عمران اور مودی کی دوطرفہ فضائی کارروائیوں کے بعد پہلی گفتگو

رواں سال فروری ميں دوطرفہ فضائی کارروائیوں کے بعد پاکستانی وزير اعظم عمران خان اور ان کے بھارتی ہم منصب نريندر مودی نے پہلی مرتبہ براہ راست گفتگو کی ہے۔ اس بات چيت ميں خان نے مودی کو اليکشن جيتنے پر مبارک باد پيش کی۔

پاکستانی وزير اعظم عمران خان نے نريندر مودی کو دوسری مدت کے ليے بھارتی وزير اعظم چنے جانے پر مبارک باد پيش کی۔ دونوں رہنماؤں کے مابين ٹيلی فونک گفتگو اتوار چھبيس مئی کے روز ہوئی۔ رواں سال فروری ميں دوطرفہ فضائی کارروائیوں کے بعد ايٹمی قوت کی حامل حريف رياستوں کے وزرائے اعظم کے مابين پہلی براہ راست بات چيت کی تصديق دونوں ممالک کی وزارت خارجہ نے کر دی ہے۔ اس بارے ميں جاری کردہ اپنے بيان ميں پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ وزير اعظم خان نے مودی سے بات کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے عوام کی بہتری کے ليے مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس بيان کے مطابق جنوبی ايشيا ميں امن، استحکام اور ترقی کے ليے عمران خان مودی کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہيں۔

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بيان ميں لکھا ہے کہ مودی نے خطے ميں امن، استحکام و ترقی کے ليے تعاون بڑھانے ميں اعتماد سازی سميت تشدد و دہشت گردی سے محفوظ ماحول بنانے کی ضرورت  پر زور ديا۔

رواں سال فروری ميں بھارتی زير انتظام کشمير ميں ايک خود کش بم دھماکے ميں بھارتی نيم فوجی دستوں کے چاليس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری ايک ايسے جنگجو گروپ نے تسليم کی تھی، جو پاکستان ميں فعال ہے۔ اس پيش رفت کے بعد دونوں ممالک ميں کشيدگی کافی بڑھ گئی تھی۔ بھارت نے پاکستانی حدود ميں جيش محمد کے ايک بڑے مبينہ ٹھکانے پر فضائی حملوں کا دعوی کيا تو پاکستان نے ايک کارروائی ميں ايک بھارتی لڑاکا طيارہ مار گرايا۔

بھارت ميں حال ہی ميں منعقدہ لوک سبھا کے انتخابات ميں نريندر مودی فاتح رہے۔ انہيں اس بار پچھلی مرتبہ سے بھی زيادہ سيٹيں مليں۔ انتخابات سے قبل اپنی انتخابی مہم ميں مودی نے پاکستان کے خلاف سخت رويہ اپنائے رکھا، جو سياسی تجزيہ کاروں کے خيال ميں اس بہتر کارکردگی کی ايک وجہ ہے۔ عمران خان اور نريندر مودی کے مابين آخری مرتبہ ٹيلی فونک گفتگو پچھلے سال اس وقت ہوئی تھی جب انتخابات ميں کاميابی پر مودی نے خان کو مبارک باد دی تھی۔

بھارت میں مودی کی جیت کا جشن

ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ 542 سیٹوں میں سے 283 پارلیمانی سیٹوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار سبقت لیے ہوئے ہیں۔

بھارت میں مودی کی جیت کا جشن

اپوزیشن کی کانگریس جماعت کو صرف 51 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے۔ یہ غیر حتمی اور ابتدائی نتائج ہیں لیکن اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو نریندر مودی کی جماعت واضح برتری سے جیت جائے گی۔

بھارت میں مودی کی جیت کا جشن

بی جے پی کو اکثریتی حکومت سازی کے لیے 272 سیٹوں کی ضرورت ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ جماعت بغیر کسی دوسری سیاسی جماعت کی حمایت کے حکومت سازی کرے گی۔

بھارت میں مودی کی جیت کا جشن

ابتدائی غیرحتمی نتائج کے مطابق بی جے پی کی اتحادی سیاسی جماعتیں بھی تقریبا 50 سیٹیں حاصل کر سکتی ہیں اور اس طرح نریندر مودی کی جماعت کے ہاتھ میں تقریبا 330 سیٹیں آ جائیں گی۔

بھارت میں مودی کی جیت کا جشن

اعداد وشمار کے مطابق دنیا کے ان مہنگے ترین انتخابات میں ریکارڈ چھ سو ملین ووٹ ڈالے گئے جبکہ ماہرین کے مطابق ان انتخابات کے انعقاد پر سات بلین ڈالر سے زائد رقم خرچ ہوئی ہے۔

بھارت میں مودی کی جیت کا جشن

بھارت میں ان تمام تر ووٹوں کی گنتی آج تئیس مئی کو مکمل کر لی جائے گی۔

بھارت میں مودی کی جیت کا جشن

بھارت سے موصول ہونے والے ابتدائی غیرحتمی نتائج انتہائی ناقابل اعتبار بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ سن 2004ء کے ابتدائی خیر حتمی نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت کی خبریں سامنے آئی تھیں لیکن حتمی نتائج سامنے آنے پر کانگریس جیت گئی تھی۔

بھارت میں مودی کی جیت کا جشن

دریں اثناء اپوزیشن کانگریس کے ایک علاقائی لیڈر نے ان انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم کر لیا ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کا انڈیا ٹوڈے نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم جنگ ہار گئے ہیں۔‘‘

بھارت میں مودی کی جیت کا جشن

دوسری جانب کانگریس پارٹی کے راہول گاندھی نے بدھ کے روز ان ابتدائی نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ اڑتالیس سالہ گاندھی کا اپنے حامیوں سے ٹویٹر پر کہنا تھا، ’’جعلی ابتدائی نتائج کے پروپیگنڈا سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

بھارت میں مودی کی جیت کا جشن

ابتدائی نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ راہول گاندھی کو ریاست اترپردیش میں امیٹھی کی آبائی حلقے میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی نسلوں سے گاندھی خاندان اس حلقے سے منتخب ہوتا آیا ہے۔

ع س / ع ت، نيوز ايجنسياں

ہمیں فالو کیجیے