1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ننگرہار میں داعش کو شکست دے دی ہے، افغان حکام

10 نومبر 2019

افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے ایک اہم مشرقی صوبے میں جہادی تنظیم داعش سے منسلک گروپ کو شکست دی جا چکی ہے۔

https://p.dw.com/p/3SnfY
Afghanistan Kapitulation von Taliban und IS
تصویر: picture-alliance/Xinhua/E. Waak

افغان صوبے ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں قائم مقام وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے اتوار دس نومبر کو صحافیوں کو بتایا کہ  ننگرہار میں داعش کے مرکزی ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ اندرابی کے مطابق جہادیوں کے خلاف کارروائیوں میں داعش کو شکست دی جاچکی ہے۔

داعش کا صفایا کرکے چھوڑیں گے: صدر اشرف غنی
پاک افغان سرحد کے قریب واقع افغان صوبے ننگرہار اور کنڑ میں جہادی تنظیم داعش کے جنگجو سن 2015 سے موجود ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں داعش کی جانب سے افغانستان بھر میں متعدد بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی گئی جن میں کابل کے ایک شادی ہال میں خودکش حملہ بھی شامل ہے۔ اس خوفناک حملے میں کم از کم تریسٹھ افراد ہلاک اور ایک سو اسی سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ 

Afghanistan Kabul Anschlag auf Hochzeitsfeier
تصویر: AFP/W. Kohsar


داعش کے خلاف نہ صرف امریکی اور افغان فورسز بلکہ طالبان کی طرف سے بھی عسکری کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔
مسعود اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ داعش کے آخری ٹھکانے بھی تباہ کر دیے جائیں گے اور عوام کی مدد سے اس گروپ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ داعش کے جنگجو خود کو قانون کے حوالے کر رہے ہیں۔

البغدادی کی موت کی تصدیق، داعش کا نیا سربراہ ابراہیم القریشی
دوسری جانب افغانستان میں داعش کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی امریکی فورسز نے افغان قائم مقام وزیر داخلہ کے اس بیان پر رد عمل کا اظہار کرنے سے گریز کیا ہے۔
علاوہ ازیں ننگرہار کے گورنر کے ترجمان ن عطااللہ خوگیانی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ داعش کے 32 جنگجوؤں نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔

Pentagon PK Veröffentlichung Bildmaterial al-Baghdadi Einsatz
تصویر: US Department of Defense


واضح رہے ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا عربی میں مختصراﹰ داعش کہلانے والی اس جہادی تنظیم کو اس کی قیادت کے لحاظ سے حال ہی میں بہت بڑا نقصان پہنچا تھا۔ گزشتہ ماہ ستائیس اکتوبر کو شمال مغربی شام میں امریکی اسپیشل فورسز کے ایک آپریشن کے دوران اس دہشت گرد گروپ کا سربراہ ابوبکر البغدادی مارا گیا تھا۔ اب اس جہادی تنظیم کے بچے کچھے جنگجوؤں کا اثر و رسوخ محدود ہوتا جا رہا ہے۔

ع آ / ا ب ا (نیوز ایجنسیاں)