangong 2
چینی خلائی تجربہ گاہ ’تیان گونگ دوئم‘ کا ایک ماڈلتصویر: picture-alliance/dpa/W. Hong

پیر سترہ اکتوبر کو روانہ ہونے والے اس نئے چینی خلائی مشن سے قبل بیجنگ کا طویل ترین انسانی خلائی مشن 2013ء میں مکمل کیا گیا تھا، جب تین خلا بازوں نے ’تیان گونگ اول‘ نامی خلائی تجربہ گاہ میں مجموعی طور پر 15 روز تک قیام کیا تھا۔

چین میں جب سے صدر شی جن پنگ اقتدار میں آئے ہیں، بیجنگ اپنے خلائی پروگرام پر خصوصی توجہ دے رہا ہے کیونکہ شی جن پنگ کی خواہش ہے کہ چین جلد از جلد ایک خلائی طاقت کے طور پر اپنی حیثیت کو مستحکم  بنائے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں