چین ’ہر کسی کے لیے سود مند‘ کثیرالفریقی عالمی نظام کا حامی

عوامی جمہوریہ چین نے کہا ہے کہ بیجنگ حکومت ایک ایسے کثیرالفریقی عالمی نظام کی حامی ہے، جو ’ہر کسی کے لیے سود مند‘ ہو۔ یہ بات جرمن شہر میونخ کی سکیورٹی کانفرنس میں آج تک شرکت کرنے والے اعلیٰ ترین چینی عہدیدار نے کہی۔

جنوبی جرمن صوبے باویریا کے دارالحکومت میں جاری سالانہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں شریک چینی نمائندے یانگ جی ایچی نے آج ہفتہ سولہ فروری کو اس کانفرنس کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا کہ بیجنگ حکومت بین الاقوامی سطح پر تعاون کے ایسے ایک نظام کی بھرپور حامی ہے، جس میں کثیرالفریقی اور کثیر الجہتی سوچ کو مدنظر رکھا گیا ہو۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

تھائی لینڈ

تھائی لینڈ کے پاس ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ ہے جسے 1997 میں تیار کیا گیا تھا۔ یہ بحری بیڑہ اب بھی ملکی بحریہ کے استعمال میں ہے۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

ہالینڈ

چالیس کی دہائی کے اواخر میں ہالینڈ نے برطانیہ سے دو طیارہ بردار بحری بیڑے خریدے تھے۔ 1968 میں ان میں سے ایک ارجیٹینا کو فروخت کر دیا گیا تھا جو اب قابل استعمال نہیں ہے۔ دوسرا بحری بیڑہ سن 1971 میں اسکریپ کر دیا گیا تھا۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

ارجنٹائن

ہالینڈ سے خریدے گیا بحری بیڑا سن 1969 سے لے کر 1999 تک ارجنٹائن کی بحریہ کے زیر استعمال رہا۔ علاوہ ازیں اے آر اے انڈیپینڈینسیا بحری بیڑا 1959 سے لے کر 1969 تک زیر استعمال رہنے کے بعد اسکریپ کر دیا گیا تھا۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

برازیل

برازیل کے پاس اس وقت ایک فرانسیسی ساختہ طیارہ بردار بحری بیڑہ موجود ہے جو سن 2000 سے زیر استعمال ہے۔ اس کے علاوہ ساٹھ کی دہائی میں خریدا گیا ایک اور بحری بیڑہ بھی سن 2001 تک برازیل کی بحریہ کا حصہ تھا۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

اسپین

خوان کارلوس نامی بحری بیڑہ سن 2010 سے ہسپانوی بحریہ کا حصہ ہے جب کہ ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ ریزرو میں بھی موجود ہے۔ جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے دو ہسپانوی بحری بیڑے متروک بھی ہو چکے ہیں۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

آسٹریلیا

آسٹریلیا کے پاس مختلف اوقات میں تین ایسے جنگی بحری بیڑے تھے، جو لڑاکا طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان میں سے دو پچاس کی دہائی کے اواخر جب کہ تیسرا سن 1982 تک آسٹریلوی بحریہ کے استعمال میں رہے۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

کینیڈا

گزشتہ صدی کے وسط میں کینیڈا کے پاس جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے پانچ بحری بیڑے تھے جنہیں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں اسکریپ کر دیا گیا تھا۔ اس وقت کینیڈا کے پاس ایسا ایک بھی بحری بیڑہ موجود نہیں۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

بھارت

آئی این ایس وکرمادتیا نامی روسی ساخت کا طیارہ بردار بحری بیڑہ سن 2013 سے بھارتی بحریہ کے استعمال میں ہے۔ جب کہ کوچین شپ یارڈ میں ورکرنت نامی ایک اور بحری بیڑے کی تعمیر جاری ہے۔ ویرات نامی بحری بیڑہ سن 2016 تک استعمال میں رہنے کے بعد اب ریزرو میں شامل کیا جا چکا ہے جب کہ ایک بحری بیڑہ سن 1961 سے لے کر 1997 تک زیر استعمال رہنے کے بعد اسکریپ کیا جا چکا ہے۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

روس

اس وقت روسی فوج کے زیر استعمال صرف ایک ایسا بحری بیڑہ ہے جو جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد روس نے نوے کی دہائی کے پہلے پانچ برسوں کے دوران چار طیارہ بردار بحری بیڑوں میں سے تین اسکریپ کر دیے تھے جب کہ ایک کی تجدید کے بعد اسے بھارت کو فروخت کر دیا گیا تھا۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

جاپان

دوسری عالمی جنگ سے قبل جاپان کے پاس بیس طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے تھے جن میں سے اٹھارہ عالمی جنگ کے دوران امریکی حملوں کے باعث تباہ ہو کر سمندر برد ہو گئے تھے۔ دیگر دو کو جاپان نے سن 1946 میں ڈی کمیشن کرنے کے بعد اسکریپ کر دیا تھا۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

فرانس

فرانسیسی بحریہ کے تصرف میں اس وقت ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ ہے جب کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے گزشتہ صدی کے اختتام تک کے عرصے میں فرانس نے سات طیارہ بردار بحری بیڑے اسکریپ کر دیے تھے۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

جرمنی

جرمنی نے بیسویں صدی کے آغاز سے لے کر دوسری عالمی جنگ تک کے عرصے کے دوران آٹھ طیارہ بردار بحری بیڑے تیار کرنے کے منصوبے بنائے تھے جو مختلف وجوہات کی بنا پر مکمل نہ ہو سکے۔ اس وقت جرمن بحریہ کے پاس ایک بھی ایسا بحری بیڑہ نہیں ہے جو جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

برطانیہ

اس وقت برطانوی نیوی کے زیر استعمال کوئی طیارہ بردار بحری بیڑہ نہیں ہے لیکن لندن حکومت گزشتہ چند برسوں سے دو بحری بیڑوں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ صدی میں برطانیہ کے تصرف میں چالیس ایسے بحری بیڑے تھے جو جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان میں سے چار دوسری عالمی جنگ کے دوران تباہ ہوئے جب کہ دیگر کو اسکریپ کر دیا گیا تھا۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

اٹلی

اطالوی بحریہ کے پاس اس وقت دو طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں جن میں سے ایک سن 1985 سے جب کہ دوسرا سن 2008 سے زیر استعمال ہے۔ اٹلی کا ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ سن 1944 میں ڈوب گیا تھا جب کہ ایک کو پچاس کی دہائی میں اسکریپ کر دیا گیا تھا۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

چین

چین نے تیرہ مئی 2018 کے روز مکمل طور پر ملک ہی میں تیار کردہ پہلے طیارہ بردار بحری بیڑے کو تجرباتی بنیادوں پر سمندر میں اتارا۔ اس سے قبل چینی بحریہ کے پاس ایک روسی ساختہ طیارہ بردار بحری بیڑہ موجود ہے جسے سن 1998 میں یوکرائن سے خریدا گیا تھا اور اسے بحال کر کے سن 2012 میں قابل استعمال بنا لیا گیا تھا۔

کس ملک کے پاس کتنے طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں؟

امریکا

امریکی فوج کے پاس اس وقت دس طیارہ بردار بحری بیڑے زیر استعمال ہیں جب کہ ایک ریزرو میں بھی موجود ہے۔ امریکی بحری بیڑے طیاروں کی پرواز اور لینڈنگ کے حوالے سے بھی نہایت جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہیں اور انہیں جوہری توانائی سے چلایا جاتا ہے۔ امریکا گزشتہ صدی کے دوران 56 بحری بیڑے اسکریپ کر چکا ہے۔

یانگ جی ایچی چین کے خارجہ امور کے ڈائریکٹر ہیں اور وہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں آج تک شرکت کرنے والے اعلیٰ ترین چینی حکومتی اہلکار ہیں۔

انہوں نے کانفرنس کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا، ’’دنیا آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں اسے تنازعات کے حل، باہمی مکالمت، مختلف ممالک کو الگ تھلگ کر دینے کے خلاف اور کھلے پن کی سوچ اپنانے کے سلسلے میں یک فریقی اور کثیرالفریقی نظاموں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ چین کثیرالجہتی اور کثیرالفریقی عالمی نظام کی حمایت کرتا ہے کیونکہ آج کی دنیا کو درپیش مسائل کا حل اسی طرح نکالا جا سکتا ہے۔

مداخلت کی مخالفت

کانفرنس کے شرکاء سے یانگ جی ایچی کے چینی زبان میں خطاب کے انگریزی ترجمے کے متن کے مطابق انہوں نے اس امر کی بھی مخالفت کی کہ  کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں کسی بھی دوسری ریاست کی طرف سے کوئی مداخلت کی جائے۔ آج کی دنیا میں چین اپنا کردار کس طرح ادا کر رہا ہے، اس بارے میں بیجنگ حکومت کے خارجہ امور کے ڈائریکٹر نے کہا، ’’ہم ہر کسی کے لیے سود مند تعاون کی صورت میں عالمی امن اور ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔‘‘

یانگ جی ایچی گزشتہ نومبر میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ

آج تک کا سب سے بڑا چینی وفد

میونخ سکیورٹی کانفرنس میں اس سال بھی دنیا بھر سے سیاسی اور سفارتی شعبوں کی  سینکڑوں انتہائی اہم شخصیات حصہ لے رہی ہیں۔ اس مرتبہ اس کانفرنس میں چینی وفد بھی بیجنگ کی طرف سے اس اجتماع کے لیے آج تک جرمنی بھیجا جانے والا سب سے بڑا وفد ہے۔

کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے یانگ جی ایچی نے مزید کہا، ’’ہر ملک نے اپنے لیے ترقی کے راستے کا انتخاب خود کیا ہے، جس کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے۔‘‘

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اس اعلیٰ چینی حکومتی عہدیدار نے یہ بات چین میں انسانی حقوق کے احترام کی صورت حال پر بیرونی دنیا کی طرف سے کی جانے والی شدید تنقید کے ردعمل میں کہی۔

م م / ش ح / ڈی پی اے

چین میں ایغوروں کا دیس سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل

مغربی چینی علاقے سنکیانگ میں حفاظتی انتظامات سخت تر

چین کی قدیم شاہراہِ ریشم پر واقع شہر کاشغر میں دن میں تین بار الارم بجتا ہے اور دکاندار حکومت کی طرف سے دیے گئے لکڑی کے ڈنڈے تھامے فوراً اپنی دکانوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ پولیس کی نگرانی میں منظم کی جانے والی ان انسدادِ دہشت گردی مشقوں کے دوران یہ دکاندار چاقو لہرانے والے فرضی حملہ آوروں کے خلاف لڑتے ہیں۔

چین میں ایغوروں کا دیس سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل

’وَن بیلٹ، وَن روڈ پروگرام‘

ایغور نسل کا ایک شہری صحرائے تکلامکان میں امام عاصم کے مقبرے کو جانے والے راستے پر جا رہا ہے۔ کاشغر نامی شہر کو، جو پہلے ایک تاریخی تجارتی چوکی ہوا کرتا تھا، صدر شی جن پنگ کے ’وَن بیلٹ، وَن روڈ‘ نامی اُس اقتصادی پروگرام میں بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس کے ذریعے وہ چین کو ایشیا، مشرقِ وُسطیٰ اور اُس سے بھی آگے واقع خطّوں کے ساتھ جوڑ دینا چاہتے ہیں۔

چین میں ایغوروں کا دیس سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل

چین کو ’وَن بیلٹ، وَن روڈ‘ سمٹ میں خلل کا اندیشہ

خود مختار علاقے سنکیانگ ایغور میں ایک شخص اپنی بھیڑیں چرا رہا ہے۔ چین کے بدترین خدشات میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی بہت بڑے پیمانے کا حملہ بیجنگ میں اُس ’وَن بیلٹ، وَن روڈ‘ سمٹ کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس میں کئی عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ علاقائی صدر مقام اُرمچی میں 2009ء میں ہونے والے نسلی ہنگاموں کے بعد سے سنکیانگ خونریز پُر تشدد واقعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔

چین میں ایغوروں کا دیس سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل

چین میں نسلی اقلیت

ایک خاتون صحرائے تکلامکان میں امام عاصم کے مقبرے کے قریب ایک قبر پر دعا مانگ رہی ہے۔ ایغور ترک زبان بولنے والی اقلیت ہے، جس کے زیادہ تر ارکان سنی مسلمان ہیں۔ ایغوروں کا شمار چین میں سرکاری طور پر تسلیم شُدہ پچپن اقلیتوں میں ہوتا ہے۔ اگرچہ ایغور مجموعی طور پر ایک قدرے معتدل اسلام پر عمل پیرا ہیں لیکن کچھ ایغور جا کر مشرقِ وُسطیٰ میں مسلمان ملیشیاؤں میں شامل ہو گئے ہیں۔

چین میں ایغوروں کا دیس سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل

کمیونسٹ پارٹی کا دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم

چینی میڈیا کے مطابق کسی دہشت گردانہ حملے کا خطرہ بہت زیادہ ہے اور اسی لیے کمیونسٹ پارٹی نے بھی مسلمان انتہا پسندوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مثلاً چینی حکام نے مسلمان کمیونٹی کے رسم و رواج پر کئی طرح کی پابندیاں لگا دی ہیں۔ ریاستی پراپیگنڈے کو ’رَد کرنا‘ غیر قانونی قرار دیا گیا حالانکہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حکام اس ضابطے کو نافذ کیسے کریں گے۔

چین میں ایغوروں کا دیس سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل

سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب

بہت سے مقامی باشندوں کے خیال میں انسدادِ دہشت گردی کی مشقیں ایک ظالمانہ سکیورٹی آپریشن کا حصہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ چند مہینوں سے سنکیانگ کے ایغور علاقوں میں یہ آپریشن تیز تر کر دیا گیا ہے اور اس کا مقصد سکیورٹی سے زیادہ بڑے پیمانے پر نگرانی کرنا ہے۔ کاشغر میں ایک دکاندار نے بتایا:’’ہماری کوئی نجی زندگی نہیں رہ گئی۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ کیا کرنے والے ہیں۔‘‘

چین میں ایغوروں کا دیس سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل

مسلمانوں کی مخصوص روایات پر پابندی

مردوں پر لگائی گئی سب سے نمایاں پابندی یہ ہے کہ وہ اپنی ’داڑھیاں غیر معمولی طور پر نہ بڑھائیں‘۔ خواتین پر نقاب پہننے کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ خاص طور پر ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں جیسے عوامی مقامات میں برقعہ کرنے والی خواتین کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے اور فوراً پولیس کو مطلع کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

چین میں ایغوروں کا دیس سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل

سکیورٹی عملے کے چوکس ارکان

حکام نے ایسے لوگوں کے لیے انعام کا اعلان کر رکھا ہے، جو لمبی داڑھیوں والے نوجوانوں یا ایسی مذہبی روایات کی پاسداری کی اطلاع دیں گے، جس میں انتہا پسندی کا پہلو نکل سکتا ہو۔ اس طرح مخبری کا ایک باقاعدہ نظام تشکیل دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار گروپ ایسے احکامات کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔

چین میں ایغوروں کا دیس سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل

معیشت یا سلامتی؟

حکومت سنکیانگ میں جبر کی پالیسیاں اختیار کرنے کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اُن بھاری رقوم کا ذکر کرتی ہے، جو معدنی وسائل سے مالا مال اس خطّے کی اقتصادی ترقی کے لیے خرچ کی جا رہی ہیں۔ چین کی نسلی پالیسیوں کے ایک ماہر جیمز لائی بولڈ کے مطابق سنکیانگ میں سکیورٹی کے اقدامات لوگوں اور خیالات کے بہاؤ کو روکیں گے اور یوں ’وَن بیلٹ، وَن روڈ‘ پروگرام کے خلاف جاتے ہیں۔

موضوعات

ہمیں فالو کیجیے