1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عرب ملکوں کی ترقی اور غیرملکی مزدُور

23 اگست 2009

خلیجی عرب ریاستوں میں انتہائی کم اجرتوں پر سخت محنت اور مشقت کے کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کی تعداد ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔

https://p.dw.com/p/JGf6
دبئی: بلندوبالا عمارتوں میں غریب ملکوں کے مزدوروں کا خون پسینہ بھیتصویر: picture-alliance/ ZB

گزشتہ کئی برسوں سے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارہء محنت اِن کارکنوں کے غیر انسانی حالات کو اکثر ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔ کویت اور بحرین میں غیر ملکی کارکنوں کے لئے زیادہ حقوق کے اعلانات سے یہ اُمید پیدا ہوئی ہے کہ شاید جدید دَور کی یہ غلامی جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے۔

خلیجی عرب ملکوں میں لاکھوں کی تعداد میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکن نہ ہوتے تو شاید نہ ہی دبئی کے ناریل کے پیڑ کی شکل کے جزائر ہوتے اور نہ ہی قطر کے چمکتے دمکتے مینار۔

اُن کے کام کا اجازت نامہ اُن کے آجر کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ کہیں اور کام کرنے کے خواہاں غیر ملکی کارکن کو اپنے آجر یا کفیل کا اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔ تنظیم ہیومین رائٹس واچ کی سارا لی وِٹسن کے مطابق آجر کے برے سلوک کا نشانہ بننے والا شکایت تو کر سکتا ہے لیکن اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر ہی:’’اِس کے نتیجے میں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ملازمت سے بلکہ ملک میں قیام کے حق سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ چونکہ ویزہ آجر کے ساتھ منسلک ہوتا ہے، اِس لئے غیر ملکی کارکن کو آزادانہ نقل و حرکت کی یا ملازمت بدلنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔‘‘

Bahrain - Skyline der Hauptstadt Manama
غیرملکیوں کو ملازمتیں دینے والے اداروں سے فیس کی صورت جمع ہونے والی رقم بحرین میں مقامی آبادی کی پیشہ ورانہ تربیت پر خرچ کی جائے گیتصویر: picture-alliance/dpa

چھوٹی سی خلیجی ریاست بحرین کے وزیر محنت اِس صورتحال کو غلامی کی ایک شکل سے تعبیر کرتے ہیں اور اِسے بدلنا چاہتے ہیں۔ رواں مہینے کے آغاز سے بحرین میں رائج نئے قانون کے مطابق غیر ملکی کارکن جہاں چاہیں، کام کر سکتے ہیں۔ اب اُنہیں ملازمت کی جگہ کی تبدیلی کے لئے اپنے پرانے مالک کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ دبئی اسکول آف گورنمنٹ کے طارِق یوسف اِس حوالے سے کہتے ہیں:’’یہ بات باعث تعجب نہیں ہے کہ بحرین اِس کام میں پہل کر رہا ہے۔ تمام خلیجی ریاستوں میں سے بحرین سیاسی طور پر سب سے روشن خیال ملک ہے، جہاں پریس آزاد ہے اور جہاں ایک ایسی پارلیمان ہے، جو باقاعدہ کام کر رہی ہے، جس کے پاس کچھ کہنے کے اختیارات ہیں اور جو باہر سے ظاہر کئے جانے والے نقطہء نظر کو کھلے دل سے سنتی ہے۔‘‘

بحرین میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے اور یوں بحرین کی مجموعی آبادی کے تقریباً نصف کے برابر ہے۔ خلیجی عرب ریاستوں کےکفالہ کہلانے والے اِس نظام کو دنیا بھر کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ بحرین کے فرمانروا زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی قوانین کو اپنانے کے خواہاں ہیں اور یہی کچھ وہ لیبر قوانین کے سلسلے میں کرنا چاہتے ہیں۔ اِس لئے بھی تاکہ بڑھتی ہوئی بیروزگاری کا خاتمہ کر سکیں۔

اس مسئلے سے سبھی خلیجی ریاستیں دوچار ہیں۔ زیادہ تر ملازمتیں پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہوئے مہمان کارکنوں کے پاس ہیں لیکن مقامی باشندے جانتے ہیں کہ اِن ملازمتوں کی اُجرتیں بے انتہا کم ہیں، اِس لئے وہ روزگار کے اِن مواقع میں بالکل دلچسپی نہیں لیتے۔ جہاں تک بہتر ملازمتوں کا تعلق ہے، وہ مغربی دُنیا سے جانے والے اُن باشندوں کو مل جاتی ہیں، جو زیادہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ چنانچہ بحرین میں اب رائج کئے گئے قانون کے تحت غیر ملکیوں کو ملازمت پر رکھنے والے ہر ادارے کو ابھی سے ایک فیس ادا کرنا ہو گی۔

Formel 1 Rennstrecke in Bahrain
خلیجِ فارس کی تیل کی دولت سے مالا مال عرب ریاستوں کی معیشتوں میں غیر ملکی کارکن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیںتصویر: AP

سیاسی امور کے ماہر طارق یوسف کے مطابق آجرین کی طرف سے بہت زیادہ مزاحمت ہو رہی ہے: ’’ وہ اِس صورتحال سے بہت ناخوش ہیں کیونکہ اب اُنہیں اجرتوں کے مقابلے میں مقابلہ بازی کا سامنا ہو گا۔ اب ملازمین کو اپنے ہاں رکھنے کے لئے اُنہیں کچھ اور سوچنا ہو گا۔ ملازمت کی تبدیلی کی اجازت نہ دینے کے طریقے سے اب کام نہیں چلے گا۔ ایسے میں میرا خیال ہے کہ روزگار کی منڈی زیادہ متحرک ہو گی اور زیادہ بہتر نتائج حاصل ہو سکیں گے۔‘‘

کچھ ہی عرصہ پہلے کویت نے بھی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ متعلقہ وزیر کا کہنا ہے کہ ملک میں دو سال تک کام کرنے والا کوئی بھی کارکن اپنی مرضی سے اپنی ملازمت تبدیل کر سکتا ہے۔ اب اُمید کی جا رہی ہے کہ دیگر خلیجی ریاستیں بھی اِسی طرح کے اقدامات کریں گی۔ کہا جا رہا ہے کہ اِس سلسلے میں اگلا قدم متحدہ عرب اَمارات کی جانب سے متوقع ہے، جہاں آج کل تمام تر امکانات پر غور ہو رہا ہے۔ متحدہ عرب اَمارات کی طرف سے کسی اقدام کی صورت میں اومان اور شاید قطر میں بھی اِس حوالے سے پیشرفت ہو گی۔

رپورٹ: کارسٹن کیوہن ٹَوپ/ امجد علی

ادارت: ندیم گِل