1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پشاور میں خودکش دھماکہ، کم از کم سات افراد ہلاک

25 مئی 2011

پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک خود کش کار بم حملے میں سات افراد اہلکار جبکہ 28 زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/11NZr
تصویر: AP

پشاور میں قائم سی آئی ڈی پولیس اسٹیشن کی دو منزلہ عمارت اس دھماکے سے مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسامہ بن لادن کی موت کا چھوتھا بدلہ ہے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی تھانے کی عمارت سے ٹکرا دی۔ ایک سینئر یولیس افسر اعجاز خان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے ہوا، جس میں تین پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس وقت تھانے کی تین منزلہ عمارت میں تقریباً 70 افراد موجود تھے۔ دہشت گردوں نے اپنی وین تھانے کے مرکزی دروازے سے ٹکرائی تھی۔ مزید یہ کہ دھماکہ اتنی شدت کا تھا کہ تھانے کی پوری عمارت زمین بوس ہو گئی، جس کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ اب تک چار افراد کی لاشیں مل نکالی جا چکی ہیں جبکہ ملبے تلے دیگر افراد کو نکالنے کی کوششں جاری ہیں۔ مرنے والوں میں تین پولیس اہلکار شامل ہیں۔

NO FLASH Autobombe nähe des US-Konsulats in Pakistan
گزشتہ ہفتے اسی علاقے میں امریکی سفارت خانے کی گاڑیوں کے ایک قافلے پر بھی حملہ کیا گیا تھاتصویر: AP

ایک اور پولیس افسر بہادر خان نے کہا کہ ملبے سے لوگوں کے کراہنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں لیکن انہیں زندہ نکالنے کی امید گزرتے وقت کے ساتھ دم توڑتی جا رہی ہے۔ پشاور میں سی آئی ڈی پولیس اسٹیشن امریکی قونصل خانے سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اسی ڈسٹرک پر گزشتہ ہفتے امریکی سفارت خانے کی گاڑیوں کے ایک قافلے پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دو امریکی شہریوں سمیت 28 افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ علاقہ انتہائی حساس ہے۔

پاکستانی طالبان نے بدھ کو پشاور میں ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک خفیہ مقام سے ٹیلی فون کے ذریعے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان اسامہ بن لادن کی موت کا بدلہ لینے کے لیے اسی نوعیت کے مزید حملوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک امریکی ڈرون حملے بند نہیں ہوتے اور قبائلی علاقوں میں پاکستانی افواج آپریشن بند نہیں کرتی تب تک حملے جاری رہیں گے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : ندیم گِل

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں