معاشرہ

دستک

مس یونیورس 2018 کا تاج پہنا فلپائن کی ’حسینہ‘ نے

مس فلپائن بنی مس یونیورس

کیتریونا گرے کو مس یونیورس 2018 کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ گرے کی والدہ فلپائن سے تعلق رکھی ہیں جبکہ ان کے والد آسٹریلین ہیں۔ چوبیس سالہ سنگر اور ماڈل گرے نے کہا کہ انہوں نے اس تقریب میں سرخ لباس اس لیے زیب تن کیا، کیونکہ یہ ان کی والدہ کی خواہش تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے یہ خواہش اس وقت ظاہر کی تھی، جب وہ صرف تیرہ برس کی تھیں۔

مس یونیورس 2018 کا تاج پہنا فلپائن کی ’حسینہ‘ نے

فرسٹ رنر اپ: جنوبی افریقہ کی ٹیمارین گرین

اس مرتبہ مس یونیورس کے ٹائٹل کے لیے ٹیمارین گرین کو فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا۔ کیپ ٹاؤں سے تعلق رکھنے والی چوبیس سالہ گرین میڈکل کی طالبہ ہیں۔ وہ ماضی میں تب دق کی مریضہ تھیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس اعزاز کو اس بیماری سے متعلق آگاہی کے لیے استعمال کریں گی۔

مس یونیورس 2018 کا تاج پہنا فلپائن کی ’حسینہ‘ نے

سکینڈ رنر اپ: وینزویلا کی اسٹیفنی گوٹریز

بنکاک میں ہوئے اس مقابلہ حسن میں انیس سالہ اسٹیفنی گوٹریز کو دوسرے رنر اپ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ انہوں نے اس مقابلے کے ججز کو بتایا کہ وہ وینزویلا کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور ان گھر میں کام کرنے والی صرف خواتین ہی ہیں۔ گوٹریز نے سن دو ہزار سترہ میں مس وینزویلا کا ٹائٹل جیتا تھا۔ تیرہ دسمبر سن انیس سو اٹھارہ کو انہوں نے ’خوبصورتی کا یہ تاج اپنی ہم وطن ازیبیلا روڈریگوز کے سپرد کیا تھا۔

مس یونیورس 2018 کا تاج پہنا فلپائن کی ’حسینہ‘ نے

تاریخی مقابلہ: ہسپانوی امیدوار انخیلا پونس

اگرچہ انخیلا پونس بیس امیدواروں کے مابین ہونے والے حتمی مقابلے میں منتخب نہ ہو سکی تھیں لیکن اس مقابلے میں ان کی شرکت ہی ایک تاریخی موڑ قرار دی جا رہی ہے۔ وہ پہلی ٹرانس جینڈر خاتون ہیں، جنہیں مس اسپین کا اعزاز ملا۔ مس یونیورس کے فائنل راؤنڈ سے قبل بنکاک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پونس نے کہا تھا کہ ’یہاں ہونا ہی میرے لیے کافی ہے‘۔

مس یونیورس 2018 کا تاج پہنا فلپائن کی ’حسینہ‘ نے

مس جرمنی: سیلین ویلرز

پچیس سالہ سیلین ویلرز کا تعلق اشٹٹ گارٹ سے ہے۔ وہ بزنس اسٹوڈنٹ ہیں۔ سن دو ہزار اٹھارہ میں وہ مس جرمنی منتخب کی گئی تھیں۔ وہ ٹیلی وژن کے ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرتی ہیں۔ وہ آئندہ دس برسوں کے دوران وہ اپنا بزنس شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ وہ خواتین کے حقوق کی خاطر سرگرم بھی ہیں۔

آڈیو سنیے 04:00
Now live
04:00 منٹ
سیاست | 17.12.2018

ڈی ڈبلیو سے عالمی خبریں

Albanian Shqip

Amharic አማርኛ

Arabic العربية

Bengali বাংলা

Bosnian B/H/S

Bulgarian Български

Chinese (Simplified) 简

Chinese (Traditional) 繁

Croatian Hrvatski

Dari دری

English English

French Français

German Deutsch

Greek Ελληνικά

Hausa Hausa

Hindi हिन्दी

Indonesian Indonesia

Kiswahili Kiswahili

Macedonian Македонски

Pashto پښتو

Persian فارسی

Polish Polski

Portuguese Português para África

Portuguese Português do Brasil

Romanian Română

Russian Русский

Serbian Српски/Srpski

Spanish Español

Turkish Türkçe

Ukrainian Українська

Urdu اردو