کلبھوشن اور اہلیہ کی ملاقات: بھارت کو پاکستانی تجویز منظور

بھارت نے پاکستان میں سزائے موت کے منتظر بھارتی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن یادیو سے ان کی اہلیہ کی ملاقات کی پاکستانی تجویزمنظور کر لی ہے تاہم یہ درخواست بھی کی ہے کہ کلبھوشن کی والدہ کو بھی ملاقات کی اجازت دی جائے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نئی دہلی میں اتوار انیس نومبر کے روز بتایا کہ پاکستان میں جاسوسی اور تخریبی کارروائیوں کے جرم میں زیر حراست بھارتی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن یادیو کو انسانی بنیادوں پر ان کی اہلیہ سے ملاقات کی اجازت دینے کی پاکستانی تجویز منظور کر لی گئی ہے۔

اس بھارتی اہلکار نے کہا، ’’ہم یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ سزائے موت کا حکم پانے والے کلبھوشن یادیو کے حوالے سے انسانی بنیادوں پر پاکستانی پیشکش کے سلسلے میں ہم نے جوابی خط بھیج دیا ہے۔ یہ اس خاندان اور دونوں ملکوں کے لیے ایک حساس معاملہ ہے۔‘‘

کلبھوش نے پاکستانی آرمی چیف کو رحم کی درخواست بھی کر رکھی ہے

اس بھارتی اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اس بات سے واقف ہے کہ پاکستان نے نئی دہلی کے جوابی خط کے مضمون کو راز میں رکھا ہوا ہے اور اس بارے میں ابھی تک میڈیا کو کچھ نہیں بتایا گیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے اس وقت پر سامنے آیا، جب چند گھنٹے قبل ہی پاکستانی حکام نے اس حوالے سے بھارت سے خط موصول ہونے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری طرف میڈیا رپورٹوں کے مطابق پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد حکومت کلبھوشن یادیو کی اہلیہ کے علاوہ ان کی والدہ کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت دینے کی بھارتی درخواست پر غور کر رہی ہے۔
بھارت نے کئی ماہ قبل پاکستان سے درخواست کی تھی کہ کلبھوشن کی والدہ کو اپنے بیٹے سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ کلبھوشن یادیو کے اہل خانہ نے بھی اپنی طرف سے حکومت پاکستان سے اپیل کی تھی اور اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر کے توسط سے پاکستانی سیکرٹری خارجہ کو یہ درخواست اس سال  26 اپریل کو دی گئی تھی۔

پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی بیوی کو ملاقات کی اجازت دے دی

کلبھوشن یادیو کی والدہ کو پاکستان کا ویزا دیا جائے، سشما سوراج

کلبھوشن ياديو کی ’رحم کی اپيل‘ پر کيا ہونا چاہيے؟

کلبھوشن یادیو کی والدہ نے اس سال موسم بہار میں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کوایک عرضی دے کر اپنے بیٹے سے ملاقات کی اجازت طلب کی تھی۔ بھارت کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کے لیے بھی پاکستان سے متعدد مرتبہ درخواست کر چکا ہے تاہم یہ تمام درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔

کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کا اعلان پاکستانی فوج نے ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا

اسی دوران پاکستان نے دس نومبر کو انسانی بنیادوں پر کلبھوشن یادیو کی اہلیہ کو ان کے شوہر سے ملاقات کی اجازت دینے کی پیشکش کر کے بھارت کو حیران کر دیا تھا کیوں کہ بھارت نے یادیو کی اہلیہ کے لیے پاکستان کو ویزے کی درخواست کبھی نہیں کی تھی۔ البتہ پاکستان کی ایک فوجی عدالت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے سزائے موت کا حکم سنائے جانے کے دو ہفتے بعد اس سال پچیس اپریل کو بھارت نے یادیو کے والدین سدھیر اور اونتکا یادیو کے لیے ویزے کی درخواست ضرور دی تھی۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ کلبھوشن یادیو کی ان کی اہلیہ سے ملاقات کب اور کہاں ہو گی۔ نئی دہلی میں سفارتی ذرائع بھی اس حوالے سے کچھ کہنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق فریقین نے ملاقات کے طریقہ کار اور جگہ کے بارے میں صلاح مشورہ شروع کر دیا ہے اور بھارت چاہتا ہے کہ یادیو کی والدہ بھی ان کی بیوی کے ساتھ ہی پاکستان جائیں۔ یہ ملاقات ممکنہ طور پر دسمبر میں ہو سکتی ہے۔

کیا آئی سی جے جاکر بھارت کشمیر کے معاملے میں خود پھنس گیا؟

کلبھوشن یادیو: ’پاکستانی قانونی ٹیم نے غلطیاں کیں‘

’کلبھوشن کو بچانے کے لیے پاکستانی عدالت سے رجوع کرنا ہی واحد راستہ‘
یہ تازہ ترین پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں تیرہ دسمبر کو کلبھوشن یادیو کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آئے گا۔ پاکستان کی طرف سے اس معاملے میں اس کا قانونی جواب داخل کیے جانے کی یہ آخری تاریخ ہے۔
بھارتی دارالحکومت میں مبصرین پاکستان کی اس پیشکش کو دی ہیگ کی عدالت میں بھارتی دلائل کا توڑ نکالنے کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ بھارت کی دلیل ہے کہ کلبھوشن تک سفارتی رسائی کی اجازت نہ دے کر پاکستان ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

Now live
01:38 منٹ
ڈی ڈبلیو ویڈیو | 23.09.2017

ایٹمی طاقتوں کے مابین لائن آف کنٹرول پر کشیدگی

دوسری طرف پاکستان کا موقف یہ ہے کہ یہ اس کی قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور اسے کسی باہمی سفارتی معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ چند مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ یادیو بھارتی بحریہ کے ملازم نہیں، تو پاکستان کا کیس ممکنہ طور پر کمزور پڑ  جائے گا اور یوں اسلام آباد نئی دہلی کو یادیو تک سفارتی رسائی دینے پر مجبور ہو جائے گا۔
پاکستان کا الزام ہے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ کا ایک افسر اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایک ایجنٹ ہے، جو پاکستان میں جاسوسی اور تخریبی کارروائیوں میں ملو ث تھا۔ اسے تین مارچ 2016 کو پاکستانی صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیاتھا۔ دوسری طرف بھارت کا دعویٰ ہے کہ یادیو کافی عرصہ قبل بحریہ کی ملازمت چھوڑ  کر ایرانی علاقے چابہار چلے گئے تھے، جہاں وہ تجارت کرتے تھے۔ بھارتی دعوے کے مطابق یادیو کو ایران سے اغوا کر کے پاکستان لے جایا گیا تھا۔
کلبھوشن یادیو کو سنائی گئی سزائے موت پر فوری عمل درآمد مشکل ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کو یادیو کی سزا پر عمل درآمد نہ کرنے کے لیے کہہ رکھا ہے۔ یادیو نے پاکستانی فوج کے سربراہ کو رحم کی درخواست بھی کر رکھی ہے۔

اگر یہ درخواست مسترد ہو گئی، تو یادیو ہائی کورٹ اور پھر پاکستانی سپریم کورٹ میں بھی اپیل کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے پاس صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کی گنجائش بھی موجود ہو گی۔ اسی دوران بھارت یہ بھی کہہ چکا ہے کہ یادیو کو پھانسی دینے کے مضمرات سنگین ہوں گے۔

کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم؟

روس

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سِپری) کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی تعداد کے معاملے میں روس سب سے آگے ہے۔ سابق سوویت یونین نے اپنی طرف سے پہلی بار ایٹمی دھماکا سن 1949ء میں کیا تھا۔ سابق سوویت یونین کی جانشین ریاست روس کے پاس اس وقت آٹھ ہزار جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم؟

امریکا

سن 1945 میں پہلی بار جوہری تجربے کے کچھ ہی عرصے بعد امریکا نے جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے کیے تھے۔ سِپری کے مطابق امریکا کے پاس آج بھی 7300 ایٹم بم ہیں۔

کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم؟

فرانس

یورپ میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار فرانس کے پاس ہیں۔ ان کی تعداد 300 بتائی جاتی ہے۔ فرانس نے 1960ء میں ایٹم بم بنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کی تھی۔

کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم؟

چین

ایشیا کی اقتصادی سپر پاور اور دنیا کی سب سے بڑی بری فوج والے ملک چین کی حقیقی فوجی طاقت کے بارے میں بہت واضح معلومات نہیں ہیں۔ اندازہ ہے کہ چین کے پاس 250 ایٹم بم ہیں۔ چین نے سن 1964ء میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا۔

کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم؟

برطانیہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن برطانیہ نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ سن 1952ء میں کیا تھا۔ امریکا کے قریبی اتحادی ملک برطانیہ کے پاس 225 جوہری ہتھیار ہیں۔

کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم؟

پاکستان

پاکستان کے پاس ایک سو سے ایک سو بیس کے درمیان جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ سن 1998ء میں ایٹم بم تیار کرنے کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ پاکستان اور بھارت ماضی میں تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور اسلام آباد حکومت کے مطابق اس کا جوہری پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر اب ان ہمسایہ ممالک کے مابین کوئی جنگ ہوئی تو وہ جوہری جنگ میں بھی بدل سکتی ہے۔

کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم؟

بھارت

سن 1974ء میں پہلی بار اور 1998ء میں دوسری بار ایٹمی ٹیسٹ کرنے والے ملک بھارت کے پاس نوے سے ایک سو دس تک ایٹم بم موجود ہیں۔ چین اور پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات کے باوجود بھارت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی طرف سے پہلے کوئی جوہری حملہ نہیں کرے گا۔

کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم؟

اسرائیل

سن 1948ء سے 1973ء تک تین بار عرب ممالک سے جنگ لڑ چکنے والے ملک اسرائیل کے پاس قریب 80 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اسرائیلی ایٹمی پروگرام کے بارے میں بہت ہی کم معلومات دستیاب ہیں۔

کس ملک کے پاس کتنے ایٹم بم؟

شمالی کوریا

ایک اندازے کے مطابق شمالی کوریا کم از کم بھی چھ جوہری ہتھیاروں کا مالک ہے۔ شمالی کوریا کا اصل تنازعہ جنوبی کوریا سے ہے تاہم اس کے جوہری پروگرام پر مغربی ممالک کو بھی خدشات لاحق ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے باوجود اس کمیونسٹ ریاست نے سن 2006ء میں ایک جوہری تجربہ کیا تھا۔

ہمیں فالو کیجیے