1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

چین کے ستر برس: 'کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا،‘ صدر شی

1 اکتوبر 2019

عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی سترویں سالگرہ کے موقع پر فوجی پریڈ کے دوران اتنی بڑی تعداد میں اسلحے کی نمائش کی گئی، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ساتھ ہی ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز کارکن یکم اکتوبر کو سوگ منا رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/3QXgO
Peking Parade 70 Jahre Volksrepublik China
تصویر: Getty Images/K. Frayer

اسلحے کی تاریخی نمائش کے ساتھ عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی سترویں سالگرہ کی تقریبات کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر ستر توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ بیجنگ کے ابدی امن کے چوک میں ہونے والی اس بہت بڑی فوجی پریڈ میں پندرہ ہزار فوجی اہلکاروں، ایک سو ساٹھ طیاروں اور پانچ سو اسی ٹینکوں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ متعدد عسکری نظاموں کی بھی نمائش کی گئی، جن میں وہ بین البراعظمی میزائل بھی شامل تھے، جو جوہری ہتھیاروں کو ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Peking Parade 70 Jahre Volksrepublik China
تصویر: picture-alliance/AP Photo/A. Wong

سیاہ رنگ کی ایک گاڑی میں کھڑے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے فوجی پریڈ کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا،''ایسی کوئی طاقت نہیں ہے، جو اس عظیم قوم کی بنیادوں کو ہلا سکے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ایسی طاقت نہیں ہے، جو چینی عوام کی پیش رفت اور اس قوم کو آگے بڑھنے سے روک سکے۔ شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں اتحاد اور ایک اعشاریہ چار ارب چینی شہریوں کی مزید فلاح و بہبود کا وعدہ بھی کیا۔

ہانگ کانگ میں گزشتہ پانچ ماہ سے جاری مظاہروں کے تناظر میں شی جن پنگ نے چین کے اس خصوصی انتظامی علاقے میں مزید استحکام کی بات کی۔ ساتھ ہی انہوں نے تائیوان کے چین میں پرامن انضمام کی بھی وکالت کی۔ بیجنگ تائیوان کو اپنا ہی ایک حصہ قرار دیتا ہے۔ شی جن پنگ کے بقول، ''مادر وطن کے ساتھ مکمل انضمام کی کوششیں لازمی طور پر آگے بڑھنا چاہییں۔‘‘

Peking Parade 70 Jahre Volksrepublik China
تصویر: Getty Images/AFP/G. Baker

1949ء میں ماؤ زے تنگ نے چین میں ہونے والی خانہ جنگی میں فتح کے بعد بیجنگ کے ابدی امن کے چوک میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اپنے قیام کے وقت چین ایک غریب ملک تھا۔ تاہم 1980ء کی دہائی میں اصلاحات اور اپنی قدرے آزاد سیاسی پالیسیوں کے باعث چینی معیشت مستحکم ہوتی چلی گئی اور آج یہ ملک امریکا کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہے۔