مشرق وسطیٰ سے امريکا کا انخلاء، ہتھياروں کی دوڑ کا سبب

ميونخ سکيورٹی کانفرنس سے قبل جاری کردہ ايک رپورٹ کے مطابق مشرقی وسطیٰ سے امريکی افواج کے بتدریج انخلاء کا عمل، اس خطے کے ملکوں ميں اسلحہ خريدنے کے رجحان کا سبب بنا ہے۔

جرمن اخبار ’ڈی ويلٹ‘ ميں شائع ہونے والی ايک تازہ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک ميں سن 2013 سے لے کر اب تک کے عرصے ميں دفاعی اخراجات، اس سے پچھلے پانچ برسوں کے مقابلے ميں تقريباً دوگنا ہو گئے ہيں۔ يہ اعداد و شمار ميونخ سکيورٹی رپورٹ ميں شامل ہيں، جو جرمنی کے شہر ميونخ ميں ہونے والی سکيورٹی کانفرنس سے پہلے جاری کی جاتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، مشرقی وسطیٰ ميں اسلحے کی خريداری ميں اضافہ، اس خطے سے امريکا کے انخلاء کے ساتھ ہوا ہے۔

ہتھيار خريدنے کے معاملے ميں عالمی سطح پر سرفہرست دس ملکوں کی فہرست ميں سات کا تعلق مشرق وسطیٰ کے خطے سے ہے۔ ان ميں مغربی ممالک کے اتحادی سعودی عرب، ترکی، اسرائيل اور کويت شامل ہيں۔ رپورٹ ميں اس بارے ميں معلومات بھی شامل ہيں کہ ايران کے پاس اپنے علاقائی حريف ملکوں کے مقابلے ميں زيادہ ٹينک، فوجی اور آبدوزيں موجود ہيں۔

سن 2014 سے لے کر سن 2018 کے درميان مشرق وسطیٰ کے ملکوں کو فروخت کردہ اسلحے ميں امريکا کی شراکت ترپن فيصد، فرانس کی گيارہ فيصد، برطانيہ کی دس فيصد اور جرمنی کی صرف تين فيصد ہے۔

يہ تمام امور اس ہفتے سے شروع ہونے والی ميونخ سکيورٹی کانفرنس ميں زير بحث آئيں گے۔ ميونخ سکيورٹی کانفرنس ميں دنيا بھر سے دفاعی شعبے سے وابستہ ماہرين اور سفارت کار شرکت کرتے ہيں۔

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار

10۔ ویت نام

بھاری اسلحہ خریدنے والے ممالک کی فہرست میں ویت نام دسویں نمبر پر رہا۔ سپری کے مطابق اسلحے کی عالمی تجارت میں سے تین فیصد حصہ ویت نام کا رہا۔

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار

9۔ پاکستان

جنوبی ایشیائی ملک پاکستان نے جتنا بھاری اسلحہ خریدا وہ اسلحے کی کُل عالمی تجارت کا 3.2 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان نے سب سے زیادہ اسلحہ چین سے خریدا۔

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار

8۔ عراق

امریکی اور اتحادیوں کے حملے کے بعد سے عراق بدستور عدم استحکام کا شکار ہے۔ عالمی برادری کے تعاون سے عراقی حکومت ملک میں اپنی عملداری قائم کرنے کی کوششوں میں ہے۔ سپری کے مطابق عراق بھاری اسلحہ خریدنے والے آٹھواں بڑا ملک ہے اور پاکستان کی طرح عراق کا بھی بھاری اسلحے کی خریداری میں حصہ 3.2 فیصد بنتا ہے۔

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار

7۔ آسٹریلیا

اس فہرست میں آسٹریلیا کا نمبر ساتواں رہا اور اس کے خریدے گئے بھاری ہتھیاروں کی شرح عالمی تجارت کا 3.3 فیصد رہی۔

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار

6۔ ترکی

بھاری اسلحہ خریدنے والے ممالک کی اس فہرست میں ترکی واحد ایسا ملک ہے جو نیٹو کا رکن بھی ہے۔ سپری کے مطابق ترکی نے بھی بھاری اسلحے کی کُل عالمی تجارت کا 3.3 فیصد حصہ درآمد کیا۔

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار

5۔ الجزائر

شمالی افریقی ملک الجزائر کا نمبر پانچواں رہا جس کے خریدے گئے بھاری ہتھیار مجموعی عالمی تجارت کا 3.7 فیصد بنتے ہیں۔ پاکستان کی طرح الجزائر نے بھی ان ہتھیاروں کی اکثریت چین سے درآمد کی۔

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار

4۔ چین

چین ایسا واحد ملک ہے جو اسلحے کی درآمد اور برآمد کے ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے۔ چین اسلحہ برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے لیکن بھاری اسلحہ خریدنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک بھی ہے۔ کُل عالمی تجارت میں سے ساڑھے چار فیصد اسلحہ چین نے خریدا۔

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار

3۔ متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات بھی سعودی قیادت میں یمن کے خلاف جنگ میں شامل ہے۔ سپری کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران متحدہ عرب امارات نے بھاری اسلحے کی مجموعی عالمی تجارت میں سے 4.6 فیصد اسلحہ خریدا۔

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار

2۔ سعودی عرب

سعودی عرب دنیا بھر میں اسلحہ خریدنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ سپری کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سعودی عرب کی جانب سے خریدے گئے بھاری ہتھیاروں کی شرح 8.2 فیصد بنتی ہے۔

بھاری اسلحے کے سب سے بڑے خریدار

1۔ بھارت

سب سے زیادہ بھاری ہتھیار بھارت نے درآمد کیے۔ سپری کی رپورٹ بھارت کی جانب سے خریدے گئے اسلحے کی شرح مجموعی عالمی تجارت کا تیرہ فیصد بنتی ہے۔

ع س / ع ب، يوز ايجنسياں