ليبيا ميں پھنسے ہوئے مہاجرين کے ليے اميد کی کِرن

اقوام متحدہ کے ايک سينیئر اہلکار نے بتايا ہے کہ ليبيا سے ہزاروں تارکين وطن کو آئندہ برس مختلف ممالک ميں منتقل کيا جائے گا اور اس سلسلے ميں يہ عالمی ادارہ کئی افريقی اور يورپی رياستوں کے ساتھ مشاورت کے عمل ميں مصروف ہے۔

ليبيا ميں زير حراست مہاجرين ميں سے قريب دس ہزار کو آئندہ برس يورپ اور افريقہ کے مختلف ملکوں ميں بسايا جائے گا۔ يہ بات اقوام متحدہ کی مہاجرين سے متعلق ايجنسی کے ايک اعلیٰ اہلکار روبرٹو میگنون نے منگل کے روز بتائی ہے۔ ان کے بقول ليبيا ميں انتہائی خستہ حال کيمپوں اور ناقص سہوليات کے سبب وہاں موجود مہاجرين کو مشکلات کا سامنا ہے اور انہی مشکلات سے چھٹکارا دلانے کے ليے مہاجرين کو وہاں سے منتقل کرنے کا فيصلہ کيا گيا ہے۔

يورپ پہنچنے کے خواہاں تارکين وطن کے ليے ليبيا ايک اہم ملک ہے۔ وہاں سرگرم انسانوں کے اسمگلرز سياسی بے يقينی اور عدم استحکام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں مہاجرين کو بحيرہ روم کے خطرناک راستے يورپ بھيج چکے ہيں۔ تاہم رواں سال جولائی ميں اقوام متحدہ کی حمايت يافتہ طرابلس حکومت نے ملک ميں سرگرم اسمگلروں کے خلاف اٹلی کی مدد سے کارروائی شروع کر رکھی ہے، جس کے نتيجے ميں اٹلی پہنچنے والے مہاجرين کی تعداد ميں دو تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم مہاجرين کی مدد کرنے والے اداروں اور رضاکاروں کے مطابق اس پيش رفت کے نتيجے ميں ليبيا ميں زير حراست مہاجرين کے حالات ميں کافی بدتر ہوئے ہیں۔ متعدد رپورٹوں کے مطابق تارکين وطن کو ناقص حراستی مراکز ميں خوراک کی کمی، تشدد، گنجائش سے زائد افراد کی موجودگی اور طبی سہوليات کی عدم دستيابی جيسے مسائل کا سامنا ہے۔

اس صورتحال ميں بہتری لانے کے ليے اقوام متحدہ ان کوششوں ميں ہے کہ مہاجرين کو ديگر ممالک ميں بسايا جائے۔  اقوام متحدہ کی مہاجرين سے متعلق ايجنسی کے ايک اعلیٰ اہلکار روبرٹو میگنون نے بتايا، ’’اگلے سال يعنی سن 2018 ميں ہم پانچ تا دس ہزار مہاجرين کو منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہيں۔ اس عمل ميں عورتوں، بچوں، بزرگوں اور بيمار افراد کو ترجيح دی جائے گی۔‘‘ ان کے بقول اس ہفتے بھی ساڑھے تين سو تارکين وطن کو اٹلی منتقل کيا جا رہا ہے اور جنوری کے آخر تک ايک ہزار مہاجرين کو منتقل کرنے کا کام مکمل کر ليا جائے گا۔

روبرٹو میگنون نے بتايا ہے کہ ان مہاجرين کو بسانے کے ليے کئی افريقی رياستوں سميت چند يورپی ملکوں سے مکالمت جاری ہے۔ ليبيا ميں اس وقت رجسٹرڈ تارکين وطن کی تعداد 44,306 ہے۔

کون سا سمندر کب کتنے مہاجرین نگل گیا

بحيرہ روم ’مہاجرين کا قبرستان‘

سال رواں ميں دنيا کے مختلف حصوں ميں لاپتہ يا ہلاک ہو جانے والے مہاجرين کی تعداد 1,319 ہے۔ سب سے زيادہ ہلاکتيں بحيرہ روم ميں ہوئيں، جہاں وسط اپريل تک 798 افراد يا تو ہلاک ہو چکے ہيں يا تاحال لاپتہ ہيں۔ پناہ کی تلاش ميں افريقہ يا ديگر خطوں سے براستہ بحيرہ روم يورپ پہنچنے کی کوششوں کے دوران جنوری ميں 257، فروری ميں 231، مارچ ميں 304 اور اپريل ميں اب تک چھ افراد ہلاک يا لاپتہ ہو چکے ہيں۔

کون سا سمندر کب کتنے مہاجرین نگل گیا

سينکڑوں نامعلوم شناخت والے لاپتہ يا ہلاک

سال رواں ميں جنوری سے لے کر اپريل تک دنيا بھر ميں 496 ايسے افراد ہلاک يا لاپتہ ہو چکے ہيں جن کی شناخت واضح نہيں۔ اسی عرصے کے دوران ہلاک يا لاپتہ ہونے والے 191 افراد کا تعلق ايک سے زيادہ ملک يا خطے سے تھا۔ زیریں صحارا افريقہ کے 149، قرن افريقی خطے کے ملکوں کے 241، لاطينی امريکی خطے کے 172، جنوب مشرقی ايشيا کے 44، مشرق وسطیٰ و جنوبی ايشيا کے پچيس افراد اس سال گمشدہ يا ہلاک ہو چکے ہيں۔

کون سا سمندر کب کتنے مہاجرین نگل گیا

سن 2016 ميں تقریبا آٹھ ہزار مہاجرين ہلاک يا لاپتہ

سن 2016 ميں عالمی سطح پر لاپتہ يا ہلاک ہونے والے مہاجرين کی مجموعی تعداد 7,872 رہی۔ پچھلے سال بھی سب سے زيادہ ہلاکتيں يا گمشدگياں بحيرہ روم ميں ہوئيں اور متاثرين کی مجموعی تعداد 5,098 رہی۔ سن 2016 کے دوران شمالی افريقہ کے سمندروں ميں 1,380 افراد، امريکا اور ميکسيکو کی سرحد پر 402 افراد، جنوب مشرقی ايشيا ميں 181 جب کہ يورپ ميں 61 مہاجرين ہلاک يا لاپتہ ہوئے۔

کون سا سمندر کب کتنے مہاجرین نگل گیا

پچھلے سال بھی افر‌يقی خطہ سب سے زيادہ متاثر

پچھلے سال افريقہ کے 2,815 مہاجرين ہلاک يا لاپتہ ہوئے۔ اسی عرصے کے دوران ہلاک يا لاپتہ ہونے والے ايک سے زائد ملک کی شہريت کے حامل مہاجرين کی تعداد 3,183 رہی۔ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ايشيائی خطے کے 544، جنوب مشرقی ايشيا کے 181 جبکہ لاطينی امريکا و کيريبيئن کے 675 مہاجرين سن 2016 ميں لقمہ اجل بنے۔ پچھلے سال بغير شہريت والے 474 مہاجرين بھی لاپتہ يا ہلاک ہوئے۔

کون سا سمندر کب کتنے مہاجرین نگل گیا

جنوب مشرقی ايشيا بھی متاثر

پناہ کے سفر ميں اپنی منزل پر پہنچنے سے قبل ہی زندگی کو خيرباد کہہ دينے والوں کی تعداد سن 2015 ميں 6,117 رہی۔ اُس سال بھی سب سے زيادہ 3,784 ہلاکتيں بحيرہ روم ہی ميں ہوئيں۔ 2015ء ميں بحيرہ روم کے بعد سب سے زيادہ تعداد ميں ہلاکتيں جنوب مشرقی ايشيا ميں رونما ہوئيں، جہاں 789 پناہ گزينوں کے بہتر زندگی کے خواب چکنا چور ہو گئے۔ يہ وہی سال ہے جب ميانمار ميں روہنگيا مسلمانوں کا معاملہ بھی اپنے عروج پر تھا۔

کون سا سمندر کب کتنے مہاجرین نگل گیا

روہنگيا بھی پناہ کی دوڑ ميں گُم ہو گئے

سن 2015 کے دوران بحيرہ روم سے متصل ممالک کے 3784 مہاجرين، جنوب مشرقی ايشيا کے 789 جبکہ شمالی افريقہ کے 672 مہاجرين ہلاک يا لاپتہ ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين يو اين ايچ سی آر نے سن کے دوران پناہ کے سفر کے دوران ہلاک ہونے والے روہنگيا مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ ساڑھے تين سو بتائی تھی۔

کون سا سمندر کب کتنے مہاجرین نگل گیا

شناخت واضح نہيں يا وجہ کوئی اور؟

دنيا کے مختلف حصوں ميں لاپتہ يا ہلاک ہونے والے مہاجرين کی سن 2014 ميں مجموعی تعداد 5,267 تھی۔ ہلاکتوں کے لحاظ سے اس سال بھی بحيرہ روم اور جنوب مشرقی ايشيائی خطے سر فہرست رہے، جہاں 3,279 اور 824 ہلاکتيں ہوئيں۔ اس سال ہلاک ہونے والے قريب ايک ہزار افراد کی شناخت واضح نہيں تھی۔

کون سا سمندر کب کتنے مہاجرین نگل گیا

سن 2000 سے اب تک چھياليس ہزار ہلاک

’مسنگ مائگرينٹس پراجيکٹ‘ بين الاقوامی ادارہ برائے ہجرت کا ايک ذيلی منصوبہ ہے، جس ميں پناہ کے سفر کے دوران ہلاک يا لاپتہ ہو جانے والوں کے اعداد و شمار پر نظر رکھی جاتی ہے۔ اس ادارے کے مطابق سن 2000 سے لے کر اب تک تقريباً چھياليس ہزار افراد سياسی پناہ کے تعاقب ميں اپنی جانيں کھو چکے ہيں۔ یہ ادارہ حکومتوں پر زور ديتا ہے کہ اس مسئلے کا حل تلاش کيا جائے۔

ہمیں فالو کیجیے