پاکستان: غریبوں کے لیے صحت انصاف کارڈ کا اجراء

پیرکو وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ملک بھر میں’صحت انصاف کارڈ‘ سکیم کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا۔ اس کارڈ کے اجراء کا مقصد غریب طبقے کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ گھر میں بیماری ہو تو مالی معاملات بگڑ جاتے ہیں۔ اس ہیلتھ کارڈ سے غربت کم ہو گی۔ انہوں نے اعلان کیا، ’’ان کی حکومت غربت ختم کرنے کے جامع منصوبے متعارف کرائے گی اور بیت المال اور دیگر ایسے اداروں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے گا جبکہ غریبوں کو گھروں کی تعمیر کے لیے قرضے فراہم کرنے کی بھی اسکیم لائی جائے گی۔‘‘

خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ روپےکی قدر 35 فیصد گرنے کے سبب مہنگائی میں اضافہ ہوا، لیکن حکومت سب سے زیادہ مسائل میں گھرے طبقے کی مشکلات دور کرے گی۔ ان کا کہنا تھا،’’بھارت، سری لنکا اور بنگلا دیش تک ہم سے آگے نکل چکے ہیں، ہم موجودہ وسائل استعمال کر کے بہتری کا منصوبہ متعارف  کرانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔‘‘

Flash-Galerie Pakistan Lahore Denguefieber

خیال رہے کہ اس سے قبل تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں اپنے دورِ حکومت کے دوران  2016 ء میں ایسی ہی ایک سکیم کا آغاز  بھی کیا تھا۔


صحت انصاف کارڈ  کی سہولیات

کارڈ ہولڈرز کو سالانہ سات لاکھ 20  ہزار روپے تک علاج کی سہولت دستیاب ہوگی۔ ڈیڑھ کروڑ خاندان یعنی آٹھ کروڑ شہریوں کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس سہولت میں اینجو پلاسٹی، برین سرجری اور کینسر سمیت دیگر امراض کا مفت علاج بھی شامل ہے۔ یہ سہولت ڈیڑھ سو سے زائد سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں دستیاب ہو گی۔

ایسے جیو گے تو کیسے جیو گے؟

ہم زیادہ چل پھر نہیں رہے

جرمن شہریوں کی صحت اس وقت تاریخ میں بدترین سطح پر ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق نو فیصد سے بھی کم آبادی ہے، جو مکمل طور پر صحت افزا طرز زندگی سے وابستہ ہے۔ اوسطاﹰ جرمن شہری کوئی ساڑے سات گھنٹے یومیہ بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ مگر صرف جرمن ہی اس انداز کی غیرصحت بخش زندگی نہیں گزار رہے، یہ رجحان پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔

ایسے جیو گے تو کیسے جیو گے؟

کیا بیٹھے رہنا نئی طرز کی تمباکونوشی ہے؟

حالیہ کچھ برسوں میں بیٹھے رہنے کو سنجیدہ طبی نقصانات کی وجہ سے’نئی طرح کی سگریٹ نوشی‘ قرار دیا جاتا ہے۔ گو کہ تمام سائنس دان اس بات پر متفق نہیں کہ اسے تمباکونوشی جیسا مضر قرار دیا جائے۔ تاہم کہا جا رہا ہے کہ بیٹھے رہنے کی وجہ سے کم بلڈپریشر، نظام دوران خون میں خرابی، سرطان، دل کے امراض اور ذیابطیس جسے امراض سے تعلق واضح ہے۔

ایسے جیو گے تو کیسے جیو گے؟

ہر طرح کا بیٹھنا ایک سا نہیں

یوں تو بیٹھنے کے مختلف انداز کے اثرات مختلف ہیں۔ مگر سائنس دانوں کے مطابق دفتر میں کرسی پر بیٹھنے کے صحت پر مضر اثرات گھر میں صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے جیسے نہیں ہیں۔ مستقبل بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے اور قبل از وقت موت، ٹائپ ٹو ذیابیطیس اور دل کے امراض کے درمیان گہرا تعلق دیکھا گیا ہے۔

ایسے جیو گے تو کیسے جیو گے؟

کم زوری میں اضافہ

سائنسی رپورٹ کے مطابق ایسی خواتین جو زیادہ وقت بیٹھی رہیں، وہ جسمانی کم زوری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یعنی ایسی خواتین کو کسی بیماری سے باہر نکلے یا کسی گھاؤ کے بھرنے میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اس جسمانی نقصان کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے حرکت شرط ہے۔

ایسے جیو گے تو کیسے جیو گے؟

بیٹھیے کم، چلیے زیادہ

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مجموعی نشستی وقت قبل ازوقت موت کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔ محققین کے مطابق اگر کوئی شخص ایک نشست پر تیس منٹ سے کم وقت تک بیٹھے، تو اس سے کئی معاملات میں بہتری آ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق تیس منٹ بیٹھنے کے بعد پانچ منٹ کی واک یا حرکت ضروری ہے۔

ایسے جیو گے تو کیسے جیو گے؟

کھڑے ہو کر کام کرنے والے ٹیبل

دفتروں میں کام کرنے والے افراد ایک طویل وقت ٹیبل کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ تاہم اب ایسے دفتری ٹیبل متعارف کرائے جا رہے ہیں، جنہیں کھڑے ہو کر کام کرنے کے لیے بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ محققین کا تاہم کہنا ہے کہ ایک ہی مقام پر کھڑے رہنے سے کوئی شخص زیادہ توانائی خرچ نہیں کرتا، اس لیے یہ نسخہ زیادہ کارآمد نہیں۔

ایسے جیو گے تو کیسے جیو گے؟

چلو اب اٹھ کھڑے ہو

آپ جتنا کم وقت بیٹھیں گے، آپ کی صحت اتنی ہی بہتر ہو گی۔ ماہرینِ صحت کے مطابق بہتر صحت کے لیے دل کی رفتار کو بڑھانا ضروری ہے، جو حرکت سے ممکن ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر ڈیڑھ سو منٹ عمومی ورزش یا 75 منٹ سخت جسمانی وزرش صحت مند زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بیماری سے زیادہ بے بسی کچھ اور نہیں ہوسکتی اور بیماری کی وجہ سے خاندان غریب ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم کے بقول،’’ ہمیں احساس ہے کہ لوگ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ غریب افراد کے لیے علاج معالجہ انتہائی مشکل ہے اور وہ کینسر کے علاج کے لیے سب کچھ بیچ دیتے ہیں۔‘‘ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ والدہ کی بیماری کے وقت انہیں کسی اور طرح کی بے بسی کا سامنا تھا اور ملک میں کینسر کے علاج کا ہسپتال نہیں تھا تو والدہ کو علاج کے لیے ملک سے  باہر لے جانا پڑا۔

ستمبر 2018 کو وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی ہیلتھ انشورنس اسکیم کی منظوری دی تھی جس کے تحت مریض پچاس ہزار سے ڈھائی لاکھ روپے تک کا علاج مفت کروا سکتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 02:12
Now live
02:12 منٹ
ڈی ڈبلیو ویڈیو | 31.12.2018

طرز زندگی اہم کیوں ہے؟

موضوعات