نئی کشیدگی کا نتیجہ: جرمنی کا ترکی کے خلاف اقدامات کا اعلان

ترکی میں انسانی حقوق کے جرمن کارکن پیٹر شٹوئڈنر کی گرفتاری کے باعث پیدا ہونے والی نئی دوطرفہ کشیدگی کے تناظر میں وفاقی جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے ترکی کے خلاف متعدد اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔

جرمن دارالحکومت برلن سے جمعرات بیس جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق جرمن وزیر خارجہ نے آج اعلان کیا کہ جرمنی ترکی کے خلاف کئی ایسے اقدامات کرے گا، جو اس بات کا ردعمل ہوں گے کہ ترک حکام نے انسانی حقوق کے سرکردہ جرمن کارکن کو شٹوئڈنر کو حراست میں لے رکھا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل

انقرہ اور برلن کے مابین کئی مختلف وجوہات کی بنا پر ماضی قریب میں بھی کافی زیادہ اختلاف رائے دیکھنے میں آیا تھا، جس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ پہلے تو جرمنی نے ترکی میں چند ماہ پہلے ہونے والے ریفرنڈم سے قبل انقرہ حکومت کے ایک سے زائد وزراء کو اپنے ہاں ترک نژاد شہریوں کے سیاسی اجتماعات سے خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

پھر ترک صدر ایردوآن نے یہ کہہ دیا تھا کہ موجودہ جرمن حکومت ’نازی دور کے ہتھکنڈے‘ استعمال کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ جی ٹوئنٹی کی سربراہی کانفرنس کے موقع پر بھی برلن حکومت نے ترک صدر کی یہ درخواست مسترد کر دی تھی کہ انہیں جرمنی میں ترک شہریوں سے خطاب کی اجازت دی جائے۔

ترکی میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی مدت حراست میں توسیع

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت، ایک سال بیت گیا

جرمنی نے ترک صدر کی درخواست مسترد کر دی

اس کے علاوہ ترکی میں کئی مہینے قبل ایک جرمن جریدے کے نامہ نگار اور ترک نژاد جرمن صحافی ڈینیز یُوچَیل کی دہشت گردی کی حمایت کے الزام میں گرفتاری بھی دونوں ملکوں کے مابین ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، جو ابھی تک حل نہیں ہوا۔

ترکی میں زیر حراست انسانی حقوق کے جرمن کارکن پیٹر شٹوئڈنر

برلن اور انقرہ کے مابین تازہ ترین سیاسی اور سفارتی بدمزگی کی وجہ ترکی میں انسانی حقوق کے جرمن کارکن شٹوئڈنر کی گرفتاری بنی۔ اس جرمن شہری کو ترکی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈائریکٹر اور چند دیگر افراد کے ہمراہ پولیس نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے اور ایک ترک عدالت نے اسی ہفتے ان افراد کی حراست کی مدت میں توسیع بھی کر دی تھی۔

ایک جرمن شہری سمیت ان چھ زیر حراست افراد پر ترک حکام نے ایک ایسی دہشت گرد تنظیم کی حمایت کا الزام لگایا ہے، جس کا انقرہ کی طرف سے کوئی نام بھی نہیں بتایا گیا۔

موضوعات

اس تناظر میں جرمن وزیر خارجہ کا جمعرات کے روز دیا جانے والا بیان دونوں ممالک کے مابین کھچاؤ میں اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جرمنی بھی، جو کہ ترکی کی طرح نیٹو کا ایک رکن ملک اور انقرہ کا اتحادی بھی ہے، اب بڑھتی ہوئی دوطرفہ کشیدگی میں اپنی طرف سے زیادہ سخت موقف کی طرف بڑھنے لگا ہے۔

برلن حکومت ترکی میں زیر حراست ترک نژاد جرمن صحافی ڈینیز یوچیل کی رہائی کا کئی بار پرزور مطالبہ کر چکی ہے

’گولن سے روابط‘: ترکی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ کی گرفتاری

کئی ترک فوجی اہلکاروں، اہل خانہ کو ’جرمنی نے پناہ دے دی‘

ترک ریفرنڈم میں خامیاں تھیں، بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹ

زیگمار گابریئل نے اس حوالے سے برلن میں کہا کہ جرمنی ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی خواہش کے بارے میں اس بلاک میں اپنے ساتھی ممالک سے بھی بات چیت کرے گا اور برلن اب اس بات کی ضمانت بھی نہیں دے سکتا کہ بڑے جرمن کاروباری ادارے ترکی میں سرمایہ کاری کریں گے۔

جرمن وزیر خارجہ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اب ان کے لیے یہ سوچنا محال ہے کہ یورپی یونین ترکی کے ساتھ کسٹمز یونین میں توسیع سے متعلق کوئی مذاکرات کرے گی۔ اسی کے علاوہ گابریئل نے جرمن شہریوں کے نام ایک نئی تنبیہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جرمنوں کے لیے ترکی کا سفر خطرات سے خالی نہیں ہے۔

روئٹرز کے مطابق وزیر خارجہ گابریئل نے برلن میں صحافیوں کو بتایا، ’’ہمیں ضرورت ہے کہ ترکی سے متعلق ہماری پالیسیاں اب ایک نئی سمت میں جائیں۔ اب ہم پہلے والی حکمت عملی پر عمل پیرا نہیں رہ سکتے۔ ہمیں اب تک کے مقابلے میں اپنی بات زیادہ واضح طور پر کہنا ہو گی تاکہ انقرہ کے پالیسی ساز یہ سمجھ سکیں کہ ان کی موجودہ پالیسیوں کے پھر نتائج بھی نکلیں گے۔‘‘

زیگمار گابریئل نے مزید کہا کہ انہوں نے ترکی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے جرمنی کی جن نئی پالیسیوں کا اعلان کیا ہے، ان سے سربراہ حکومت کے طور پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی پوری طرح اتفاق کر  چکی ہیں۔

’ترکی میں مارشل لاء‘ عوام راستے میں آ گئے

عوام سڑکوں پر

ترکی میں فوج کے ایک گروہ کی طرف سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے دوران ہی عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

’ترکی میں مارشل لاء‘ عوام راستے میں آ گئے

لوگ ٹینکوں پر چڑھ دوڑے

خبر رساں اداروں کی طرف سے جاری کردہ تصاویر کے مطابق انقرہ میں فوجی بغاوت کے مخالفین عوام نے ٹینکوں پر حملہ کر دیا۔

’ترکی میں مارشل لاء‘ عوام راستے میں آ گئے

عوام میں غصہ

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ہفتے کی علی الصبح ہی انقرہ میں فوجی بغاوت کے خلاف لوگوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر آ گئی۔

’ترکی میں مارشل لاء‘ عوام راستے میں آ گئے

کچھ لوگ خوش بھی

خبر رساں اداروں کے مطابق جہاں لوگ اس فوجی بغاوت کی کوشش کے خلاف ہیں، وہیں کچھ لوگ اس کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔

’ترکی میں مارشل لاء‘ عوام راستے میں آ گئے

ایردوآن کے حامی مظاہرین

ترک صدر ایردوآن نے موبائل فون سے فیس ٹائم کے ذریعے سی این این ترک نیوز ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے عوام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بغاوت کی یہ کوشش مختصر وقت میں ہی ناکام بنا دی جائے گی۔

’ترکی میں مارشل لاء‘ عوام راستے میں آ گئے

کرفیو کا نافذ

ترکی کے سرکاری براڈ کاسٹر کی طرف سے نشر کیے گئے ایک بیان کے مطابق فوج نے ملک کا نظام سنبھال لیا ہے۔ بغاوت کرنے والے فوجی گروہ نے جمعے کی رات ہی اس نشریاتی ادارے کو اپنے قابو میں کر لیا تھا۔

’ترکی میں مارشل لاء‘ عوام راستے میں آ گئے

ٹینک گشت کرتے ہوئے

انقرہ کی سڑکوں پر رات بھر ٹینک گشت کرتے رہے۔

’ترکی میں مارشل لاء‘ عوام راستے میں آ گئے

جنگی جہاز اڑتے ہوئے

استنبول میں جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات جیٹ طیارے نیچی پرواز کرتے رہے۔

’ترکی میں مارشل لاء‘ عوام راستے میں آ گئے

ہیلی کاپٹرز سے نگرانی

بغاوت کرنے والے فوجی گروہ نے کہا ہے کہ ملک میں امن کی خاطر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ رات کے وقت ایک ہیلی کاپٹر پرواز کرتے ہوئے۔

’ترکی میں مارشل لاء‘ عوام راستے میں آ گئے

عالمی برداری کی مذمت

ترکی کی موجودہ صورتحال پر عالمی برداری نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک کا کہنا کہ ترکی کی جمہوری حکومت کا ساتھ دیا جائے گا۔

’ترکی میں مارشل لاء‘ عوام راستے میں آ گئے

ترک صدر محفوظ ہیں

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ’فوج کے اندر ایک چھوٹے سے ٹولے‘ کی طرف سے کی گئی یہ بغاوت ناکام بنا دی جائے گی۔

ہمیں فالو کیجیے