1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ليبيا تنازعہ: امريکہ اور فرانس کی روس سے ثالثی کی درخوست

27 مئی 2011

نيٹو کے طياروں نے جمعرات اور جمعہ کی درميانی شب چوتھی رات بھی ليبيا کے دارالحکومت طرابلس پر بمباری کی جس کے بعد معمر قذافی کے رہائشی کمپاؤنڈ سے دھويں کے بادل نکلتے ديکھے گئے۔

https://p.dw.com/p/11PHB
فزانس ميں جی آٹھ سربراہی کانفرنس کے شرکاء
فزانس ميں جی آٹھ سربراہی کانفرنس کے شرکاءتصویر: AP

اُدھر فرانس کے شہر دوول ميں ہونے والی جی آٹھ کی سربراہی کانفرنس کے دوران امريکی صدر باراک اوباما نے ليبيا کے بارے ميں سب سے زيادہ سخت گير رويہ رکھنے والے مغربی رہنما فرانس کے صدرسارکوزی سے عليحدہ بات چيت کے بعد کہا ہے کہ امريکہ اور فرانس ليبيا کے سلسلے ميں اس معاملے کو مکمل طور پر نمٹانے پر متفق ہيں۔

ليبيا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق آج مصراتہ کے شہر ميں قذافی کی فوج اور باغيوں کے درميان گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ باغيوں کے ذرائع کے مطابق لڑائی ميں چھ باغی زخمی ہو گئے۔ ايک باغی نے کہا کہ قذافی کی فوج مصراتہ ميں دوباہ داخل ہونے کے ليے سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔ باغيوں نے ليبيا کے تيسرے بڑے شہر مصراتہ سے قذافی کی فوج کو باہر نکال ديا ہے ليکن وہ شہر کے بيرونی کناروں سے باغيوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

اُدھر برطانيہ نے ليبيا کی جنگ کو تيز کرنے کے ليے اپنے بھاری اسلحے سے ليس اپاچی ہيلی کاپٹروں کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔ يہ ہيلی کاپٹر نچلی پرواز کرکے قذافی کی حامی فوج کے اسلحے اور ٹينکوں پر حملے کر سکتے ہيں۔ يہ ہيلی کاپٹر ليبيا کے ساحل کے قريب کھڑے برطانوی ہيلی کاپٹر بردار جہاز سے پرواز کريں گے۔ فرانس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ تقريباً ايک درجن ٹائيگر ہيلی کاپٹروں کو قذافی کی فوج پر حملوں کے ليے استعمال کرے گا۔ يہ بہت بلندی پر پرواز کرنے والے جہازوں سے بمباری کی نيٹو پاليسی ميں ايک اہم تبديلی ہوگی۔

برطانيہ کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ليبيا کے بہت سے سينئر فوجی کمانڈروں نے اس ڈر سے ٹيلی فون استعمال کرنا بند کرديے ہيں کہ ان کی گفتگو سنی جا رہی ہے اور يہ احساس پايا جاتا ہے کہ حکومت دباؤ محسوس کر رہی ہے۔

طرابلس پر نيٹوکی بمباری
طرابلس پر نيٹوکی بمباریتصویر: picture alliance/dpa

طرابلس ميں ليبيا کے وزير اعظم المحمودی نے ايک پريس کانفرنس ميں کہا کہ ليبيا نے تنازعے کے حل کے ليے افريقی يونين کے منصوبے کے مطابق صلح کی ايک اور پيشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم نے اقوام متحدہ اور افريقی يونين سے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کی ايک تاريخ اور وقت مقرر کر ديں اور مبصرين کو اس کی نگرانی کے ليے ليبيا بھيجيں۔‘‘

26 مئی کو ايتھوپيا ميں افريقی رہنماؤں نے ليبيا پرايک خصوصی کانفرنس ميں نيٹو کے فضائی حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کيا تاکہ تنازعے کے سياسی حل کی راہ پيدا ہو سکے۔ ليکن ليبيا کے وزيراعظم نے اپنی پيشکش ميں قذافی کے اقتدار سے دستبردار ہونے کو پھر رد کرديا۔ انہوں نے کہا: ’’معمر قذافی عوام کے ليڈر ہيں۔ وہ ليبيا کے عوام کے دلوں ميں ہيں۔‘‘ ليکن ليبيا کے باغيوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی کسی بھی پيشکش ميں قذافی کے اقتدار سے ہٹنے کو پہلا قدم سمجھتے ہيں۔

روسی صدر ميدويديف
روسی صدر ميدويديفتصویر: AP

امريکہ نے کہا ہے کہ وہ قذافی حکومت کی امن کی اس پيشکش کو قابل اعتماد نہيں سمجھتا۔ نيٹو کا کہنا ہے کہ قذافی کی فوج خود اپنے شہريوں کو ہلاک کررہی ہے جبکہ قذافی نے اسے غلط کہا ہے اور ان کی حکومت کا کہنا ہے کہ سکيورٹی فورسز مجرموں اورالقاعدہ کے اراکين کی بغاوت کو کچلنے پر مجبور ہيں۔ چين کا دورہ کرنے والے جرمن وزير خارجہ ويسٹر ويلے نے کہا ہے کہ ليبيا کے تنازعے کا فوجی حل ممکن نہيں ہے۔

اُدھر روس نے کہا ہے کہ ليبيا کے وزير اعظم نے ايک سمجھوتے کے ليے روس سے رابطہ قائم کيا ہے اور جی۔ آٹھ کے رکن ممالک نے بھی روس سے کہا ہے کہ وہ تنازعے کے حل کے ليے ليبيا کی حکومت سے اپنے روابط استعمال کرے۔ وائٹ ہاؤس کے ايک ترجمان نے کہا کہ صدر اوباما نے فرانس ميں جی آٹھ کی سربراہ کانفرنس کے دوران روسی صدرميدويديف سے طرابلس کی حکومت سے روابط قائم رکھنے پر تبادلہء خيالات کيا۔

تازہ ترين اطلاعات کے مطابق امريکہ اور فرانس نے روس سے کہا ہے کہ وہ ليبيا کے تنازعے کے حل کے ليے ثالث کا کردار ادا کرے۔ روسی صدر ميدويديف کے ساتھ فرانس ميں جی آٹھ سربراہی کانفرنس ميں شرکت کرنے والے ايک سينئرروسی مشير نے کہا کہ اوباما اور سارکوزی دونوں نے روسی صدر سے ثالثی کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سياسی حل کی اميد رکھی جا سکتی ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں