’پریانکا سیاست کے آغاز میں ہی متاثر کر گئیں‘

بڑے ہی سدھے ہوئے لائحۂ عمل کے تحت بالکل عین اس وقت جب اتر پردیش (یو پی) میں کانگریس کو واقعی کسی کرشمے کی ضرورت تھی، تب پریانکا کی آمد ہوئی۔

وہی معصوم مسکراہٹ، وہی سادگی، وہی جاذبیت، وہی کشش اور عوام سے ان کا وہی جانا پہچانا اندازِ تخاطب، جو ان کا خاصہ قرار دیا جاتا ہے۔ لکھنو میں اپنے حامیوں کے ساتھ ملاقاتوں میں خصوصاً مسلمانوں کی طرف انہوں نے جب جب دیکھا تو ان کی نگاہوں میں جو اپنائیت جھلکتی تھی، اس سے کوئی بھی متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔

حالات حاضرہ | 16.04.2014

پریانکا گاندھی نے لکھنو اپنے چار دن کے قیام کے دوران کانگریس کے پرانے سے پرانے اور نوجوان کارکنوں سے ملاقاتوں کی بدولت  اُس کانگریس میں نئی جان پھونک کر ان میں جوش و ولولہ بھر دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، جو پچھلی تین دہائیوں سے پھیکا پھیکا سا پر چکا تھا۔

نشانہ ہدف پر، کوشش سبھی کو ساتھ لے کر چلنے کی، بکھرے پارٹی انتظامیہ کو یکجا کرنے کی الجھن میں ان کی بات چیت میں نہ تلخی تھی اور نہ جھنجھلاہٹ، اور تو اور ان کے سوالوں سے پریشان کئی کانگریسیوں کے تو پسینہ آ گیا۔ اتوار کو روڈ شو کے بعد دیر شام پریانکا جے پور چلی گئی تھیں۔ منگل کو صبح واپس آکر دوپہر قریب ڈیڑھ بجے سے کانگریسیوں سے ملنے کا جو سلسلہ انہوں نے شروع کیا وہ بدھ کی صبح سوا پانچ بجے تک چلتا رہا۔ علیٰ الصبح بھی ان کے چہرے پر تھکان کی کوئی جھلک نہیں تھی۔ مال ایونیو کے کانگریس دفتر کے احاطے میں رات بھر لوگ ٹہلتے رہے۔ چند دنوں پہلے تک کسی بھی سرگرمی سے خالی مال ایونیو کے اس علاقہ میں جب تک پریانکا گاندھی رہیں، میلے کا سا منظر رہا۔

تین دنوں میں پریانکا نے اپنے ذمہ مشرقی یوپی کی اکتالیس سیٹوں میں سے تقریباً تین درجن پارلیمانی سیٹوں کی جائزہ میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ یوپی میں کانگریس کو وہی عزت و وقار چاہیے جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ پریانکا سے مل کر واپس آنے والے کانگریسیوں کے چہرے آس و امید سے پُر تھے۔ ان کی چال میں اعتماد بھی جھلک رہا تھا۔

کانگریس کا جنرل سیکرٹری اور مشرقی یوپی کا انچارج بنائے جانے کےبعد پہلی مرتبہ پریانکا کے لکھنؤ میں ہوئے روڈ شو میں جو ہجوم سڑکوں پر نکلا، اس سے مخالفین کے ماتھے پر فکر کی لکیریں صاف دیکھی جا سکتی تھیں۔ پورے صوبے سے لاکھوں لوگ روڈ شو میں از خود شامل ہوئے، جن میں مسلم افراد کی تعداد اوروں کے مقابلہ زیادہ رہی۔

پرانے لکھنؤ کی تین سگی بہنیں، سائمہ، سمیا اور ایمن صبح گیارہ بجے سے ہی گلاب کے پھول لیے لال باغ چوراہے پر پریانکا سے ملاقات کی خاطر کھڑی تھیں۔ سیتاپور سے آئے شمشاد کا کانگریس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، وہ صرف پریانکا کو دیکھنے کے لیے ہی لکھنؤ آ گئے تھے۔

اس سے پہلے دہلی میں جب پریانکا نے بطور کانگریس جنرل سیکرٹری عہدہ سنبھالا تھا اور سکیورٹی دستوں کے لیے پریانکا گاندھی کی حمایت میں نعرے لگانے والوں کی بھیڑ سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا، تب بھی پریانکا نے ملاقات کے لیے جن دو نوجوانوں کا انتخاب کیا تھا، وہ بھی مسلمان ہی تھے۔

روڈ شو میں ان کے ساتھ ان کے بھائی اور کانگریس صدر راہل گاندھی بھی تھے جنہوں نے روڈ شو کے بعد کانگریسی لیڈران اور کارکنان سے کہا کہ انہیں یوپی میں کانگریس کی سرکار چاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ایس پی اور بی ایس پی کے یوپی میں تیار ہوئے اتحاد کے بارے میں کہا کہ ’ہم دونوں پارٹیوں کا احترام کرتے ہیں‘۔

پریانکا نے اپنے قیام کے دوران سبھی کانگریسی کارکنان سے باضابطہ ایک فارم بھروایا ہے جس پر ان کے بارے میں تفصیلی معلومات کے علاوہ سبھی کو ایک موبائل نمبر بھی دیا گیا ہے، جس سے وہ ’چوپال‘ سے رابطہ کر سکیں گے۔ چوپال در اصل کانگریس کے قومی دفتر سے چلائے جانے والے سوشل میڈیا کا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ پریانکا گاندھی سبھی ملنے والوں سے یہ پوچھنا قطعی نہیں بھولیں کہ ان کے علاقوں میں ایس پی اور بی ایس پی کے اتحاد کا کیا اثر ہے۔ مانا یہ جا رہا ہے کہ پریانکا گاندھی ایسا کوئی اشارہ تک نہیں دینا چاہتیں جو یوپی میں تیار ہوئے ایس پی اور بی ایس پی کے اتحاد کے خلاف جاتا ہو۔ اسی لیے وہ سبھی سے ملاقات کے دوران یہ کہنا نہیں بھولیں کہ مقصد ایک ہی ہے۔

موضوعات

پرینکا کی نگاہ یوپی کے پسماندہ طبقات پر بھی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے مہان پارٹی اور دو بی کے پی کے لیڈروں کو بھی کانگریس میں شامل کیا۔ پریانکا گاندھی کے ساتھ یوپی کے دوسرے انچارج جیوترادتیہ سندھیا نے بھی اس دوران مغربی یوپی کے کارکنان سے لگاتار ملاقاتیں کیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ ہندوستانی پارلیمنٹ کی کل پانچ سو تینتالیس سیٹوں میں سب سے زیادہ اسی سیٹیں یوپی میں ہی ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم بھی یوپی کی بنارس سیٹ سے ممبر آف پارلیمنٹ ہیں۔ یوپی سے اب تک آٹھ وزیر اعظم منتخب ہو چکے ہیں۔


بھارت کے سیاسی افق کا نیا ستارہ، پریانکا گاندھی

جواہر لال نہرو

برصغیر پاک و ہند کی تحریک آزادی کے بڑے رہنماؤں میں شمار ہونے والے جواہر لال نہرو پریانکا گاندھی کے پڑدادا تھے۔ وہ آزادی کے بعد بھارت کے پہلے وزیراعظم بنے اور ستائیس مئی سن 1964 میں رحلت تک وزیراعظم رہے تھے۔ اندرا گاندھی اُن کی بیٹی تھیں، جو بعد میں وزیراعظم بنیں۔

بھارت کے سیاسی افق کا نیا ستارہ، پریانکا گاندھی

اندرا گاندھی

پریانکا گاندھی کی دادی اندرا گاندھی اپنے ملک کی تیسری وزیراعظم تھیں۔ وہ دو مختلف ادوار میں بھارت کی پندرہ برس تک وزیراعظم رہیں۔ انہیں اکتیس اکتوبر سن 1984 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اُن کے بیٹے راجیو گاندھی بعد میں منصبِ وزیراعظم پر بیٹھے۔ راجیو گاندھی کی بیٹی پریانکا ہیں، جن کی شکل اپنی دادی اندرا گاندھی سے ملتی ہے۔

بھارت کے سیاسی افق کا نیا ستارہ، پریانکا گاندھی

راجیو گاندھی

بھارت کے چھٹے وزیراعظم راجیو گاندھی سیاست میں نو وارد پریانکا گاندھی واڈرا کے والد تھے۔ وہ اکتیس اکتوبر سن 1984 سے دو دسمبر سن 1989 تک وزیراعظم رہے۔ اُن کو سن 1991 میں ایک جلسے کے دوران سری لنکن تامل ٹائیگرز کی خاتون خودکش بمبار نے ایک حملے میں قتل کر دیا تھا۔ اُن کے قتل کی وجہ سن 1987 میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان ہونے والا ایک سمجھوتا تھا، جس پر تامل ٹائیگرز نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

بھارت کے سیاسی افق کا نیا ستارہ، پریانکا گاندھی

سونیا گاندھی

پریانکا گاندھی واڈرا کی والدہ سونیا گاندھی بھی عملی سیاست میں رہی ہیں۔ وہ انیس برس تک انڈین کانگریس کی سربراہ رہی تھیں۔ اطالوی نژاد سونیا گاندھی بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں لوک سبھا کی رکن رہتے ہوئے اپوزیشن لیڈر بھی تھیں۔

بھارت کے سیاسی افق کا نیا ستارہ، پریانکا گاندھی

راہول گاندھی

بھارتی سیاسی جماعت انڈین کانگریس کے موجودہ سربراہ راہول گاندھی ہیں، جو پریانکا گاندھی واڈرا کے بڑے بھائی ہیں۔ انہوں نے سولہ دسمبر سن 2017 سے انڈین کانگریس کی سربراہی سنبھال رکھی ہے۔ وہ چھ برس تک اسی پارٹی کے جنرل سیکریٹری بھی رہے تھے۔ راہول گاندھی بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان لوک سبھا کے رکن بھی ہیں۔

بھارت کے سیاسی افق کا نیا ستارہ، پریانکا گاندھی

پریانکا گاندھی واڈرا

راجیو گاندھی کی بیٹی پریانکا بارہ جنوری سن 1972 کو پیدا ہوئی تھیں۔ وہ شادی شدہ ہیں اور دو بچوں کی ماں بھی ہیں۔ انہوں نے سینتالیس برس کی عمر میں عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ وہ بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کی عملی سیاست کا فروری سن 2019 میں حصہ بن جائیں گی۔

بھارت کے سیاسی افق کا نیا ستارہ، پریانکا گاندھی

سیاسی مہمات میں شمولیت

مختلف پارلیمانی انتخابات میں پریانکا گاندھی واڈرا نے رائے بریلی اور امیتھی کے حلقوں میں اپنے بھائی اور والد کی انتخابی مہمات میں باضابطہ شرکت کی۔ عام لوگوں نے دادی کی مشابہت کی بنیاد پر اُن کی خاص پذیرائی کی۔ گزشتہ کئی برسوں سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کر سکتی ہیں اور بالآخر انہوں نے ایسا کر دیا۔

بھارت کے سیاسی افق کا نیا ستارہ، پریانکا گاندھی

عملی سیاست

پریانکا گاندھی واڈرا نے بدھ تیئس جنوری کو انڈین کانگریس کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ کانگریس پ‍ارٹی کی جانب سے برسوں انہیں عملی سیاست میں حصہ لینے کی مسلسل پیشکش کی جاتی رہی۔ امید کی جا رہی ہے کہ وہ مئی سن 2019 کے انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں۔

بھارت کے سیاسی افق کا نیا ستارہ، پریانکا گاندھی

کانگریس پارٹی کی جنرل سیکریٹری

انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کی پریس ریلیز کے مطابق پریانکا گاندھی کو پارٹی کی دو نئی جنرل سیکریٹریز میں سے ایک مقرر کیا گیا ہے۔ اس پوزیشن پر انہیں مقرر کرنے کا فیصلہ پارٹی کے سربراہ اور اُن کے بھائی راہول گاندھی نے کیا۔ وہ اپنا یہ منصب اگلے چند روز میں سبھال لیں گی۔

بھارت کے سیاسی افق کا نیا ستارہ، پریانکا گاندھی

بی جے پی کی تنقید

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے پریانکا گاندھی کو کانگریس پارٹی کی جنرل سیکریٹری مقرر کرنے پر تنقید کرتے ہوئے اسے خاندانی سیاست کا تسلسل قرار دیا۔

ہمیں فالو کیجیے