مصر کے نئے فرعون، السیسی: ڈی ڈبلیو کا تبصرہ

مصر میں ہفتہ بیس اپریل سے وہ تین روزہ عوامی ریفرنڈم شروع ہو گیا ہے، جس کا مقصد آئین میں ترامیم کی عوامی توثیق ہے۔ ریفرنڈم میں السیسی کے حق میں عوامی فیصلہ یقینی ہے لیکن مستقبل ناامید کر دینے والا ہے۔ ڈی ڈبلیو کا تبصرہ:

ڈوئچے ویلے کے کَیرسٹن کنِپ مصر میں اس آئینی ریفرنڈم پر اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں کہ یہ بات یقینی ہے کہ اس تین روزہ عوامی رائے دہی کے نتیجے میں نہ صرف مجوزہ آئینی ترامیم کی منظوری دے دی جائے گی بلکہ ساتھ ہی موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کے صدارتی اختیارات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی

اس ریفرنڈم سے قبل مصر کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر جو ہورڈنگز دکھائی دیتے تھے، ان میں واضح طور پر لکھ دیا گیا تھا کہ عوام کو حکمرانوں کی کس پسندیدہ سمت میں اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔

اب تک مصر میں کسی بھی صدر کو چار چار سال کی صرف دو آئینی مدتوں کے لیے ہی منتخب کیا جا سکتا تھا۔ اب اس ریفرنڈم کے نتیجے میں چھ سالہ صدارتی مدت کے لیے کسی بھی رہنما کو تین بار سربراہ مملکت منتخب کیا جا سکے گا۔ اس کا عملی طور پر ایک مطلب یہ بھی ہو گا کہ ریفرنڈم کی کامیابی کی صورت میں السیسی 2030ء تک مصری صدر کے عہدے پر فائز رہ سکیں گے۔

مطلق العنان حکمرانی کے سات عشرے

مصر میں یہ ریفرنڈم ایک پریشان کن سیاسی پس منظر میں منعقد کرایا جا رہا ہے۔ قاہرہ حکومت کے ہزارہا مخالفین جیلوں میں ہیں۔ حکمرانوں سے مختلف رائے کے حامل شہریوں کا تعاقب کیا جاتا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ملکی ذرئع ابلاغ کی آواز بھی تقریباﹰ ایک سی ہی ہے۔

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار کَیرسٹن کنِپ

عوام کی بڑی تعداد متوقع طور پر اس رائے دہی میں حصہ نہیں لے گی، کیونکہ ان کے نزدیک اس ریفرنڈم میں حصہ لینا بھی ایک ایسی رعایت ہے، جس کی موجودہ حکومت حق دار نہیں۔ ان حالات میں ریفرنڈم کے نتیجے میں صدر السیسی کا اور بھی زیادہ بااختیار ہو جانا یقینی ہے۔

مصر کے بہت سے باشندے اس تلخ حقیقت کی وجہ سے بھی اپنی ہمت کھو بیٹھے ہیں کہ ان کے ملک میں 1952ء میں ’نوجوان فوجی افسروں‘ کی بغاوت اور اقتدار پر قبضے کے بعد سے آج تک کے 70 برسوں میں، ایک محدود سے وقت کو چھوڑ کر، صرف خود پسند اور مطلق العنان حکمران ہی اقتدار پر قابض رہے ہیں۔

مصری ریاست کے لیے جبر کا وہ ڈھانچہ، جو اس کا حصہ ہے، ایک ایسا کارآمد نظام ہے، جس کے ذریعے وہ یہ طے کرتی ہے کہ ملک میں کب کیا ہو گا۔ کسی دوسرے نظام کے لیے ریاست نے کوئی جگہ چھوڑی ہی نہیں۔

امید پسندی پر حملے

ناصر، سادات، مبارک اور السیسی: یہ خود پسند اور مطلق العنان حکمرانوں کا ایک ایسا سلسلہ ہے، جنہوں نے اس امر کے لیے بنیادیں فراہم کیں، کہ مصری عوام انہیں ’فرعون‘ کہنے لگے۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

مصر میں سکیورٹی فورسز اور سابق صدر محمد مُرسی کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 525 سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے برعکس اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کریک ڈاؤن کے دوران ان کے دو ہزار سے زائد حامی مارے گئے ہیں۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

دریں اثناء ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے مصری سکیورٹی فورسز کی طرف سے اس کریک ڈاؤن کو ’قتل عام‘ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری طور پر عملی ردعمل ظاہر کرنے کی اپیل کی ہے۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

محمد مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمون نے کہا ہے کہ وہ فوجی بغاوت کے خاتمے تک اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے انہوں نے ہمیشہ عدم تشدد اور امن کی بات کی ہے۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

کریک ڈاؤن کے دوران احتجاجی کیمپ کے نزدیک واقع مسجد بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ دریں اثناء مصری فوج کے حمایت یافتہ عبوری وزیر اعظم نے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کا دفاع کیا ہے۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

مصر میں معزول صدر محمد مرسی کے اسلام پسند حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کی ہے۔ اخوان المسلمون کے مطابق ان کے سینکڑوں کارکنوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

محمد مرسی کے حامی کئی ہفتوں سے دارالحکومت میں احتجاجی کیمپ لگائے ہوئے ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ معزول صدر کو بحال کیا جائے۔ قاہرہ کے شمال مشرق میں سب سے بڑے احتجاجی کیمپ میں مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق آج ملکی فوج تمام احتجاجی کیمپ ختم کروانے کی کوشش کرے گی۔ دوسری طرف مصر پولیس نے اخوان المسلمون کے اہم رہنما ‏محمد البلتاجی کو گرفتار کر لیا ہے۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

اخوان المسلمون کے کارکن پولیس کی کارروائی سے متاثر ہونے والی ایک خاتون کو پانی پلا رہے ہیں۔ اخوان المسلمون کے مطابق ہلاکتوں کے علاوہ پانچ ہزار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

احتجاجی کیمپوں کے خلاف عبوری حکومتی کارروائی کے آغاز کے بعد اخوان المسلمون کی جانب سے مصری عوام سے اپیل بھی کی گئی کہ وہ سڑکوں پر نکل آئیں۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد کا کہنا تھا کہ یہ احتجاجی کیمپوں کو منتشر کرنے کا عمل نہیں بلکہ فوجی بغاوت کے بعد اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی ایک خونی کارروائی ہے۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

رابعہ العدویہ مسجد کے قریب ایک مسجد کو مبینہ طور پر عارضی مردہ خانے کے طور پر استعمال کیا گیا اور اس میں کُل 43 لاشیں پہنچائی گئی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام مرد تھے اور ان کو گولیاں لگی ہوئی تھیں۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

وزارت داخلہ کے مطابق النہضہ اسکوائر کا علاقہ اب مکمل طور پر احتجاجیوں سے خالی کرا لیا گیا ہے اور پوری طرح حکومتی سکیورٹی کے کنٹرول میں ہے۔ اس چوک میں نصب تمام خیمے بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق اس کیمپ سے درجنوں افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق علاقے کے مکینوں نے بھی سکیورٹی اہلکاروں کی معاونت کی ہے۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

قاہرہ میں معزول صدر کے حامیوں نے دو احتجاجی کیمپ قائم کر رکھے تھے۔ ان میں سے ایک قاہرہ یونیورسٹی کے باہر تھا جو قدرے چھوٹا اور اپنے حجم کے اعتبار سے بڑا کیمپ رابعہ العدویہ مسجد کے باہر تھا۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

سکیورٹی آپریشن کے شروع ہونے پر فوج نے سینکڑوں ریت کے تھیلوں کو بھاری ٹرکوں پر لاد دیا تھا۔ اس کے علاوہ مظاہرین کی جانب سے تیار کردہ اینٹوں کی حفاظتی دیواروں کو بھی توڑ دیا۔ اس کام کے لیے فوج نے بلڈوزر کا استعمال کیا۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

یورپی یونین سمیت، ترکی، ایران، قطر اور برطانیہ نے احتجاجی کیمپوں پر سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن اور ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، سینکڑوں ہلاک

فوج کی مدد سے پولیس نے اس آپریشن کا آغاز بدھ کی صبح کیا۔ اگلے تین گھنٹوں کی بھرپور کارروائی کے بعد دونوں کیمپوں کو تقریباً خالی کرا لیا گیا اور احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا۔

ان حکمرانوں نے ہر اس نئی امید پسندی کا گلا گھونٹ دیا، جس کے تحت عوام کسی ’تبدیلی‘ کی امید کر سکتے تھے۔ نئی صدی کے آغاز پر شمالی افریقہ کی اس عرب ریاست میں عوام نے ایک بار پھر تبدیلی کی خواہش کی تھی، جو 2011ء میں عرب اسپرنگ کی صورت میں اپنے عروج کو پہنچ گئی تھی۔

پھر اس کے بعد سابق صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار میں آنے والے فوجی سربراہ السیسی جس طرح صدر منتخب ہوئے اور جو کچھ اس کے بعد سے اب تک مصر میں ہوا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی انقلاب کا تو کوئی ذکر ہی نہیں، اس ملک میں جو اصلاحات بھی متعارف کرائی جا سکتی تھیں، وہ بھی دوبارہ کسی جن کی طرح بوتل میں بند کر دی گئیں۔

آج کے مصر میں اب جو کچھ ہو گا، وہ بذات خود ایک تضاد ہے: آئینی ریفرنڈم کو وسیع تر عوامی تائید و حمایت حاصل نہیں ہو گی لیکن لگتا ہے کہ وہ پھر بھی کامیاب رہے گا اور ایک مطلق العنان حکومت اس ویک اینڈ کے بعد اور زیادہ مطلق العنان ہو جائے گی۔

کَیرسٹن کنِپ / م م / ع ح

مصر بدستور افراتفری کا شکار

مرسی کی دوبارہ بحالی کا مطالبہ

محمد مرسی کے ہزاروں حامی صدر کے عہدے سے اُن کی زبردستی معزولی کے ساتھ ساتھ نئی حکومت کے خلاف بھی اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ مرسی کی دوبارہ بحالی ہے۔ ان میں زیادہ تر اخوان السلمون کے کارکن ہیں۔ سڑکوں پر کیے جانے والے یہ مظاہرے اب احتجاجی کیمپوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

مصر بدستور افراتفری کا شکار

ڈھال کے طور پر ’ریت سے بھری ہوئی بوریاں‘

مرسی کے حامیوں اور فوج کے مابین تصادم کے دوران اب تک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رابعہ العدویہ مسجد کے باہر موجود یہ کیمپ ریت کی بوریوں کی وجہ سے محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بوریاں اور جنگلے فوج اور پولیس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کے دوران ڈھال کا کام کرتے ہیں۔

مصر بدستور افراتفری کا شکار

میرا ووٹ کہاں گیا؟

ہر کیمپ کے آغاز میں مرسی کی بڑی بڑی تصاویر اور احتجاجی بینرز آویزاں ہیں۔ ان میں سے کچھ پر تحریر ہے کہ ’’میرا ووٹ کہاں گیا‘‘ ؟ مرسی مصر میں عوام کی جانب سے منتخب کیے جانے والے پہلے صدر تھے۔ صدارتی انتخابات کے بعد بھی مصر میں مظاہرے کیے گئے تھے۔

مصر بدستور افراتفری کا شکار

احتجاجی کیمپ اور سہولیات

احتجاجی کیمپوں میں ہزاروں افراد ایسے ہیں، جو اپنے بنائے ہوئےخیموں میں مقیم ہیں۔ ان کیمپوں میں ایک بیکری، ایک مسجد جبکہ ایک پریس سینٹر کی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ یہاں پر اخوان المسلون کے متعدد اہم رہنما بھی موجود ہوتے ہیں۔ مرسی کے حامیوں کو کھانے پینے کی کوئی مشکل نہیں ہے۔

مصر بدستور افراتفری کا شکار

فوج کیمپوں کو ختم کرنا چاہتی ہے

ذرائع ابلاغ کے مطابق مصری فوج ان احتجاجی کیمپوں کو خالی کرانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کے لیے ان کیمپوں کو صاف پانی کی ترسیل، بجلی اور اشیاء کی فراہمی روک دی جائے گی۔ حکومت نے دھمکی بھی دی ہوئی ہے کہ ضرورت پڑنے پر کیمپوں کو طاقت کے بل پر بھی خالی کرایا جا سکتا ہے۔

مصر بدستور افراتفری کا شکار

مصالحت کی کوششیں ناکام

جولائی کے آغاز میں محمد مرسی کی معزولی کے بعد سے مصر کے عبوری صدر عدلی منصور یورپی یونین اور امریکا کے ساتھ مل کر فریقین کے مابین مصالحت کی کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ کوششیں بےنتیجہ رہی ہیں۔ عدلی منصور کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات شروع نہ ہونے کی تمام تر ذمہ داری اخوان المسلون پر عائد ہوتی ہے۔

مصر بدستور افراتفری کا شکار

تین شرائط

اخوان المسلون کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ مرسی کی جسٹس اینڈ ڈیویلمپنٹ پارٹی کے ایمن عبدالغنی کے بقول بات چیت کے لیے ان کی تین شرائط ہیں، صدر مرسی، پارلیمنٹ اور آئین کی دوبارہ بحالی۔

مصر بدستور افراتفری کا شکار

ادھوری امیدیں

2011ء میں عرب اسپرنگ سے جڑی امیدیں ابھی تک پوری نہیں ہو سکی ہیں۔ حسنی مبارک کے بعد امید تھی کہ مصر میں امن قائم ہو گا لیکن یہ ملک بدستور افراتفری کا شکار ہے۔

ہمیں فالو کیجیے