مسلح تنازعات کے سبب ايک سال ميں آٹھ ہزار بچے ہلاک يا زخمی

اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل انٹونيو گوٹيرش نے کہا ہے کہ شام، يمن، کانگو، افغانستان اور ديگر کئی ممالک ميں جاری مسلح تنازعات ميں گزشتہ برس آٹھ ہزار بچوں کی ہلاکت يا ان کا زخمی ہونا ’ہولناک اور ناقابل قبول‘ بات ہے۔

انٹونيو گوٹيرش نے مسلح تنازعات ميں ملوث فريقوں پر زور ديا ہے کہ وہ لڑکوں اور لڑکيوں کی ہلاکتوں ميں کمی لانے کے ليے اقدامات کریں۔ اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل نے اپنا يہ بيان ’چلڈرن ان آرمڈ کنفلکٹ‘ نامی رپورٹ ميں ديا ہے جس کی کاپی خبر رساں ادارے ايسوسی ايٹڈ پريس نے حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زيادہ بچوں کی ہلاکتيں افغانستان ميں ہوئيں جہاں ايک سال کے عرصے ميں کُل پر 3,512 بچے ہلاک يا زخمی ہوئے۔ اس شورش زدہ ملک کی تاريخ ميں بارہ ماہ کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کی يہ سب سے زيادہ تعداد ہے۔

گوٹيريش نے بتايا کہ يمن ميں بھی پچھلے سال کے دوران قريب ساڑھے تيرہ سو بچے زخمی يا ہلاک ہوئے، جن ميں سے پچاس فيصد کی ذمہ دار امريکا کی حمايت يافتہ کوليشن ہے۔ 

Kinder im Irak

اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل کے مطابق سن 2015 کے مقابلے ميں پچھلے سال يعنی 2016ء ميں شام اور صوماليہ ميں مسلح کارروائيوں کے مقصد سے بچوں کی بھرتی کی شرح دو گنا سے بھی زيادہ بڑھی ہے۔ عالمی تنظيم نے ايسے 169 کيسز کی نشاندہی کی ہے، جن سے جنوبی سوڈان ميں مجموعی طور پر 1,022 بچے متاثر ہوئے۔ گوٹيريش کے بقول ساٹھ فيصد بھرتيوں ميں حکومتی فورسز ملوث تھيں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ ميں بچوں کے خلاف پر تشدد کارروائيوں کے قريب ساتھ ہزار واقعات کا ذکر ہے، جن ميں الشباب، بوکو حرام، طالبان اور داعش جيسی تنظيميں ملوث پائی گئيں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ سيکرٹری جنرل نہ صرف مسلح تنازعات ميں آٹھ ہزار بچوں کے زخمی يا ہلاک ہونے پر بل کہ کم عمر افراد کے خلاف جنسی جرائم پر بھی تشويش کا شکار ہيں۔ انہوں نے اسکولوں اور ہسپتالوں پر فضائی حملے پر بھی تشويش ظاہر کی۔

موضوعات

معاشرہ

در بدر کی ٹھوکریں

غیر سرکاری تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق جنگوں اور پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے بہت سے بچوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑ جاتا ہے۔ بچیوں کی کم عمری میں شادی اور حاملہ ہونے کے علاوہ خراب صحت بھی اس محرومی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

معاشرہ

بچپن کہتے کسے ہیں؟

اس رپورٹ میں بچپن سے مراد وہ وقت ہے، جب بچے صرف کھیلتے کودتے ہیں اور انہیں مختلف چیزیں سکھانے کا عمل شروع کیا جاتا ہے، تاکہ بچوں کی شخصیت تعمیر ہو سکے۔

معاشرہ

بنیادی حقوق

اس تنظیم کی سربراہ ہیلے تھورننگ شمٹ کے مطابق، ’’بچے غربت اور امتیازی سلوک کی چکی میں پس کر اپنا بچپن کھو رہے ہیں۔‘‘ ہر لڑکی اور ہر لڑکے کو بچپن میں محبت اور تحفظ کے احساس کے علاوہ مکمل دیکھ بھال کا حق بھی حاصل ہے۔

معاشرہ

سب سے زیادہ متاثر بچے

End of Childhood یا ’بچپن کا خاتمہ‘ کے عنوان سے تیار کی جانے والی 172 ممالک کی اس فہرست میں مغربی اور وسطی افریقی ممالک سب سے نچلی سطح پر ہیں۔ ان میں بھی نائجر، انگولا اور مالی کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں۔

معاشرہ

یورپی بچے خوش قسمت

ناروے، سلووینیا، فن لینڈ، ہالینڈ اور سویڈن کے بچے ہیں، جو اپنے بچپن کے سنہری دور سے سب سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس فہرست میں جرمنی دسویں مقام پر ہے۔

معاشرہ

خطرناک مشقت

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 168 ملین بچے ایسے ہیں، کام کرنا جن کی مجبوری ہے اور ان میں سے بھی 85 ملین کو انتہائی سخت اور خطرناک حالات میں روزی کمانا پڑتی ہے۔

معاشرہ

اکثریت ترقی پذیر ممالک میں

سیو دی چلڈرن کے مطابق بچپن سے محروم کر دیے جانے والے ان تقریباً 730 ملین بچوں کی زیادہ تر تعداد کا تعلق ترقی پذیر ممالک کے پسماندہ خاندانوں سے ہے۔ ان علاقوں میں بچوں کو بنیادی سہولیات کے شدید فقدان کا سامنا ہے۔