کابل میں ڈالے گئے تمام ووٹ غير مؤثر

افغانستان کے انتخابی شکایات نمٹانے والے کمیشن نے ملکی دارالحکومت کابل میں رواں برس اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ڈالے گئے تمام ووٹ غير موثر قرار دے دیے ہیں۔ کمیشن کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے 25 وجوہات ہیں۔

انتخابی شکایات نمٹانے والے افغانستان کے انڈیپینڈنٹ الیکٹورل کمپلینٹس کمیشن (IECC) نے آج جمعرات چھ دسمبر کو اپنے ایک فیصلے میں رواں برس 20 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران ملکی دارالحکومت کابل میں ڈالے گئے تمام ووٹوں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

Afghanistan Sicherheitskräfte Taliban Afghanistan Konferenz

سکیورٹی اور انتظامی مشکلات کے سبب 400 مختلف حلقوں میں ایک روز بعد یعنی 21 اکتوبر کو ووٹنگ کا عمل ہوا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے آئی ای سی سی کے ترجمان علی رضا روحانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ کابل میں ڈالے گئے ووٹوں کو غير موثر قرار دیے جانے کے پیچھے 25 مختلف وجوہات ہیں۔ ان میں افغان انڈیپینڈنٹ الیکشن کمیشن (IEC) کی طرف سے بڑے فراڈ اور بدانتظامی جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔

Afghanistan Parlamentswahl | Wahllokal in Kabul

افغانستان میں رواں برس ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران ملک کے کُل 34  میں سے 32 صوبوں میں ووٹ 20 اکتوبر کو ڈالے گئے تھے۔

افغانستان میں رواں برس ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران ملک کے کُل 34  میں سے 32 صوبوں میں ووٹ 20 اکتوبر کو ڈالے گئے تھے۔ تاہم سکیورٹی اور انتظامی مشکلات کے سبب 400 مختلف حلقوں میں ایک روز بعد یعنی 21 اکتوبر کو ووٹنگ کا عمل ہوا۔ جبکہ صوبہ قندھار میں یہ انتخابات ایک ہفتہ تاخیر سے کرائے گئے جس کی وجہ ایک بڑے دہشت گردانہ حملے میں صوبائی پولیس سربراہ کی ہلاکت بنی۔

ا ب ا / ع س (ڈی پی اے)

موضوعات