1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’’ماسکو کے ہاتھ ترکی پر دباؤ ڈالنے کا طریقہ لگ گیا‘‘

عدنان اسحاق23 دسمبر 2015

کردوں کی حمایت کرنے والے ترک سیاستدان صلاح الدین دمیر طاش آج کل روس کے دورے پر ہیں۔ بدھ کے روز ماسکو میں ان سے روسی سیاستدانوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

https://p.dw.com/p/1HSRE
تصویر: Getty Images/AFP

روس میں اپنی ملاقاتوں کے دوران ترک سیاستدان صلاح الدین دمیر طاش نے انقرہ حکومت کی جانب سے روسی طیارے کی تباہی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر دمیر طاش نے بند کمرے میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بات چیت بھی کی۔ اس موقع پر لاوروف نے دمیر طاش کو بتایا کہ شام میں صورتحال کے حوالے سے روس ان کی جماعت کے موقف پر غور کرے گا،’’ ہمیں علم ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے خطرے کے خلاف لڑنے والوں میں عراقی اور شامی کرد بھی شامل ہیں۔‘‘

تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اور کون سے روسی سیاستدانوں نے صلاح الدین دمیر طاش سے ملاقات کی ہے۔ ایک روسی خبر رساں ادارے نے لاوروف کے حوالے سے لکھا ہے، ’’ ہم نے ترک حکومت کے اُس رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جو اس نے روسی طیارہ گرانے کے وقت اپنا رکھا تھا۔‘‘

Türkei Selahattin Demirtas Chef der pro-kurdischen HDP
تصویر: Getty Images/AFP/A. Altan

دمیر طاش ترکی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی’ ایچ ڈی پی‘ کے سربراہ ہیں۔ ان کے مطابق، ’’ملک میں حزب اختلاف کی جماعت کے طور پر ہم نے شروع سے ہی روس کے ساتھ باہمی تعلقات میں کسی قسم کی خرابی پیدا کرنے کی مخالفت کی تھی۔‘‘ ذرائع ابلاغ نے دمیر طاش کے دورے سے قبل یہ خبر دی تھی کہ وہ ماسکو میں اپنی جماعت کا ایک نمائندہ دفتر بھی کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عالمی معاملات پر نظر رکھنے والے ایک امریکی ادارے’ سٹراٹفور‘ کے مطابق، ’’ماسکو کے پاس کردوں کی صورت میں ترکی پر دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ ہاتھ آ گیا ہے‘‘۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ دمیر طاش اپنے اس دورے سے ترک صدر رجیب طیب ایردوآن پر یہ واضح بھی کرنا چاہتے ہیں کہ کرد بھی ایک سیاسی قوت ہیں، جنہیں انتخابات میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی سڑکوں پر آسانی سے روندھا جا سکتا ہے۔

روس نے نومبر سے اپنے فوجی طیارے کی تباہی کے بعد ترکی پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ صلاح الدین دمیر طاش کا شمار ترک صدر ایردوآن کے بڑے حریفوں میں ہوتا ہے۔ ترک فضائیہ کی جانب سے روسی طیارہ گرانے کے واقعے کے بعد کسی ترک سیاستدان کا روس کا یہ پہلا دورہ ہے۔