1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پشاور اسکول حملہ، ’ہم نہیں بھولیں گے‘

بینش جاوید
16 دسمبر 2016

پاکستانی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو برس قبل پشاور اسکول حملے میں ہلاک ہونے بچوں کی تصاویر کو اپنے دفتر میں رکھا ہے تاکہ وہ یہ قیمتی جانی نقصان کبھی بھول نہ سکیں۔

https://p.dw.com/p/2UMug
Pakistan Jahrestag des Anschlags auf die Schule in Peshawar
تصویر: Getty Images/AFP/A. Majeed

پاکستانی میڈیا کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے کہا،’’ ہمیں وہ پاکستان بنانا ہے جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا تھا، ہم ان بچوں کو کبھی نہیں بھول سکتے۔‘‘ آرمی چیف نے کہا، ’’ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بچے اب بھی ہمارے ساتھ ہیں یہ شہید ہیں۔‘‘

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پشاور اسکول حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے اہل خانہ کا خیال رکھا جارہا ہے،’’ ہلاک ہونے والے بچوں کے بہن بھائیوں کو بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔‘‘

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی پبلک اسکول پشاور کی موجودہ پرنسپل نے کہا،’’ ہم اپنے بچوں اور اس اسکول کی بہادر پرنسپل طاہرہ قاضی کو نہیں بھولے، آج ہم ان فرشتوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، ہم اس نقصان کو بہادی کی علامت بنائیں گے۔‘‘

دو برس قبل 16 دسمبر 2014 کو عسکریت پسندوں کی جانب سے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر دیا گیا تھا، جس میں بچوں اور اساتذہ سمیت 144 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دو برس بعد بھی پاکستان میں اس ہولناک واقعے کی شدت کو محسوس کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا پر خصوصی پروگرام نشر کیے جارہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز کا تعلق اسی واقعے سے ہے۔

سماجی کارکن منیبہ مزاری نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں لکھا، ’’ کچھ واقعات قوموں کو بدل دیتے ہیں، پشاور اسکول حملہ ایک ایسا ہی سانحہ ہے جس نے پاکستان کو بدل دیا۔‘‘

سوشل میڈیا کے ایک صارف نے لکھا، ’’دہشت گرد تعلیم سے خوفزدہ ہیں کیوں کہ تعلیم ان کی شدت پسندانہ سوچ کو تباہ کر دے گی۔‘‘

اس سانحے کے بعد ملک میں قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا تھا تاکہ  عسکریت پسندوں سے نمٹا جا سکے تاہم اب بھی کئی ماہرین پاکستانی حکومت کی کوششوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اس اسکول حملے کے بعد پشاور کی چارسدہ یونیورسٹی میں بھی ایک دہشت گردانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں کئی طلبہ ہلاک ہوگئے تھے۔