1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ممبئی حملے : بھارت اور پاکستان کے درمیان تعطل برقرار

افتخار گیلانی، نئی دہلی10 فروری 2009

بھارت کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی پر پچھلے سال ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے سبب بھارت اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی اور تعطل ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیں د ے رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/Gr0w
پچھلے سال نومبر میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بعد سے دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہےتصویر: Ap

دونوں ملکوں کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری ہے اور سفارتی پنگ پانگ کا کھیل میڈیا کے ذریعہ کھیلا جارہا ہے۔

بھارت نے ممبئی حملوں کے سلسلے میں پاکستان کو جو ڈوزیئر دئے تھے اس پر پاکستان کے غیرسرکاری ذرائع سے ملنے والی رپورٹ کو نئی دہلی نے مسترد کردیا ہے۔ بھارت کے نائب وزیر خارجہ آنند شرما نے کہا کہ ممبئی حملوں میں ملوث افراد کی شناخت ہوچکی ہے اور پاکستان کو چاہئے کہ معاملات کو الجھانے کے بجائے قصور واروں کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے بہتر یہ ہوگا کہ وہ کارروائی کرنے میں تاخیر نہ کرے اور معاملے کو توڑنے مروڑنے کی کوشش نہ کرے اور بین الاقوامی معاہدوں اوربین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔ بھارت نے اسے جو اطلاعات دی ہیں وہ جامع ہیں اور ڈوزیر کی بنیاد پر پوری طرح کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جائے اور ممبئی حملوں کے خطاکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

خیال رہے کہ جب سے پاکستان نے یہ اعلان کیا ہے کہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں تفتیش مکمل ہوگئی ہے بھارت اس کی رپورٹ کا انتظار کررہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بھارتی حکام کو غیرسرکاری سطح پر یہ رپورٹ موصول ہوگئی ہے لیکن بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ میڈیا اور دیگرغیرسرکاری ذرائع کے ذریعہ تفتیش کی جو رپورٹ یہاں پہنچی ہے بھارت اس کو مسترد کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد پاکستان سے باہر ہوئی تھی۔ اسٹریٹجک امور کے ماہر راجیو شرما نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا :’’ یہ کہنا جلے پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے کہ اس حملے میں پاکستان سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی بلکہ اس حملے کی منصوبہ بندی آسٹریا میں ہوئی اس کی فنڈنگ دبئی سے ہوئی اور اس میں بنگلہ دیش کے حرکت الجہاد اسلامی کا ہاتھ ہے۔‘‘

وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا کہ بھارت کے پاس ایسے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس حملے کی پوری منصوبہ بندی پاکستان کے اندر ہی ہوئی تھی۔ انہوں نے پاکستان سے کہا کہ وہ میڈیا کے ذریعہ اپنی رپورٹ دینے کی عادت سے باز آئے اور اس معاملے پر جلد سے جلد ٹھوس کارروائی کرے۔

راجیو شرما کا خیال ہے کہ چونکہ بھارت پاکستان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے کی پوزےشن میں نہیں ہے اس لئے پاکستان جواب دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چوتھائی صدی کے دوران یہ بات ثابت بھی ہوچکی ہے۔ کارگل معاملے میں بھی بھارت کو صرف اسلئے کارروائی کرنی پڑی کیوں کہ پاکستانی فوج بھارتی سرزمین میں داخل ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب متعدد معاملات میں امریکہ کا دباؤ اسلام آباد پر کام نہیں کررہا ہے تو بھارت کی کیا حیثیت ہے راجیو شرما کا خیال ہے کہ اگر پاکستان بھارت کے خدشات کو دور نہیں کرتا ہے تو نئی دہلی کے پاس 2002کی حالت میں آنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں رہے گا۔ یعنی بھارت پاکستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کردے۔ اگر ختم نہیں بھی کرے تو اسے اس میں کمی تو بہر حال کرنی ہی ہوگی کیوں کہ بھارت میں حکومت پر ایسے عناصر کا دباو بڑھتا جارہا ہے جو سمجھتے ہیں کہ امن کے لئے کبھی کبھی جنگ ضرور ی ہے۔

دریں اثنا بھارت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے القاعدہ کے ایک چوٹی کے کمانڈر کی طرف سے بھارت کے خلاف حملوں کی دھمکی دئے جانے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہے۔