پانچ نئے پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے ٹیسٹ کیپ

انگلستان اور آئرلینڈ کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ٹیم کا اعلان اتوار پندرہ اپریل کو لاہور میں چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم انگلستان اور آئرلینڈ کے دورے پر تین ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔ آئرلینڈ کی ٹیم کو ٹیسٹ کا اسٹیٹس حاصل ہونے کے بعد وہ گیارہ سے پندرہ مئی تک  ڈبلن میں پاکستان کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔ انگلستان میں پاکستانی ٹیم لارڈز اور ہیڈنگلے کے میدانوں پر انگلش ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔

پاک بھارت تنازعے کا اثر ایشیا کپ پر

کیا کمزور کیریبین ٹیم کے دورے سے پاکستان کا مقصد پورا ہوگیا؟

پاکستان میں بين الاقوامی کرکٹ کی واپسی

پی ایس ایل سے تین نئے کھلاڑی پاکستان ٹیم میں شامل

جن نئے کھلاڑیوں کو پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، ان میں فخر زمان، امام الحق، عثمان صلاح الدین، سعد علی اور فہیم اشرف شامل ہیں۔ فخر زمان، امام الحق اور فہیم اشرف پاکستان کی جانب سے ایک روزہ اور ٹی ٹویئنٹی میچوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے واضح کیا کہ ٹیم میں کھلاڑیوں کا انتخاب اگلے سال ہونے والے ورلڈ کپ کے تناظر میں خاص طور پر کیا گیا ہے۔ کرکٹ کا ورلڈ کپ انگلستان اور ویلز میں اگلے برس یعنی سن 2019 میں تیس مئی سے چودہ جولائی تک کھیلا جائے گا۔

اس تناظر میں چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اگلے سال کے ورلڈ کپ کی تیاریرں کے سلسلے میں بعض نوجوان کھلاڑیوں کو آگے لایا گیا ہے تا کہ وہ انگلستان کے ماحول اور کرکٹ میدانوں سے واقفیت حاصل کر سکیں۔

Pakistan Inzamam-ul-Haq 2007

ٹیم کا اعلان اتوار پندرہ اپریل کو لاہور میں چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کیا

چیف سلیکٹر نے بتایا کہ یاسر شاہ کمر کی انجری کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے۔ یاسر شاہ کو کم از کم دس ہفتے کے آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انضمام الحق نے ٹیم میں یاسر کی عدم شمولیت کو ایک بڑا نقصان قرار دیا۔

پاکستانی کرکٹ پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کے مطابق انگلستان اور آئرلینڈ کا دورہ کرنے والی ٹیم کی بیٹنگ بظاہر متوازن دکھائی دیتی ہے لیکن بولنگ کے شعبے میں انگلیاں اٹھائی جا سکتی ہیں۔ یاسر شاہ کی عدم موجودگی میں شاداب خان مرکزی اسپنر کا کردار ادا کریں گے۔ تیز بولنگ کے شعبے کی قیادت محمد عامر کے ہاتھ میں ہے اور اُن کو حسن علی، راحت علی سمیت دوسرے بولروں کی مدد حاصل رہے گی۔

موضوعات

پاکستانی کرکٹ ٹیم:

سرفراز احمد (کپتان اور وکٹ کیپر)، اظہر علی، فخر زمان، سمیع اسلم، امام الحق، اسد شفیق، حارث سہیل، عثمان صلاح الدین، سعد علی، شاداب خان، فہیم اشرف، محمد عامر، حسن علی، راحت علی اور محمد عباس۔

کھیل

پاکستان نے تیسرے ٹیسٹ میچ کے آخری دن انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی جانے والی تین میچوں کی سیریز جیت لی ہے۔

کھیل

وسیٹ انڈیز کے خلاف پاکستانی ٹیم تقریباﹰ ساٹھ برس بعد ایسی کامیابی حاصل کر سکی ہے۔ پاکستان کی کرکٹ کی دنیا میں ایک ایسے خواب کو تعبیر ملی ہے، جو نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے دیکھا رہا تھا۔

کھیل

ڈومینیکا کے ونڈسر پارک سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری کرکٹ ٹیسٹ میچ کے آخری دن پاکستان ویسٹ انڈیز کو 101 رنز سے سنسنی خیز شکست دینے میں کامیاب رہا ہے۔

کھیل

ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 202 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی جبکہ انہیں جیت کے لیے 304 رنز درکار تھے۔

کھیل

ویسٹ انڈیز کے آخری بلے باز شینن گیبریل یاسر شاہ کے اوور کی آخری گیند پر آوٹ ہوئے، تو اس سیریز اور میچ کی کایا ہی پلٹ گئی۔ پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف یہ سیریز دو، ایک سے جیتنے میں کامیاب رہا ہے۔

کھیل

وسری جانب روسٹن چیز نے شاندار بیٹنگ کی لیکن ان کا افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میں واقعی افسردہ ہوں کہ میں مزید ایک اوور کے لیے زیادہ نہیں ٹھہر سکا۔‘‘

کھیل

اس تاریخی فتح کے بعد مصباح کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’آخری سیشن میں بہت ساری چیزیں ایک ساتھ ہو رہی تھیں۔ کیچ ڈراپ ہوئے، اپیلیں ہوئیں، نو بالز کے مسائل ہوئے، ایک لمحے کے لیے تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ہم جیت نہیں سکیں گے۔‘‘

کھیل

شینن گیبریل کے آوٹ ہونے کے بعد مصباح الحق کا کہنا تھا، ’’یہ ناقابل یقین ہے۔‘‘

کھیل

مصباح کا مزید کہنا تھا، ’’میں اپنے آپ کے لیے شکر گزار ہوں، ساری ٹیم اور پاکستان کرکٹ کے تمام مداحوں کا بھی کہ ہم اسے جیتنے کے قابل ہوئے۔‘‘

کھیل

سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ پاکستانی ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور سٹار بیٹسمین محمد یونس کے کیریئر کا آخری ٹیسٹ بھی تھا، جس میں بہت سنسنی خیز مقابلے میں پاکستان کا یہ سیریز دو ایک سے جیت لینا مصباح اور یونس کے لیے یادگار الوداعی تحفہ ثابت ہوا۔

ع ح ⁄  ع ب ⁄ اے ایف پی