وہ در پہ دستک ہے زندگی کی

تقریباﹰ ڈھائی صدیاں پہلے مائیکل انڈرووڈ نامی ایک ماہر طب نے لاعلاج امراض کی فہرست میں ایک نئی بیماری شامل کرائی تو دنیا چونک اٹھی۔ بعدازاں امریکا اور یورپ اس بیماری سے شدید متاثر ہوئے تو تحقیق کا پیمانہ بھی وسیع ہو گیا۔

اس کے ایک سو انیس سال بعد 1908ء میں آسٹرین سائنسدان کارل لانڈ شٹائنر نے دن رات ایک کر کے اس مرض کا وائرس دریافت کر لیا مگر علاج کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔  بیماری پریشان کن تھی مگر علاج تلاش کرتے کرتے مزید نصف صدی گزر گئی۔ سن 1950ء کی دہائی میں جوناس ایڈورڈ سالک اور ہیلری کوپروسکی پہلی مدافعتی ویکسین بنانے میں کامیاب ہوگئے تو صرف دو سال کی مدت میں یہ دوا 70 لاکھ بچوں کو پلا  دی گئی۔ سن 1962ء میں امریکی ادارہ صحت نے تحقیق کے بعد البرٹ سبین کی تیار کردہ دوا کو زیادہ موثر قرار دیتے ہوئے کامیابی کی سند عطا کی تو یہ دوا امریکا اور یورپ سمیت پوری دنیا میں متعارف ہوتی چلی گئی۔

منزلیں طے کرتے یہ دوا سن 1974ء میں پاکستان میں بھی پہنچ گئی۔ اسے دیہی و شہری علاقوں میں ہر گھر تک پہنچانے کی کوشش کا آغاز ہو گیا مگر بیماری تھی کہ کہیں نہ کہیں نمودار ہو کر اپنے خاتمے کی ان تدبیروں اور محنتوں پہ پانی پھیرتی رہی۔  جی ہاں یہ پو لیو کا ہی قصہ ہے۔ پھر ہوا یوں کہ سن 1998ء  میں جا کر یہ سمجھ آنا شروع ہوا کہ ناکامی کے اسباب میں دور دراز کے مقامات تک رسائی نہ ہونے یا طویل اور دشوار گزار علاقوں میں طبی عملے کے نہ پہنچ پانے کا عمل دخل بھی ہے اور مقامی لوگوں تک اطلاع نہ پہنچنے یا ان کی جانب سے دوا کو غیر ضروری خیال کرنا بھی شامل ستم رہا ہے۔ گرم موسم میں برف کی عدم دستیابی سے دوا بے اثر ہوئی تو کہیں انتظامی مسائل بھی آڑے آئے اور پولیو کی بیماری حکومتی چھاتی پہ مونگ دلتی رہی۔

اس دوران یہ افواہ بھی متعدد انسانی کانوں سے چپک گئی کہ پولیو ویکسین مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کا کوئی منصوبہ ہے، تبھی مغربی اقوام ہر پاکستانی بچے کو پلانے پر اتنا اصرار کر رہی ہیں۔ چونکہ ویکسین پولیو کے زندہ مگر کمزور کردہ وائرس کی حامل ہوتی ہے اس سے ایک اور بد گمانی نے سر اٹھایا کہ دانستہ کوئی مہلک وائرس پھیلایا جا رہا ہے۔ سادہ لوح یا کم تعلیم یافتہ طبقے کے لیے بھلا اس سے بڑی خطرے کی گھنٹی اور سازش کیا ہو سکتی ہے؟  پھر عام دیہاتی تو رہے ایک جانب، تعلیم یافتہ شہریوں نے بھی اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرنا شروع کر دیا۔  

معصوم بچوں کو مستقل معذوری سے بچانے کی پاداش میں سن 2013ء  اور سن 2014 ء  کے دوران چھیاسٹھ پولیو رضاکار قتل کر دیے گئے۔ پندرہ اور سولہ جون 2014ء  کو اسلام آباد میں بین الاقوامی علماء کانفرنس میں اسلامی ترقیاتی بینک، جامعہ الازھر، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور بین الاقوامی فقہ اکادمی کے علاوہ دیگر علماء نے ایک مشترکہ فتویٰ جاری کیا کہ  پولیو جیسے موذی مرض پر قابو پانا بچوں کو یہ قطرے پلانے سے ہی ممکن ہے۔ پولیو کے قطروں کے حلال ہونے اور پولیو کے خاتمے کی مہم کے حق میں اس سے ملتے جلتے فتوے امام مسجد اقصیٰ، اسلامی نظریاتی کونسل، دارالعلوم دیو بند، جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور مبینہ طور پر جنوبی وزیرستان کے طالبان تک نے دے دیے۔ اس ضمن میں قاضی حسین احمد، اور مولانا سمیع الحق سے لیکر مریم نواز شریف، آصفہ بھٹو زرداری اور عمران خان سب ایک ہی صفحے پر دکھائی دیتے چلے آئے لیکن شک کا بیج عوام کے ذہنوں میں لہلہاتی بدگمانی کی کھیتیوں میں کچھ ایسی جڑ پکڑ گیا کہ یہ فتاویٰ، آگاہی کی مہمات اور سب تدبیریں آج تک مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پائیں۔

سال 2015ء  میں 53، سال 2016ء  میں 20 جبکہ سال 2017ء  سے 2018ء  کے دوران پولیو سے متاثر ہونے کے آٹھ واقعات اگرچہ تعداد میں قلیل تھے لیکن دنیا کے صرف تین ممالک نائجیریا اور افغانستان کے ساتھ پاکستان میں پولیو کی موجودگی قومی پیشانی پہ ندامت کا داغ، عالمی تشویش اور جگ ہنسائی کا باعث بھی ہے۔

ماضی میں بجلی کے جھٹکے سہتے اور آہنی پھیپھڑوں جیسی دل دہلا دینے والی مشینوں میں جکڑے علاج کے متمنی پولیو زدہ مریض نہ جانے کیوں موبائل فون کے جام جم میں جھانکتی نگاہوں اور سب کچھ جاننے کے خواہش مندوں سے اوجھل ہیں۔ جس کارل لانڈ شٹائنر کے دریافت کردہ خون کے گروپ آج انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اسی نے ہی پولیو کا وائرس بھی دریافت کیا تھا تو اس کی ایک بات پہ یقین اور دوسری پہ شک چہ معنی دارد؟

ایک ثابت شدہ مفید طبی تحقیق اور جید مذہبی، سیاسی و سماجی رہنماوں کی تائید و حمایت کے بعد پولیو کے قطروں کو کسی کی سازش قرار دینا غیرمنطقی بدگمانی اور بے جا ضد کے زمرے میں آئے گا۔ اس کی اجازت نہ تو عقل دیتی ہے اور نہ ہی بیساکھیوں پہ چلتے معذور بچے۔ پولیو کا وائرس زندہ اور توانا رہا تو وہ کسی کا گھر بھی دیکھ سکتا ہے۔

اپنی جان ہتھیلی پہ رکھے اساتذہ اور دیگر پولیو رضا کار گرمی سردی سے بے نیازکوچہ کوچہ اور در بہ در ایک ایک معصوم حلق میں آب حیات سا تریاق ٹپکانے آتے ہیں۔ گھروں کے دروازوں پر ان کی آمد احترام و شکریے کی مستحق ہے نہ کہ حقارت بھری آنکھوں اور تلخ لہجوں سے اگلے ہمسائے کی جانب دھکیل دینے کی۔ بلاشبہ ہمارے بچوں کی خاطر، وہ در پہ دستک ہے زندگی کی۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ہمیں فالو کیجیے