1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پیرو میں صدارتی انتخابات: امیدواروں میں کانٹے دار مقابلہ

امجد علی6 جون 2016

جنوبی امریکی ملک پیرو میں صدارتی انتخابات کے بعد بظاہر دونوں امیدواروں پیدرو پابلو کُوچِنسکی اور کائیکو فُوجی موری کی پوزیشن مضبوط ہے لیکن حتمی فیصلہ غالباً بیرون ملک سے بذریعہ ڈاک بھیجے گئے ووٹوں کی گنتی کے بعد ہو گا۔

https://p.dw.com/p/1J1E3
Peru Pedro Pablo Kuczynski Wahlen in Lima
سابق وزیر اعظم اور عالمی بینک کے مُشیر پیدرو پابلو کُوچِنسکی کی کامیابی کے امکانات روشن بتائے جا رہے ہیںتصویر: Getty Images/AFP/E. Benavides

پیرو کے سربراہِ مملکت اولانتا ہُمالا کے جانشین کے چُناؤ کے لیے صدارتی انتخابات اتوار پانچ جون کو منعقد ہوئے۔ اٹھہتر فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ستتر سالہ نیو لبرل ماہرِ اقتصادیات اور وال اسٹریٹ کے سابقہ سرمایہ کار پیدرو پابلو کُوچِنسکی کو 50.8 فیصد جبکہ اُن کی حریف خاتون امیدوار کائیکو فُوجی موری کو 49.2 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

سابق وزیر اعظم اور عالمی بینک کے مُشیر پیدرو پابلو کُوچِنسکی پیرو میں پی پی کے کے مختصر نام سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک طرح سے پی پی کے یہ انتخابات جیت چکے ہیں کیونکہ جیسے جیسے گنتی آگے بڑھ رہی ہے، اُن کے اور اُن کی حریف خاتون امیدوار کے درمیان ووٹوں کا فرق مسلسل بڑھتا نظر آ رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پیر چھ جون کی شام تک ان انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدوار کا تعین ہو جائے گا۔

اکتالیس سالہ کائیکو فُوجی موری مطلق العنان حکمران البیرٹو فُوجی موری کی صاحبزادی ہیں اور ملک کی پہلی خاتون صدر بننا چاہتی ہیں۔ البیرٹو فُوجی موری 1990ء سے لے کر سن 2000ء تک پیرو کے صدر رہے تھے اور آج کل انسانی حقوق کی پامالی اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت پچیس سال کی سزائے قید کاٹ رہے ہیں۔

Peru Keiko Fujimori Wahlen in Lima
کائیکو فُوجی موری مطلق العنان حکمران البیرٹو فُوجی موری کی صاحبزادی ہیں اور تاحال گنتی میں پیچھے رہنے کے باوجود اُنہیں یقین ہے کہ وہ ملک کی پہلی خاتون صدر بنیں گیتصویر: picture alliance/AP Photo/M. Mejia

یہ اور بات ہے کہ پیرو کے بہت سے باشندے آج بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ فُوجی موری نے اپنے دورِ حکومت میں ’شائننگ پاتھ‘ کی پُر تشدد باغی تحریک کو شکست دی تھی اور دیہی علاقوں تک میں بھی اسکول اور ہسپتال بنوائے تھے۔

ابتدا میں یہی توقع تھی کہ کامیابی کائیکو فُوجی موری ہی کو ملے گی لیکن انتخابی مہم کے آخری دنوں میں اُن کی مقبولیت کم ہونے لگی، جس کی ایک وجہ اُن کے والد کا ماضی اور دوسری وجہ اُن کے مشیروں کے تازہ اسکینڈلز تھے۔

دوسری جانب پی پی کے نے خود کو ایک ایسے ایماندار اور تجربہ کار امیدوار کے طور پر پیش کیا، جو ملک کو بد عنوانی سے پاک کر دے گا، پیرو کے ہر شہر اور قصبے میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا اور پیرو کی معدنی برآمدات کی کم قیمتوں کے باعث اقتصادی ترقی کے کمزور ہو جانے والے عمل کو پھر سے بحال کرے گا۔

Alberto Fujimori
البیرٹو فُوجی موری آج کل انسانی حقوق کی پامالی اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت پچیس سال کی سزائے قید کاٹ رہے ہیںتصویر: Reuters

کامیاب ہونے کی صورت میں پی پی کے کو ایک ایسی کانگریس کے ساتھ سخت معاملہ درپیش ہو گا، جس میں کائیکو فُوجی موری کی جماعت کو ٹھوس اکثریت حاصل ہے۔ ساتھ ساتھ اُنہیں بائیں بازو کی اُس جماعت کا سامنا کرنا پڑے گا، جو ابھی سے کہہ چکی ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کی حامی نہیں ہے۔