1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مہاجرين سرد موسم ميں در بدر، نئے چيلنجز درپيش

عاصم سليم19 اکتوبر 2015

ہنگری کی جانب سے مغربی يورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرين کے ليے اپنی سرحديں بندکر دينے کے نتيجے ميں ہزارہا پناہ گزين سرد موسم اور دھند ميں در بدر پھر رہے ہيں۔ یوں ان مہاجرين ميں کشيدگی کا عنصر بھی بڑھ رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/1GqSY
تصویر: picture alliance/AA/A. Beno

مشرقی يورپی ملک ہنگری کی جانب سے سرحد کی بندش کے نتيجے ميں مغربی يورپ پہنچنے کی کوشش ميں مہاجرين اب متبادل راستے اختيار کر رہے ہيں۔ سلووينيہ نے بھی اعلان کر ديا ہے کہ يوميہ صرف 2,500 افراد کو ہی گزرنے ديا جائے گا۔ اس پيش رفت کے نتيجے ميں کروشيا اور سربيا پہنچنے والے ہزارہا پناہ گزين وہاں پھنس کر رہ گئے ہيں۔ سربيا اور کروشيا کی درميانی سرحد پر تنگ حال مہاجرين کے گروپوں ميں متعدد جھڑپوں اور کشيدگی کی رپورٹيں بھی موصول ہو رہی ہيں۔

ہنگری کی حکومت نے سکيورٹی سے متعلق خدشات کے سبب کروشيا کے ساتھ لگنے والی سرحد کی بندش کا فيصلہ کيا اور اس کے نتيجے ميں پچھلے ہفتے سے مہاجرين کو بلقان رياستوں سے گزرنے والا اپنا راستہ تبديل کرنا پڑ گيا۔ سلووينيہ کے حکام نے کروشيا کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ يوميہ پانچ ہزار مہاجرين کو اپنے ملک میں داخل ہونے دے۔ اس پيش رفت کے نتيجے ميں پناہ گزينوں کو مزيد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ سلووينيہ کی وزارت داخلہ کے ايک اہلکار Bostjan Sefic نے کہا ہے کہ ان کا ملک يوميہ بنيادوں پر اتنے ہی پناہ گزينوں کو گزرنے دے سکتا ہے، جتنے پڑوسی ملک آسٹريا نے مقرر کيے ہيں۔ آسٹريا نے يوميہ ڈيڑھ ہزار مہاجرين کی اجازت دے رکھی ہے۔

حاليہ واقعات کے نتيجے ميں تقريباً پانچ ہزار پناہ گزينوں کو سلوينيہ روانگی سے قبل مشرقی کروشيا ميں Opatova کے مقام پر واقع ايک کيمپ ميں انتہائی سخت سردی، بارش اور دھند ميں رات گزارنی پڑ رہی ہے۔

ادھر سربيا ميں بھی مہاجرين کا جم غفیر موجود ہے۔ محمد سمين نامی ايک افغان پناہ گزين نے بتايا، ’’ہم کئی گھنٹوں سے بس ہی ميں انتظار کر رہے ہيں۔ موسم انتہائی سرد ہے اور ہميں کئی قميضيں پہننا پڑ رہی ہيں۔ ہمارے ساتھ بچے بھی ہيں۔ کھانے پينے کا کوئی انتظام نہيں۔‘‘

Flüchtlinge Grenze Slovenien
تصویر: picture alliance/AA/A. Beno

اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين UNHCR کی جانب سے متنبہ کيا گيا ہے کہ ہنگرين حکومت کے حاليہ اقدام سے مہاجرين کی مشکلات ميں اضافہ ہوا ہے اور اس سبب ترکی، يونان، مقدونيہ، سربيا اور کروشيا سے گزرنے والے راستوں پر کافی لوگ جمع ہو سکتے ہيں۔

وسطی يورپ کے ليے UNHCR کے ترجمان بابر بلوچ نے کہا کہ سلووينيہ سے گزرنے والے نئے راستے کی وجہ سے پناہ گزينوں کا مغربی يورپ تک کا پہلے ہی طويل سفر مزيد طويل ہو گيا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر مہاجرين کی پيش قدمی کی رفتار کم ہوتی ہے يا کسی مقام پر رکاوٹ آتی ہے، تو متعدد نئے چيلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہنگری کی جانب سے بارڈر بند کرنے کا حاليہ فيصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مہاجرين کے بحران سے نمٹنے ميں يورپی يونين کے رد عمل غير مربوط رہا ہے۔