’ٹرمپ کو نوبل انعام کے ليے نامزد امريکا کے کہنے پر کيا گيا‘

ايک جاپانی اخبار کے مطابق ٹرمپ کو امريکا ہی کی درخواست پر اس سال کے نوبل امن انعام کے ليے نامزد کيا گيا ہے جبکہ جمعے کو ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کيا تھا کہ انہيں شمالی کوريا کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پر نامزد کيا گيا ہے۔

رواں برس کے نوبل انعام برائے امن کی نامزدگیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور ان میں امریکی صدر کا نام بھی شامل ہے۔ نوبل امن انعام کا اعلان رواں برس اکتوبر میں کیا جائے گا۔ معتبر جاپانی اخبار آساہی نے رپورٹ کیا ہے کہ جاپانی وزیراعظم شینزو آبے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل پرائز کے لیے امریکا ہی کی درخواست پر نامزد کیا ہے۔ جاپانی اخبار نے بغیر نام ظاہر کیے بغير ملکی حکومت کے ایک ذریعے کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے۔ اخباری رپورٹ پر امریکی رد عمل ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے رپورٹرز کو بتایا کہ شیزو آبے نے اُن کی نوبل انعام کی نامزدگی کے لیے پانچ صفحات تحریر کیے ہیں۔ ٹرمپ نے نامزدگی کی اِس تحریر کو انتہائی خوبصورت بھی قرار دیا۔ امریکی حکومت کے مطابق جاپانی وزیراعظم نے گزشتہ برس جون میں ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی لیڈر چیرمین کم جونگ اُن کی سنگاپور میں ہونے والی پہلی سمٹ کی بنیاد پر یہ تجویز کیا ہے۔ نامزدگی کی تحریر میں اس سمٹ کو عالمی امن کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا۔ یہ امر اہم ہے کہ انہی دونوں لیڈروں کے درمیان ایک اور سمٹ رواں برس فروری کے اختتام پر ہو رہی ہے۔

نوبل امن انعام کا اعلان ہر سال اکتوبر میں کیا جاتا ہے

جاپانی وزارت خارجہ کی جانب سے امریکی صدر کے جمعے کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا  گیا کہ ٹوکیو حکومت اس صورت حال سے آگاہ ہے۔ البتہ اس بارے ميں کوئی بيان جار ی کرنے يا تبصرہ کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق جاپانی وزارت خارجہ نے اس طرح اخباری رپورٹ کے انکشاف پر بھی ردعمل ظاہر کرنے سے پہلو بچایا ہے۔

نوبل فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر واضح ہے کہ کوئی بھی شخص کسی ایسے شخص کو امن پرائز کے لیے نامزد کر سکتا ہے، جو معیارات پر پورا اترتا ہو۔ یہ معیارات ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ ہر سال کئی ملکوں کے لیڈروں کو نوبل پیس پرائز کے ليے نامزد کيا جاتا ہے۔ ان نامزدگیوں کو پچاس برس کے بعد ظاہر کیا جاتا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما کو سن 2009 میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ ان کے علاوہ سن 1906 میں صدر تھیوڈور روزویلٹ کو روسی پانی جنگ ختم کرانے کی کوششوں پر اور پھر سن 1919 میں صدر ووڈرو ولسن کو ’لیگ آف نیشنز‘ کے قیام پر نوبل امن پرائز دیا گیا تھا۔ لیگ آف نیشنز کو موجودہ اقوام متحدہ کی اساس خیال کیا جاتا ہے۔

دو بار نوبل انعام یافتہ سائنسدان خاتون مادام کیوری، ایک مثال

اساتذہ کے خاندان میں پرورش

میری کیوری کے نام سے شہرت پانے والی ماریا سکلوڈووسکا کے والد ریاضی اور فزکس کے استاد تھے۔ جبکہ اُن کی والدہ لڑکیوں کے ایک بورڈنگ اسکول کی نگران ٹیچر تھیں۔

دو بار نوبل انعام یافتہ سائنسدان خاتون مادام کیوری، ایک مثال

سب کچھ تعلیم کے لیے

میری کیوری کی والدہ برونِسلاوا سکلوڈووسکا نے اپنی تمام عمر تعلیم کے شعبے کے لیے وقف کر دی تھی۔ جب برونِسلاوا سکلوڈووسکا کا انتقال ہوا، اُس وقت میری کیوری صرف تیرہ برس کی تھیں۔

دو بار نوبل انعام یافتہ سائنسدان خاتون مادام کیوری، ایک مثال

تعلیم تک رسائی صرف لڑکوں کے لیے

سن 1883 میں پندرہ برس کی عمر میں میری کیوری نے ثانوی اسکول کی تعلیم مکمل کر لی۔ لیکن ایک لڑکی ہونے کے ناطے پولینڈ میں انہیں یونیورسٹی جانے کی اجازت نہیں تھی۔ چونکہ میری کے والد انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر بھیجنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، میری نے خفیہ طور پر لگائی جانے والی کلاسیں لینا شروع کر دیں۔

دو بار نوبل انعام یافتہ سائنسدان خاتون مادام کیوری، ایک مثال

پیرس میں تعلیم اور تابکاری کی دریافت

سن 1891 میں ایک نوجوان طالبہ کی حیثیت سے ماریا سکلوڈووسکا پیرس چلی گئیں۔ وہاں انہوں نے طبیعات کی ’ سوربون‘ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ یہیں انہوں نے تابکاری کی دریافت بھی کی۔ مادام کیوری نے فرانس کی شہریت بھی حاصل کر لی تھی۔

دو بار نوبل انعام یافتہ سائنسدان خاتون مادام کیوری، ایک مثال

ریسرچ کے ساتھی پیری کیوری کے ساتھ شادی

پیری کیوری سے میری کی پہلی ملاقات سن 1894 میں ہوئی۔ اُس وقت پیری میونسپل ٹیکنیکل کالج کی تحقیقاتی لیبارٹری کے سربراہ تھے۔ سائنسی تحقیق کے لیے اُن کا مشترکہ جنون انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آیا اور وہ چھبیس جولائی سن 1895 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔

دو بار نوبل انعام یافتہ سائنسدان خاتون مادام کیوری، ایک مثال

فزکس میں نوبل پرائز

سن 1903 میں جب مادام کیوری نے ڈاکٹریٹ کیا، انہیں اور اُن کے شوہر پیری کیوری کو سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی طرف سے نوبل انعام کا حق دار قرار دیا گیا۔ یہ انعام کیوری جوڑے کو تابکاری پر ریسرچ کے لیے اُن کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔

دو بار نوبل انعام یافتہ سائنسدان خاتون مادام کیوری، ایک مثال

بن باپ کے بچے

مادام کیوری کی پہلی بیٹی سن 1897 میں پیدا ہوئیں۔ کیوری کی دوسری بیٹی ایو ابھی بہت چھوٹی تھیں کہ اُن کے والد پیری کیوری ایک حادثے میں چل بسے۔

دو بار نوبل انعام یافتہ سائنسدان خاتون مادام کیوری، ایک مثال

امریکا کا سفر

سن انیس سو بیس میں میری کیوری نے امریکا کا سفر اختیار کیا۔ امریکی میڈیا نے انہیں ایک سائنسدان سے زیادہ بطور ایک معالج کے تکریم دی۔ امریکا میں قیام کے دوران مادام کیوری نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے کے علاوہ وہاں مختلف اداروں میں لیکچرز دیے اور تحقیقاتی اداروں کا دورہ بھی کیا۔


ملتے جلتے مندرجات

موضوعات

ہمیں فالو کیجیے