1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’لو جہاد‘ کا کوئی ثبوت نہیں، بھارتی قومی تفتیشی ایجنسی

جاوید اختر، نئی دہلی
18 اکتوبر 2018

بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی نے اس دلیل کے ساتھ کہ اسے مبینہ ’لو جہاد‘ کے نام پر جبراً مذہب تبدیل کرانے کے کسی الزام کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اس معاملے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/36ljl
Indien - Konvertierung von Muslimen zum Hinduismus in Kolkata
تصویر: Sudipto Bhowmik

انسداد دہشت گردی کے لیے قائم نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کا کہنا ہے کہ مبینہ ’لوجہاد‘ کے معاملات کی تفتیش کے دوران یہ بات تو سامنے آئی کہ مسلم ہندو لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان ’لو میرج‘ ہوئی اور بعض معاملات میں مذہب بھی تبدیل کیا گیا، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایسا زور زبردستی یا کسی مجرمانہ سازش کے تحت کیا گیا۔ اسی کے ساتھ این آئی اے نے ’لوجہاد‘ کے حوالے سے تمام معاملات کی انکوائری بند کردی اور اب اس بات کا امکان تقریباً نہیں ہے کہ این آئی اے اس معاملے میں آئندہ تفتیش کرے گی۔

ہندو شدت پسند تنظیمیں یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ مسلم نوجوان محبت کی آڑ میں ہندو لڑکیوں کو دھوکہ دے کر، ورغلا کر، بلیک میل کر کے اور بعض اوقات زبردستی مذہب تبدیل کراتے ہیں۔ یہ تنظیمیں اسے ’لوجہاد‘ کا نام دیتی ہے اور ان کے اراکان بین المذاہب شادی کرنے والوں کو اکثر تشدد کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ تشدد کے ایسے واقعات سب سے زیادہ بی جے پی کی حکومت والی ریاست اترپردیش میں رونما ہوئے ہیں جہاں وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ کی قائم کردہ انتہاپسند تنظیم 'ہندو یووا واہنی‘ تشدد کے ایسے معاملات میں پیش پیش رہی ہے۔ بھارت کی مسلم جماعتیں مبینہ ’لوجہاد‘ کے وجود سے انکار کرتی ہیں۔

جنوبی ریاست کیرالا میں ہندو مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہوجانے والی ہادیہ نامی لڑکی کے شافعین جہاں نامی ایک مسلم نوجوان سے شادی کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ’لوجہاد‘ کے معاملے نے کافی شدت اختیار کرلی تھی۔ ہادیہ کے والد کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی بنیاد پر کیرالا ہائی کورٹ نے اس شادی کو کالعدم قرار دے دیا تھا لیکن جب یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں پہنچا تو اس نے کیرالا ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کردیا۔ سپریم کورٹ نے اسی کے ساتھ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کو ’لوجہاد‘ کے مبینہ معاملات کی انکوائری کا حکم بھی دیا تھا۔

جس کے بعد این آئی اے نے کیرالا میں بین المذاہب شادیوں کے گیارہ معاملات کی تفتیش کی۔ یہ گیارہ معاملات ان 89 معاملات میں شامل تھے جو بین المذاہب شادی کے سلسلے میں فریقین بالخصوص والدین کی طرف سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس درج کرائے گئے تھے اور کیرالا کی پولیس نے جن کی انکوائری این آئی اے کو سونپی تھی۔

این آئی اے نے ایسے جن گیارہ معاملات کی جانچ کی ہے، ان میں سے کم از کم چار معاملات میں ہندو مردوں نے شادی کرنے کے لیے اسلام قبول کیا جب کہ بقیہ معاملات میں ہندو خواتین نے مسلم مردو ں سے شادی کی تھی۔ این آئی اے نے اپنی تفتیش میں یہ بھی پایا کہ کم از کم تین معاملات میں مذہب تبدیل کرانے کی کوشش ناکام رہی۔

DW Reihe Love Jihad
ہندو شدت پسند تنظیموں کا الزام تھا کہ ’لو جہاد‘ ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کی منظم سازش ہےتصویر: Aletta Andre

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارتی آئین میں ملک کے تمام شہریوں کوکسی بھی مذہب کو ماننے اور اس کی پرامن تبلیغ و اشاعت نیز اپنی پسند کی شادی کرنے کو ان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ این آئی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کیرالا میں تبدیلی مذہب کوئی جرم نہیں ہے۔ اسی طرح قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی مرد یا عورت کو مذہب تبدیل کرنے میں مدد کرنا بھی کوئی جرم نہیں ہے۔

ہادیہ معاملے میں کیرالا کی ایک سیاسی جماعت پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ جماعت پیسے کا لالچ دے کر ریاست میں تبدیلی مذہب کرا رہی ہے اور مذہب تبدیل کرنے والوں کو بعد میں بین الاقوامی انتہا پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘میں شامل کرا رہی ہے۔ پی ایف آئی نے تاہم ان الزامات کی تردید کی تھی۔

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا، ''جن معاملات کی تفتیش کی ان میں سے بیشتر میں یہ بات تو سامنے آئی کہ پی ایف آئی یا اس سے وابستہ افراد نے مرد یا خاتون کو شادی کے لیے اسلام قبول کرنے میں مدد کی لیکن ایسی کسی حرکت کا ثبوت نہیں ملا جس کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے یا غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔‘‘

پی آئی ایف کے لیگل ایڈوائزر کے بی محمد شریف نے ایک بیان جاری کر کے کہا،  ’’لو جہاد دراصل ہندو شدت پسند طاقتوں کی طرف سے پھیلایا گیا سراسر جھوٹ اور ایک ناپاک منصوبہ ہے، تاکہ مسلمانوں کو بدنام کیا جا سکے اور نشانہ بنایا جاسکے۔ لیکن مختلف ایجنسیوں کی طرف سے متعدد تفتیش اور انکوائری میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ الزامات یکسر جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔‘‘

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ’لوجہاد‘ بھارت میں اب ایک انتخابی موضوع بن چکا ہے۔ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی معاون تنظیمیں ہر الیکشن سے قبل ’لوجہاد‘ کا معاملہ ضرور اچھالتی ہیں۔ اب جب کہ عام انتخابات میں صرف چند مہینے باقی رہ گئے ہیں، ہندو شدت پسند تنظیم وشو ہند و پریشد (وی ایچ پی) نے 'اینٹی لوجہاد مہم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وی ایچ پی پر ’ لو جہاد‘ کے نام پر ہنگامہ اور تشدد کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں اور یہ معاملہ کئی مرتبہ پارلیمان میں بھی اٹھایا جاچکا ہے۔