1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نئی فلم ’سلیکستان‘، پاکستان میں پابندی

28 جنوری 2011

اسلام آباد حکام نے پاکستانی نژاد برطانوی ہدایتکارحماد خان کی نئی فلم ’سلیکستان‘ کی نمائش پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فلم میں شراب نوشی کے مناظر دکھانے کے علاوہ ’غیرشائشتہ‘ زبان بھی استعمال کی گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/106KN
تصویر: dpa

پاکستان میں اس فلم کی نمائش پر پابندی کے بعد حماد خان کہتے ہیں کہ وہ سینسر بورڈ کی طرف سے اٹھائے جانے والےاعتراضات کے بعد اپنی فلم میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’ میرے خیال میں اس فلم میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ اس فلم میں کوئی سیاست، گھٹیا پن یا سیکس نہیں دکھایا گیا۔‘

حماد خان کے بقول،’ پاکستان سنیما گھروں میں ہالی اور بالی ووڈ کی اسی طرح کی فلمیں بغیر کسی سینر کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔‘

دوسری طرف اس فلم کے مداحوں نے پاکستان میں اس کی پابندی پر احتجاج کیا ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کی ایک معقول تعداد نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک پر اپنے اس غصے اور برہمی کا اظہار بھی کیا۔

Protest gegen Bollywood Film Girlfriend in Indien
حماد کے بقول دیگر غیر ملکی فلموں کو بغیر سینسر کیے پیش کیا جا رہا ہےتصویر: AP

اس فلم کی کہانی 20 افراد پر مشتمل ہے، جو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اپنے روز وشب بسر کرتے ہیں۔ اس فلم کے کردار اپنی زندگی کی یکسانیت سے بور اور نالاں بھی ہیں اور ساتھ ہی وہ اس یکسانیت سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔

اس فلم کے ہدایتکار برطانیہ میں مقیم پاکستانی فلم میکر حماد خان ہیں اور اس فلم کی موسیقی بھی پاکستانی نوجوان موسیقاروں نے ترتیب دی ہے، جسے کافی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ یہ فلم دبئی، نیویارک، سان فرانسیسکواور گوا کے علاوہ لندن کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جا چکی ہے۔

حماد خان نےاس فلم سے حاصل ہونے والے منافع کا ایک حصہ پاکستان میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بھی دیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال پاکستانی فلم سینسر بورڈ نے ایک مزاحیہ فلم ’تیرے بن لادن‘ پر بھی پابندی عائد کی تھی تاہم بعد ازاں اسے سنیما گھروں میں نمائش کی اجازت دے دی تھی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں