پاکستان کی اقتصادی ترقی میں ماحولیاتی تبدیلیاں ایک بڑا چیلنج

COP24 اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستانی معشیت کو 3800 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے لہٰذا عالمی برادری ہر ممکن تعاون کرے۔

پولینڈ کے شہر کاٹو وِیسا میں رواں ہفتے کے آغاز سے جاری عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں 190 ممالک اکٹھا ہوئے ہیں۔ تحفظ ماحول کے موضوع پر ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان کا کردار نہ تو اتنا اہم ہے اور نہ ہی پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کا سبب بننے والے مرکزی ممالک میں شامل ہے۔  تاہم دو دہائیوں سے ان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر زدہ ممالک کی فہرست میں پاکستان مسلسل ٹاپ ٹین ممالک کی فہرست میں ضرور  موجود ہے۔

 COP24 اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے ڈی ڈبلیو اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ماحولیات کو نقصان پہنچانے والی ضرر رسا گیسیں خارج کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا  135 واں نمبر ہے تاہم متاثرہ ممالک میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔ ملک امین اسلم کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو تین ہزار آٹھ سو ملین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اسی وجہ سے سب سے زیادہ اقتصادی نقصانات اٹھانے والے ملکوں میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔

Karte Extremwetter EN

ماحولیاتی تبدیلیاں، ’وقت تیزی سے گزر رہا ہے‘

ماہرین کے مطابق پاکستان کو تین اہم ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی کمی اور  فضائی آلودگی شامل ہیں۔ کاٹو وِیسا میں جاری عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں پاکستان کے مؤقف کے بارے میں ملک امین اسلم نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ یہاں عالمی برادری کو بتانا ضروری ہے کہ پاکستان ایسے اقدامات بھی کر رہا ہے جو تحفظ ماحول کے لیے ضروری ہیں۔ ان کے بقول پاکستان میں قومی خزانے سے 120 ملین ڈالر کی لاگت کے ساتھ ’بلین ٹری سونامی‘ منصوبے کے تحت ایک ارب درخت لگائے گئے۔ اب، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے آئندہ پانچ سالوں کے دوران ملک بھر میں مزید دس ارب درخت لگانے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے قریب ایک ارب امریکی ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

شمالی پاکستان سیلابوں کی زد میں، تیس افراد ہلاک

’پاکستان میں سیلاب کا صرف نو فیصد پانی محفوظ کیا جاتا ہے

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے خبردار کیا ہے کہ سن 2025 تک پاکستان میں پانی کی قلت ایک بحران کی شکل اختیار کرلے گی۔ اس کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ’ریچارج پاکستان‘ کے نام سے ایک پراجیکٹ متعارف کروائے گی۔ ’ریچارج پاکستان‘ منصوبے کے ذریعے سیلاب کے پانی کو ملک کی مختلف جھیلوں میں محفوظ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان میں پانی کی قلت سے زیادہ ’واٹر مینجمنٹ‘ کا مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان میں صرف نو فیصد سیلاب کا پانی محفوظ کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان ملک میں مزید ڈیم بنانے کی حمایت کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ملک امین اسلم کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیگر متاثرہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے نئے نئے عنصر نمودار ہو رہے ہیں جیسے کہ مون سون بارشوں کے سلسلے میں تبدیلی۔ لہٰذا وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پر عزم ہے۔

Polen COP24 | Malik Aslam Amin

اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے حال ہی میں اپنے ایک سو روز مکمل کیے ہیں لیکن نئی حکومت ملکی معاشی معاملات پر ابھی قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کے رہنما ملک امین اسلم کا کہنا تھا، ملک سنجیدہ اقتصادی چیلنجز سے دوچار ہے جس کے حل کے سلسلے میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ لہٰذا موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے حکومت کو مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی) کا چھ سے آٹھ فیصد ان تباہ کاریوں سے نمٹنے میں خرچ کرنا پڑتا ہے۔

قحط، گرمی کی لہر اور آلودہ دھند

موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومتوں کو اختیارات دینے کے سوال کے جواب میں مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت ان تمام صوبوں کی مشاورت اور رضامندی کے بعد ہی ’ریچارج پاکستان‘ اور ’کلین گرین پاکستان‘ جیسے منصوبوں پر عمل درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کے بقول وزارت ماحولیاتی تبدیلی ان منصوبوں کی فنڈنگ کا انتظام کر رہی ہے تاکہ صوبائی حکومتیں نچلی سطح پر لوکل گورنمنٹ سے یہ تمام کام موثر طریقے سے کروا سکیں۔

COP24 جیسے فورمز پر مسائل کو اجاگر کرنا ضروری ہے

ڈی ڈبلیو اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملک امین اسلم نے کہا کہ عالمی برادری کو یہ بھی دیکھنا  ہو گا کہ پاکستان اپنے تعین ایسے اقدامات اٹھا رہا ہے جس کی وجہ سے عالمی حدت میں کمی ہو سکے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے، خصوصاﹰ ایسی ٹیکنالوجی فراہم کی جائے، جس کے ذریعے پاکستان صاف اور  ماحول دوست توانائی پیدا کر سکے۔

موضوعات

فطرت اور ماحول

پاکستانی عوام کو لاحق خطرات

پاکستان ’گلوبل وارمنگ‘ يا عالمی درجہ حرارت ميں اضافے کا سبب بننے والی ’گرين ہاؤس‘ گيسوں کے عالمی سطح پر اخراج کا صرف ايک فيصد کا حصہ دار ہے تاہم اس کے باوجود موسمياتی تبديليوں و درجہ حرارت ميں اضافے سے پاکستان کی دو سو ملين سے زائد آبادی کو سب سے زيادہ خطرات لاحق ہيں۔ سن 2018 کے ’گلوبل کلائمیٹ رسک انڈيکس‘ ميں پاکستان ان ممالک کی فہرست ميں شامل ہے، جو موسمياتی تبديليوں سے سب سے زيادہ متاثر ہوں گے۔

فطرت اور ماحول

پاکستان سب سے زيادہ متاثرہ خطے ميں واقع

جغرافيائی لحاظ سے پاکستان مشرق وسطی و جنوبی ايشيا کے وسط ميں واقع ہے۔ پيش گوئيوں کے مطابق اسی خطے ميں درجہ حرارت ميں اضافے کی رفتار سب سے زيادہ رہے گی۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی ايک سابقہ رپورٹ کے مطابق سن 2100 يا اس صدی کے اختتام تک اس خطے ميں اوسط درجہ حرارت ميں چار ڈگری سينی گريڈ تک کا اضافہ ممکن ہے۔

فطرت اور ماحول

جان و مال کا نقصان

جرمن واچ نامی تھنک ٹينک کے 2018ء کے ’گلوبل کلائمیٹ رسک انڈيکس‘ کے مطابق پچھلے قريب بيس برسوں ميں موسمياتی تبديليوں کے اثرات کے سبب پاکستان ميں سالانہ بنيادوں پر 523.1 اموات اور مجموعی طور پر 10,462 اموات ريکارڈ کی گئيں۔ اس عرصے ميں طوفان، سيلاب اور ديگر قدرتی آفات کے سبب تقريباً چار بلين امريکی ڈالر کے برابر مالی نقصانات بھی ريکارڈ کيے گئے۔

فطرت اور ماحول

کراچی کو خطرہ لاحق

1945ء ميں پاکستان بھر ميں چار لاکھ ہيکٹر زمين پر مينگرو کے جنگل تھے تاہم اب يہ رقبہ گھٹ کر ستر ہزار ہيکٹر تک رہ گيا ہے۔ مينگرو کے درخت سونامی جيسی قدرتی آفات کی صورت ميں دفاع کا کام کرتے ہيں۔ کراچی ميں سن 1945 ميں آخری مرتبہ سونامی آيا تھا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق بحر ہند ميں کسی بڑے زلزلے کی صورت ميں سونامی کی لہريں ايک سے ڈيڑھ گھٹنے ميں کراچی پہنچ سکتی ہيں اور يہ پورے شہر کو لے ڈوبيں گی۔

فطرت اور ماحول

سيلاب اور شديد گرمی کی لہريں

پاکستان ميں سن ميں آنے والے سيلابوں کے نتيجے ميں سولہ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سيلابی ريلوں نے ساڑھے اڑتيس ہزار اسکوائر کلوميٹر رقبے کو متاثر کيا اور اس کے مالی نقصانات کا تخمينہ دس بلين ڈالر تھا۔ کراچی سے تين برس قبل آنے والی ’ہيٹ ويو‘ يا شديد گرمی کی لہر نے فبارہ سو افراد کو لقمہ اجل بنا ديا۔ ماہرين کے مطابق مستقبل ميں ايسے واقعات قدرتی آفات ميں اضافہ ہوتا جائے گا۔

فطرت اور ماحول

پاکستان کيسے بچ سکتا ہے؟

موسمياتی تبديليوں کے منفی اثرات سے بچنے کے ليے پاکستان کو سالانہ بنيادوں پر سات سے چودہ بلين ڈالر درکار ہيں۔ فی الحال يہ واضح نہيں کہ يہ فنڈز کہاں سے مليں گے؟ پاکستان کی سينيٹ نے پچھلے سال ايک پاليسی کی منظوری البتہ دے دی تھی، جس کے مطابق پاکستان ميں موسمياتی تبديليوں کے اثرات سے پچنے کے ليے ايک اتھارٹی قائم کی جانی ہے۔

فطرت اور ماحول

پاکستان کيا کچھ کر سکتا ہے؟

سن 2015 ميں طے ہونے والے پيرس کے معاہدے ميں پاکستان نے سن 2030 تک ’گرين ہاؤس‘ گيسوں کے اخراج ميں تيس فيصد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ اس پر تقريباً چاليس بلين ڈالر کے اخراجات آئيں گے۔ پاکستان نے يہ ہدف خود مقرر کیا تھا۔

ملتے جلتے مندرجات