نصف سے زائد جرمن باشندے موٹاپے کا شکار، وجہ ’چار سو گرام‘

جرمن باشندوں کی نصف سے زیادہ تعداد کا جسمانی وزن معمول سے بہت زیادہ ہو چکا ہے اور وہ واضح طور پر موٹاپے کا شکار ہے۔ اگر آپ جرمنی میں کسی عام سپر مارکیٹ میں جائیں، تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

جرمنی جیسے ملک میں، جو یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، مردوں اور خواتین کی اکثریت کے جسمانی وزن کا موٹاپے کی حد تک زیادہ ہونا اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جرمن سیاستدان ملک میں اشیائے خوراک تیار کرنے والی صنعت کو اس امر کا پابند بنانے میں ناکام رہے ہیں کہ اسے زیادہ صحت بخش اشیائے خوراک تیار کرنا چاہییں۔

غذائی امور پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے بقول جرمنی کو اس وقت جس مسئلے کا سامنا ہے، اس کی شناخت کوئی مشکل کام نہیں: وزن چار سو گرام اور قیمت انتہائی پرکشش۔ مراد کئی طرح کے پنیر اور مختلف قسموں کے گوشت سے تیار کردہ وہ منجمد پیزا ہے، جس کی جرمنی میں سینکڑوں قسمیں عام سٹوروں سے خریدی جا سکتی ہیں۔

اس طرح کا پیزا اور ایسی دیگر اشیائے خوراک ’فروزن فوڈ‘ کے زمرے میں آتی ہیں، جنہیں گھر پر چند منٹوں میں مائیکروویو اوون میں تیار کر لیا جاتا ہے اور جو بہت لذیذ بھی ہوتی ہیں۔ لیکن ایسی خوراک صحت مند ہرگز نہیں ہوتی۔

یہ سستا اور مزیدار پیزا مسئلہ اس لیے بن جاتا ہے کہ اسے کھایا تو ایک ہی بار جاتا ہے مگر اس میں کیلوریز اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ وہ کسی بھی بالغ شہری کے دو وقت کے کھانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ لیکن ایسا پیزا عام طور پر آدھا تو کوئی بھی نہیں کھاتا۔

ان حالات اور بہت سے شہریوں کی طرف سے باقاعدگی سے ورزش کی کمی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب جرمنی میں 52 فیصد باشندے موٹاپے کا شکار ہیں۔

جرمنی کی طرح اس وقت پوری دنیا میں بھی ایسے انسانوں کی تعداد زیادہ ہے، جن کا جسمانی وزن صحت مند وزن سے زیادہ ہوتا ہے، یا جنہیں طبی طور پر موٹاپے کا شکار قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایسے انسانوں کی تعداد کم ہے، جن کا جسمانی وزن صحت مند اوسط سے کم ہوتا ہے۔

کئی یورپی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت عالمی سطح پر ’انڈر ویٹ‘ انسانوں کی نسبت ’اوور ویٹ‘ انسان زیادہ بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، جنہیں اپنے کھانے پینے کی عادات میں ہنگامی بنیادوں پر بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

جرمنی کے وفاقی دفتر شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق قریب دو عشرے قبل 1999ء میں 48 فیصد جرمن باشندے موٹاپے کا شکار تھے۔ تب خواتین میں موٹاپے کی شرح 40 فیصد بنتی تھی اور مردوں میں 56 فیصد۔ لیکن گزشتہ برس کے اختتام تک موٹاپے کے شکار جرمنوں کا ملکی آبادی میں مجموعی تناسب بڑھ کر 52 فیصد ہو چکا تھا۔

اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ 2017ء میں 43 فیصد خواتین زیادہ جسمانی وزن کا شکار تھیں لیکن مردوں میں موٹاپے کی یہی شرح بہت زیادہ ہو کر 62 فیصد ہو چکی تھی۔

اولیور پِیپر / م م / ع ا

موضوعات

سست الوجود لوگوں کے لیے وزن میں کمی کی 7 تجاویز

چيوئنگ گم چبائیں

زیادہ تر لوگ بسکٹ یا چھوٹی موٹی نمکین اور میٹھی چیزیں اس لیے نہیں کھاتے کہ اُنہیں بھوک لگتی ہے بلکہ اس لیے کہ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ چباتے رہنا چاہتے ہیں۔ چيوئنگ گم سے ایسا کرنے کی عادت کم ہو سکتی ہے۔

سست الوجود لوگوں کے لیے وزن میں کمی کی 7 تجاویز

کافی پئیں

کافی پینے سے کھانا جلدی ہضم ہوتا ہے اور اس سے زیادہ کیلوریز جلتی ہیں۔ تین گھنٹے کے لیے تو کافی مدد کر ہی سکتی ہے۔ اگر کافی پسند نہیں تو چائے پئیں۔

سست الوجود لوگوں کے لیے وزن میں کمی کی 7 تجاویز

ذہنی تناؤ سے بچیں

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ذہنی دباؤ میں رہنے والی خواتین کو موٹاپے کے مسئلے کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پُرسکون مزاج والی خواتین دیگر کے مقابلے میں روزانہ 104 کیلوریز زیادہ جلا پاتی ہیں۔

سست الوجود لوگوں کے لیے وزن میں کمی کی 7 تجاویز

پاؤں تھركانا ...

... بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔ جب موسیقی سنیں تو گیت کی دُھن پر پاؤں تھركانا نہ بھولیں۔ اس سے جسم میں ورزش کرنے جتنی تو نہیں لیکن کچھ کیلوریز تو ضرور جلیں گی۔

سست الوجود لوگوں کے لیے وزن میں کمی کی 7 تجاویز

بس 10 منٹ

سستی کی وجہ سے اگر آپ ہر روز ورزش کے لیے ایک گھنٹہ نہیں دے سکتے تو دَس منٹ تو نکال ہی سکتے ہیں۔ محض دس منٹ کی سیر ایک گھنٹے تک کے لیے کیلوریز جلانے میں مدد دیتی ہے۔

سست الوجود لوگوں کے لیے وزن میں کمی کی 7 تجاویز

گیند پر بیٹھیں

اگر آپ دن بھر دفتر میں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، تو ایک سٹیبلٹی بال خرید لیں۔ کرسی پر بیٹھنے کی مقابلے میں اس طرح کی گیند پر بیٹھنے سے دن بھر میں 260 تک کیلوریز جلائی جا سکتی ہیں۔

سست الوجود لوگوں کے لیے وزن میں کمی کی 7 تجاویز

مصالحے دار کھانا

مصالحے نہ صرف کھانے کے ذائقے کو بڑھاتے ہیں بلکہ ایک طرح سے وزن میں کمی کا بھی سبب بن سکتے ہیں۔ مصالحے دار کھانا کھانے سے کیلوریز بھی جلتی ہیں اور بہت جلد ایسا بھی لگنے لگتا ہے کہ پیٹ بھر گیا ہے اور تب آپ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔

ہمیں فالو کیجیے