1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پیرس میں دہشت گردانہ حملہ، ایک پولیس افسر ہلاک

علی کیفی AFP; REUTERS
21 اپریل 2017

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں سرکاری بیانات کے مطابق ایک پولیس اہلکار اور اُس پر فائرنگ کرنے والا شخص ہلاک جبکہ تین مزید افراد زخمی ہو گئے۔ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

https://p.dw.com/p/2belI
Paris Frankreich Polizei
یہ واقعہ عالمی شہرت یافتہ فرانسیسی شاہراہ شانز ایلی زے پر واقع فتح کی محراب سے چند سو میٹر کے فاصلے پر پیش آیاتصویر: Reuters/C.Hartmann

پولیس کے مطابق یہ حملہ گزشتہ شب نو بجے کے لگ بھگ ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ حملہ آور پیرس کی مرکزی شاہراہ شانز ایلی زے پر اپنی کار میں پولیس کی ایک وین کے آگے آگے جا رہا تھا کہ اچانک اُس نے اپنی کار میں سے نکل کر پولیس وین پر ایک خود کار ہتھیار کے ذریعے فائرنگ شروع کر دی۔

یہ واقعہ اس عالمی شہرت یافتہ فرانسیسی شاہراہ پر واقع فتح کی محراب سے چند سو میٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور ایک پولیس اہلکار کو ہلاک اور اُس کے ساتھیوں کو زخمی کرنے کے بعد پیدل فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا۔

دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے اپنی پروپیگنڈا نیوز ایجنسی اعماق کی وساطت سے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ اُس کے ایک جنگجو نے کیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور پولیس اہلکاروں پر مسلح حملوں کے جرم میں پہلے سے سزا یافتہ تھا۔

Frankreich | Schießerei auf der Champs Elysee Avenue
فائرنگ کا یہ واقعہ ہوتے ہی اس مشہور شاہراہ پر موجود سیاحوں اور مقامی باشندوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی اور وہ اپنی جانیں بچانے کے لیے افراتفری میں بھاگ کھڑے ہوئےتصویر: picturealliance/ dpa/MAXYPPP/O. Corsan

حملہ آور کی عمر اُنتالیس سال بتائی گئی ہے۔ فرانس کی انسداد دہشت گردی پولیس اُس سے اچھی طرح سے واقف تھی اور اس سال فروری میں اُسے پولیس افسروں کو ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کے شبے میں گرفتار بھی کیا گیا تھا لیکن پھر شواہد نہ ہونے کی بناء پر رہا کر دیا گیا تھا۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی نے پولیس ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ اس شخص پر 2005ء میں قتل کرنے کی کوشش کرنے کے تین الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی، جن میں سے دو الزامات کا تعلق پولیس افسروں پر حملے سے تھا۔

فرانس میں آئندہ اتوار کو صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں اور اس سے پہلے اس طرح کے کسی دہشت گردانہ واقعے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے۔ اس طرح کا کوئی بھی واقعہ فرانسیسی ووٹرز کے ذہنوں میں ملک میں امن و امان کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دے سکتا ہے تاہم اے ایف پی کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ تشدد کا یہ تازہ واقعہ ووٹرز پر کس انداز میں اثر انداز ہو گا۔

Frankreich Schüsse auf Polizisten in Paris
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ تشدد کا یہ تازہ واقعہ آئندہ اتوار کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تناظر میں ووٹرز پر کس انداز میں اثر انداز ہو گاتصویر: Getty Images/A. Meunier

ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ اب تک ووٹرز کے ذہنوں میں بے روزگاری جیسے موضوعات کو غلبہ حاصل تھا تاہم تشدد کے اس تازہ واقعے کے بعد ووٹروں کے ہاں ایک بار پھر امن و امان اور سلامتی جیسے موضوعات کو زیادہ اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔

اس واقعے کے بعد انتہائی دائیں بازو کی صدارتی امیدوار مارین لے پین کے ساتھ ساتھ اُن کے دائیں بازو کے اعتدال پسند حریف ایمانوئل ماکروں اور اسکینڈل زدہ قدامت پسند امیدوار فرانسوا فیوں نے جمعہ اکیس اپریل کے لیے اپنی انتخابی مہم کی مصروفیات منسوخ کر دی ہیں۔