1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

فرانسیسی الیکشن، پہلے مرحلے کے فاتح ماکروں اور لے پین

عاطف بلوچ، روئٹرز
23 اپریل 2017

غیر سرکاری ابتدائی نتائج کے مطابق فرانسیسی صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اعتدال پسند امیدوار ایمانوئل ماکروں اور دائیں بازو کی خاتون سیاستدان مارین لے پین نے باقی جملہ امیدواروں پر برتری حاصل کر لی ہے۔

https://p.dw.com/p/2blaS
Frankreich Präsidentschaftswahl Macron und Le Pen
تصویر: Reuters/C. Hartmann

آج اتوار کے روز فرانس میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ہونے والی ووٹنگ کے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق کل گیارہ امیدواروں میں سے اعتدال پسند صدارتی امیدوار ایمانوئل ماکروں اور نیشنل فرنٹ کی دائیں بازو کی مہاجرت مخالف خاتون سیاستدان مارین لے پین کو سب سے زیادہ انفرادی تائید حاصل ہوئی ہے۔

فرانسیسی صدارتی الیکشن میں اہم امیدوار کون کون

فرانس میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری

کیا مہاجرین انتخابات پر اثر انداز ہو رہے ہیں؟

تئیس اپریل بروز اتوار ہونے والی قومی رائے دہی میں کسی بھی امیدوار کو مطلوبہ پچاس فیصد سے زائد عوامی تائید حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اب دوسرے مرحلے کے صدارتی الیکشن میں سات مئی کو حتمی مقابلہ ماکروں اور لے پین کے مابین ہی ہو گا۔ اس انتخابی معرکے کے ایک اور اہم صدارتی امیدوار قدامت پسند فرانسوا فیوں نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں ماکروں کو چوبیس فیصد جبکہ لے پین کو بائیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔

یورپی یونین کے رکن اور جرمنی کے ہمسایہ ملک فرانس میں صدارتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں رائے دہی کے لیے آج ملک کے 47 ملین کے قریب رجسٹرڈ ووٹروں کو اپنا ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

اس الیکشن کے لیے قریب 70 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جہاں سکیورٹی فرائض کی انجام دہی کے لیے قریب 50 ہزار پولیس اہلکار تعینات تھے۔ اسی مقصد کے لیے قریب سات ہزار فوجی بھی اضافی خدمات انجام دے رہے تھے۔

مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہو کر شام آٹھ بجے تک جاری رہنے والی اس رائے دہی میں عوام کو صدارتی عہدے کے لیے کل 11 امیدواروں میں سے کسی نہ کسی کی حمایت تو کرنا ہی تھی لیکن جیسا کہ تبصرہ نگاروں کے اندازے بھی تھے، ان انتخابات میں آئندہ اور حتمی مقابلہ اب لے پین اور ماکروں کے مابین ہی ہو گا۔

انتہائی دائیں بازو کی خاتون سیاستدان لے پین کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی تعریف کر چکے ہیں جبکہ 39 سالہ سابقہ سرمایہ کاری بینکار ماکروں ایک لبرل سیاستدان ہیں، جنہیں ان کی انتخابی مہم کے دوران بھی ووٹروں کی غیر متوقع حد تک زیادہ حمایت حاصل ہوئی تھی۔