1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان کے لئے امریکی فوجی امداد، بھارت کو شدید تشویش

26 جولائی 2010

بھارت نے پاکستان کے لئے امریکی فوجی امداد اور تعاون کے حجم کو غیر متناسب قرار دیتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ یہ امداد اسلام آباد کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتی اور اس کے ذریعے بھارت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/OVBL
ببھارتی وزیر دفاع انتھونی نے پاکستان کے لئے امریکی فوجی امداد کو غیر متناسب قرار دیاتصویر: AP

اس سلسلے میں بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی دہلی کی طرف سے اس بارے میں اس کی تشویش سے امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز اور امریکی افواج کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کو اس وقت آگاہ بھی کر دیا گیا تھا، جب انہوں نے ابھی حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا۔

بھارتی وزیر دفاع انتھونی نے صحافیوں کو بتایا کہ نئی دہلی کی نظر میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کی طرف سے جو فوجی ساز و سامان مہیا کیا جا رہا ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ ہے، جس کی کہ اسلام آباد کو ضرورت ہو سکتی ہے۔

Mike Mullen
ان خدشات کا اظہار انھوں نے ایڈمرل مائیک مولن سے بھی کیاتصویر: picture-alliance/ dpa

اے کی انتھونی کے بقول: ’’نئی دہلی پاکستان کو دئے جانے والے اس فوجی ساز و سامان کے بارے میں واضح تحفظات رکھتا ہے اور اس طرح کے بہت حساس عسکری آلات اور فوجی ساز و سامان کا پاکستان کو دیا جانا نئی دہلی کے لئے خطرے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔‘‘

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اے کے انتھونی نے کہا کہ یہ بات بعید از امکان نہیں کہ پاکستان اس جدید ترین ساز وسامان کو بھارت کے خلاف استعمال کرے۔

قبل ازیں بھارت نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو عرف عام میں ڈرون کہلانے والے وہ جاسوس طیارے مہیا کرنے کے فیصلے پر بھی پر زور احتجاج کیا تھا، جو بغیر پائلٹ کے پرواز کرتے ہیں۔

امریکہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے یہ ساز و سامان اس لئے مہیا کر رہا ہے کہ وہ اس جنگ میں کامیابی کے لئے اسلام آباد کو اپنا ناگزیر اتحادی تصور کرتا ہے، اور وہ بھی اس لئے واشنگٹن کی رائے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی قبائلی علاقے القاعدہ اور طالبان کی وجہ سے دنیا کے انتہائی خطرناک علاقے بن چکے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت :مقبول ملک

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں