پلوامہ حملہ: بھارتی فوجیوں کی آخری رسومات، بدلے کے مطالبات

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہوئے خود کش بم حملے میں مارے گئے اکتالیس بھارتی فوجیوں میں سے متعدد کی آخری رسومات ہفتہ سولہ فروری کو ادا کر دی گئیں جبکہ اس حملے کا بدلہ لینے کے مطالبات بھی کیے جا رہے ہیں۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق آج سولہ فروری کو جب پلوامہ میں دہشت گردی کے اس بہت خونریز واقعے میں ہلاک ہونے والے درجنوں بھارتی فوجیوں میں سے متعدد کی آخری رسومات ادا کی گئیں، تو کشمیر کے ایک حصے میں چوبیس گھنٹے کا کرفیو ابھی تک نافذ تھا۔

’کشمیری‘پاک بھارت سیاست کی قیمت کیسے چکا رہے ہیں؟

بڑی فوجی کارروائی

بھارتی فوج نے مسلح باغیوں کے خلاف ابھی حال ہی میں ایک تازہ کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ اس دوران بیس دیہاتوں کا محاصرہ کیا گیا۔ نئی دہلی کا الزام ہے کہ اسلام آباد حکومت شدت پسندوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

’کشمیری‘پاک بھارت سیاست کی قیمت کیسے چکا رہے ہیں؟

فوجیوں کی لاشوں کی تذلیل

بھارت نے ابھی بدھ کو کہا کہ وہ پاکستانی فوج کی جانب سے ہلاک کیے جانے والے اپنے فوجیوں کا بدلہ لے گا۔ پاکستان نے ایسی خبروں کی تردید کی کہ سرحد پر مامور فوجی اہلکاروں نے بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا ان کی لاشوں کو مسخ کیا۔

’کشمیری‘پاک بھارت سیاست کی قیمت کیسے چکا رہے ہیں؟

ایک تلخ تنازعہ

1989ء سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلم باغی آزادی و خود مختاری کے لیے ملکی دستوں سے لڑ رہے ہیں۔ اس خطے کی بارہ ملین آبادی میں سے ستر فیصد مسلمان ہیں۔ اس دوران بھارتی فورسز کی کاررائیوں کے نتیجے میں 70 ہزار سے زائد کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں۔

’کشمیری‘پاک بھارت سیاست کی قیمت کیسے چکا رہے ہیں؟

تشدد کی نئی لہر

گزشتہ برس جولائی میں ایک نوجوان علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے بھارتی کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں۔ نئی دہلی مخالف مظاہروں کے علاوہ علیحدگی پسندوں اور سلامتی کے اداروں کے مابین تصادم میں کئی سو افراد مارے جا چکے ہیں۔

’کشمیری‘پاک بھارت سیاست کی قیمت کیسے چکا رہے ہیں؟

اڑی حملہ

گزشتہ برس ستمبر میں مسلم شدت پسندوں نے اڑی سیکٹر میں ایک چھاؤنی پر حملہ کرتے ہوئے سترہ فوجی اہلکاروں کو ہلاک جبکہ تیس کو زخمی کر دیا تھا۔ بھارتی فوج کے مطابق حملہ آور پاکستان سے داخل ہوئے تھے۔ بھارت کی جانب سے کی جانے والی تفتیش کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان میں موجود جیش محمد نامی تنظیم سے تھا۔

’کشمیری‘پاک بھارت سیاست کی قیمت کیسے چکا رہے ہیں؟

کوئی فوجی حل نہیں

بھارت کی سول سوسائٹی کے کچھ ارکان کا خیال ہے کہ کشمیر میں گڑ بڑ کی ذمہ داری اسلام آباد پر عائد کر کے نئی دہلی خود کو بے قصور نہیں ٹھہرا سکتا۔ شہری حقوق کی متعدد تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو چاہیے کہ وہ وادی میں تعینات فوج کی تعداد کو کم کریں اور وہاں کے مقامی افراد کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے دیں۔

’کشمیری‘پاک بھارت سیاست کی قیمت کیسے چکا رہے ہیں؟

انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

بھارتی حکام نے ایسی متعدد ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد، جن میں بھارتی فوجیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتے دیکھا جا سکتا ہے، کشمیر میں سماجی تعلقات کی کئی ویب سائٹس کو بند کر دیا ہے۔ ایک ایسی ہی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ فوج نے بظاہر انسانی ڈھال کے طور پر مظاہرہ کرنے والی ایک کشمیری نوجوان کواپنی جیپ کے آگے باندھا ہوا ہے۔

’کشمیری‘پاک بھارت سیاست کی قیمت کیسے چکا رہے ہیں؟

ترکی کی پیشکش

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بھارت کے اپنے دورے کے موقع پر کشمیر کے مسئلے کے ایک کثیر الجہتی حل کی وکالت کی۔ ایردوآن نے کشمیر کے موضوع پر پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ بھارت نے ایردوآن کے بیان کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف بھارت اور پاکستان کے مابین دو طرفہ طور پر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

’کشمیری‘پاک بھارت سیاست کی قیمت کیسے چکا رہے ہیں؟

غیر فوجی علاقہ

پاکستانی کشمیر میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر توقیر گیلانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’وقت آ گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو اپنے زیر انتظام علاقوں سے فوج ہٹانے کے اوقات کار کا اعلان کرنا چاہیے اور ساتھ ہی بین الاقوامی مبصرین کی نگرانی میں ایک ریفرنڈم بھی کرانا چاہیے‘‘

’کشمیری‘پاک بھارت سیاست کی قیمت کیسے چکا رہے ہیں؟

علیحدگی کا کوئی امکان نہیں

کشمیر پر نگاہ رکھنے والے زیادہ تر مبصرین کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کا کوئی امکان موجود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں شدت پسندوں اور علیحدگی پسندوں سےسخت انداز میں نمٹنے کی بھارتی پالیسی جزوی طور پر کامیاب رہی ہے۔ مبصرین کے بقول، جلد یا بدیر نئی دہلی کو اس مسئلے کا کوئی سیاسی حل ڈھونڈنا ہو گا۔

ان ہلاک شدگان کی آخری رسومات میں ہزارہا سوگواران نے شرکت کی، اور وہ مطالبے کر رہے تھے کہ بھارت کو اس ہلاکت خیز دہشت گردی کا بدلہ لینا چاہیے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں یہ خود کش حملہ جمعرات چودہ فروری کو اس وقت کیا گیا تھا، جب ہمالیہ کے اس علاقے میں تقریباﹰ ڈھائی ہزار بھارتی فوجیوں کا ایک قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔

سب سے ہلاکت خیز حملہ

اس حملے میں حملہ آور نے اپنی دھماکا خیز مواد سے لدی ہوئی وین کو اس فوجی قافلے میں شامل گاڑیوں سے ٹکرا دیا تھا اور یہ حملہ اتنا بڑا تھا کہ یہ کشمیر کے مسلح تنازعے میں گزشتہ تین عشروں کے دوران آج تک کا سب سے ہلاکت خیز حملہ ثابت ہوا تھا۔

اس حملے میں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کی آخری رسومات کی ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والی تقریبات کو بھارتی نشریاتی اداروں نے براہ راست دکھایا۔

اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں جمعے کو رات گئے کشمیر سے نئی دہلی پہنچائی گئی تھیں، جہاں وزیر اعظم نریندر مودی نے ان فوجیوں کی لاشوں والے تابوتوں کے سامنے پھولوں کی چادریں بھی رکھی تھیں۔

آج ہفتے کے روز ملک کے مشرق میں گیا سے لے کر شمال میں اُنّاؤ تک کے قصبوں میں ان فوجیوں کے آبائی علاقوں میں جب آخری رسومات کے لیے ان کی لاشیں پہنچائی گئیں، تو ان کے تابوتوں میں سے ہر ایک بھارت کے قومی پرچم میں لپٹا ہوا تھا۔ اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں ہلاک شدگان کے لواحقین اور عام شہری بھی موجود تھے، جو یہ مطالبے کر رہے تھے کہ نئی دہلی کو اس حملے کا بدلہ لینا چاہیے۔

’’بھارت کشمیر پر اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھا ہے‘‘

پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس

وزیر اعظم، سینیئر سیاسی قائدین اور اپوزیشن کے اراکین اجلاس میں شریک ہوئے۔ پاکستان کے سکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے اجلاس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی صورت حال پر سیاست دانوں کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں شریک سیاسی قائدین نے مسئلہ کشمیرپرحکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

’’بھارت کشمیر پر اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھا ہے‘‘

نان اسٹیٹ ایکٹرز کو برداشت نہیں کریں گے

پارلیمانی اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو نے کہا،’’ بھارت کشمیر پر اخلاقی جواز کھو چکا ہے، کشمیر کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ایک ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا،’’ دنیا کو بتانا ہے کہ ہم نان اسٹیٹ ایکٹرز کو برداشت نہیں کریں گے۔‘‘

’’بھارت کشمیر پر اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھا ہے‘‘

سیاسی رہنماؤں کی تجاویز کی روشنی حکمت عملی طے کی جائے گی

مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا،’’ مشکل وقت میں قومی اتحاد وقت کا تقاضہ ہے۔‘‘ وزیر اعظم نواز شریف نے اجلاس میں تمام سیاسی رہنماؤں کی رائے کو سنا۔ نواز شریف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی تجاویز کی روشنی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

’’بھارت کشمیر پر اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھا ہے‘‘

’کشمیر پر بھارت کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں‘

اس اجلاس کے اعلامیہ میں لکھا گیا ہے،’’بھارت سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے اٹھا رہا ہے، کشمیر پر بھارت کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔‘‘ اعلامیہ میں لکھا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے آپس میں بات چیت کرنے کے مواقعوں کو ضائع کرنے کے عمل کی مذمت کرتے ہیں۔

’’بھارت کشمیر پر اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھا ہے‘‘

کشمیر ایک متنازعہ علاقہ

اعلامیہ میں لکھا گیا ہے کہ بھارت نے خود اقوام متحدہ میں تسلیم کر رکھا ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے اور کلبھوشن یادو جیسے ’را‘ کے ایجنٹ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں۔ اعلامیہ میں بھارت کے پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کو بھی مسترد کیا ہے۔

’’بھارت کشمیر پر اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھا ہے‘‘

لائن آف کنٹرول پر کشیدگی جاری

پاکستانی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کی جانب سے آج صبح ایک بیان جاری کیا گیا جس کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے نیزہ پیر سیکٹر پر’’بلا اشتعال فائرنگ‘‘ کی گئی۔ اس سے قبل پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب افتخار آباد سیکٹر میں بھارت کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔ ان واقعات کے بعد آئی ایس پی آر کے ایک اور بیان میں کہا گیا کہ کیلار سیکٹر میں بھی بھارت کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

’’بھارت کشمیر پر اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھا ہے‘‘

بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کا ایک اہل کار ہلاک

پاکستان اور بھارت کی افواج کے مابین فائرنگ کا سلسلہ اس واقعے کے چند گھنٹے بعد ہی پیش آیا ہے جس میں عسکریت پسندوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے بارہ مولا سیکٹر میں بھارتی فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کا ایک اہل کار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔

’’بھارت کشمیر پر اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھا ہے‘‘

‘اڑی حملے میں پاکستان ملوث ہے‘

واضح رہے کہ 18 ستمبر کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اڑی سیکٹر پر عسکریت پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے سرحد پار کرکے بھارت داخل ہوئے تھے۔ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کر دی تھی۔

’’بھارت کشمیر پر اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھا ہے‘‘

’سرجیکل اسٹرائیک‘

دونوں ممالک میں کشیدگی مزید اس وقت بڑھی جب چند روز قبل بھارتی افواج کی فائرنگ سے پاکستان کی فوج کے دو سپاہی ہلاک ہو گئے۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ایک ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کی۔ پاکستان نے بھارت کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا ہے۔

بھارت کا پاکستان پر الزام

اس حملے کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ اس دہشت گردی کے ذمے دار عسکریت پسندوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہے۔ نئی دہلی حکومت کے اس موقف کے بعد بھارت میں قومی سطح پر اس قدر غصہ پایا جاتا ہے کہ عوامی حلقوں میں سے بہت سے یہ مطالبے بھی کرنے لگے ہیں کہ نئی دہلی کو ان ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے لیے ہمسایہ ملک اورحریف ایٹمی طاقت پاکستان کے خلاف جنگ شروع کر دینا چاہیے۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ضلع پلوامہ میں جس بھارتی فوجی قافلے کو اس حملے کا نشانہ بنایا گیا، اس میں مجموعی طور پر 78 بسیں شامل تھیں۔ ان بسوں میں بھارت کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس یا سی آر پی ایف کے فوجی سوار تھے۔ یہ حملہ ایک مقامی نوجوان کشمیری عسکریت پسند نے کیا تھا، جس کا نام عادل احمد عرف وقاص کمانڈو تھا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر سے کچھ ہی باہر پلوامہ کے ضلع میں ایک ہائی وے پر عادل احمد نے اپنی بارود سے لدی ہوئی وین جب اس فوجی قافلے سے ٹکرائی، تو بھارتی دستوں کی دو بسیں براہ راست اس دھماکے کی زد میں آ گئی تھیں، جن میں بیسیوں فوجی سوار تھے۔

موضوعات

جیش محمد کا اعتراف

اس حملے کی ذمے داری عسکریت پسند مسلمانوں کی تنظیم جیش محمد قبول کر چکی ہے۔ اسی عسکری تنظیم نے یہ بھی کہا تھا کہ حملہ آور ایک مقامی عسکریت پسند عادل احمد تھا، جو وقاص کمانڈو بھی کہلاتا تھا۔ بھارت کا الزام ہے کہ جیش محمد نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں اور اس گروپ کے عسکریت پسندوں کو مبینہ طور پر پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔

پاکستان کی طرف سے تردید

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کل جمعے کے روز یہ بھی کہا تھا کہ اس حملے میں ملوث عناصر نے ’بہت بڑی غلطی‘ کی ہے اور انہیں اپنے اس اقدام کی ’بہت بڑی قیمت‘ چکانا پڑے گی۔ اس حملے کے بعد بھارت یہ بھی کہہ چکا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو الگ تھلگ کر دینے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

ساتھ ہی نئی دہلی حکومت نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کے پاس اس امر کے ’ناقابل تردید شواہد‘ موجود ہیں کہ اس حملے میں مبینہ طور پر اسلام آباد کا ہاتھ ہے۔ دوسری طرف پاکستان اس سلسلے میں اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کرتا ہے۔

م م / ش ح / اے ایف پی

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

اس موقع پر بھارتی فورسز کی طرف سے زیادہ تر علیحدگی پسند لیڈروں کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا یا پھر انہیں گھروں پر نظر بند کر دیا گیا تھا۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

بھارتی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کے ساتھ ساتھ گولیوں کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

مظاہرین بھارت مخالف نعرے لگاتے ہوئے حکومتی فورسز پر پتھر پھینکتے رہے۔ درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ ایک کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

ایک برس پہلے بھارتی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہو جانے والے تئیس سالہ عسکریت پسند برہان وانی کے والد کے مطابق ان کے گھر کے باہر سینکڑوں فوجی اہلکار موجود ہیں۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

برہان وانی کے والد کے مطابق وہ آج اپنے بیٹے کی قبر پر جانا چاہتے تھے لیکن انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

باغی لیڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائیوں میں اب تک ایک سو کے قریب انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

کشمیر کے علیحدگی پسند لیڈروں نے وانی کی برسی کے موقع پر ایک ہفتہ تک احتجاج اور مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

کشمیر میں کرفیو، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

ایک برس قبل آٹھ جولائی کو نوجوان علیحدگی پسند نوجوان لیڈر برہان وانی بھارتی فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا تھا۔

ہمیں فالو کیجیے