1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی

عاطف توقیر
11 اپریل 2020

کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بھی سترہ لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

https://p.dw.com/p/3alyG
Türkei Geschäfte Markt Einkaufen Corona-Krise
تصویر: Reuters/S. Kayar
  • کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی
  • عالمی سطح پر کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں اٹلی کی مدد کی ہدایت دے دی
  • یوراگوائے میں پھنسے آسٹریلیوی شہریوں کی خصوصی پرواز کے ذریعے وطن واپسی

کورونا وائرس سے ہلاکتیں ایک لاکھ سے بڑھ گئیں

عالمی سطح پر کورونا وائرس سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اس عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد بھی سترہ لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق اس وائرس سے قریب ستر فیصد ہلاکتیں یورپ میں ہوئی ہیں۔ وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکا ہے، جہاں اب تک پانچ لاکھ سے زائد افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ یورپ میں اب تک مجموعی طور پر ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

 

جرمن وزیرخارجہ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کا دفاع

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے جمعے کے روز عالمی ادارہ صحت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ماس نے کہا کہ عالمی وبا کے تناظر میں ڈبلیو ایچ او کا کام غیر معمولی ہے۔ جرمن وزير خارجہ کے مطابق اس عالمی وبا کے خلاف فتح فقط اشتراک عمل سے ممکن ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عالمی ادارے پر شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ممکنہ طور پر امریکا اس ادارے کے لیے سرمایے کی فراہمی روک سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے امریکا کو اس عالمی وبا سے متعلق بہت تاخیر سے خبردار کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے اٹلی کی مدد کی ہدایات جاری کی تھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس سے شدید متاثرہ یورپی ملکی اٹلی کو مدد فراہم کرنے کے احکامات دے دیے ہيں۔ یہ بات اس یادداشت میں سامنے آئی، جو جمعے کی شب شائع ہوئی۔ اس ہدایت نامے میں ٹرمپ نے اٹلی میں موجود امریکی فوج سے کہا تھا کہ وہ اطالوی حکومت کی امداد کے لیے تیار رہیں اور فیلڈ ہسپتالوں، ٹرانسپورٹ سپلائیز، ایندھن اور خوراک کی ترسیل کے معاملات میں مدد کریں۔ اس ہدایت نامے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی حکومت کی پہلی ترجیح یقیناﹰ امریکی عوام ہیں تاہم اٹلی کی مدد کرنے سے اس بحران کی شدت میں کمی آئے گی۔

ایران میں رمضان کے اجتماعات شاید نہ ہو سکیں، خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں ممکنہ طور پر اس بار رمضان میں اجتماعات پر پابندی لگ سکتی ہے۔ ٹی وی پر اپنے خطاب میں خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اس بار ماہ رمضان میں روایتی عبادتی اجتماعات شايد منعقد نہ ہو پائیں مگر اپنے اپنے گھروں میں اسی طرز کا احساس قائم رکھا جائے۔ واضح رہے کہ اپریل کے آخر میں رمضان کا آغاز ہو رہا ہے تاہم ایران کورونا وائرس کی وبا سے شدید متاثر ہونے والا مسلم اکثریتی ملک ہے۔ اب تک ایران میں 67 ہزار افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جب کہ چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

جرمنی: لاک ڈاؤن ميں نرمی زير بحث

جرمنی میں اب یہ بحث جاری ہے کہ آیا ایسٹر کے بعد ملک بھر میں کورونا وائرس کے انسداد کے لیے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے یا نہیں۔ گزشتہ ہفتے جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا تھا کہ فی الحال لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے کسی تاریخ کا اعلان کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ فعل ہو گا۔ جرمنی میں 19 اپریل تک سماجی فاصلہ قائم رکھنے کے لیے لاک ڈاؤن جاری ہے۔ جرمن وزیر صحت ژینس شپاہن نے بھی ایسٹر کے بعد معمولات زندگی کو عام حالات کی جانب لانے کے خیال کو مسترد کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ رفتہ رفتہ معمول کی جانب بڑھا جائے گا۔

وائرس سے متاثرہ بحری جہاز سے مسافر آسٹریلیا کے لیے روانہ

یوراگوائے میں کورونا وائرس سے متاثرہ مسافر بحری جہاز سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سو سے زائد شہری ایک خصوصی پرواز کے ذریعے آسٹریلیا روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ مسافر گزشتہ دو ہفتوں سے یوراگوائے میں پھنسے ہوئے تھے۔ کروز شپ پر موجود 217 میں سے 128 مسافروں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد اس بحری جہاز کو قرنطینہ کر دیا گیا تھا۔ یوراگوائے اور آسٹریلیا کے درمیان ایک معاہدے کے بعد ان مسافروں کو ایک محفوظ راستہ فراہم کیا گیا۔ یہ افراد طبی سہولیات سے آراستہ ایک اے تھری فائیو زیرو ایئر بس کے ذریعے آسٹریلوی شہر میلبورن لائے جا رہے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا، عالمی سطح پر جرائم میں کمی

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر کے کئی ممالک میں جاری لاک ڈاؤنز کے نتیجے میں جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی شہر شکاگو، جو پرتشدد جرائم کے لحاظ سے مشہور ہے، میں جرائم میں 42 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ نیویارک میں بھی جرائم کی سطح 90 کی دہائی کے بعد کی کم ترین سطح پر ہے۔ ادھر جنوبی افریقی پولیس کے مطابق لاک ڈاؤن کے بعد سے جرائم کے واقعات میں غیرمعمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پیرو میں گزشتہ ماہ جرائم کی مجموعی شرح میں 84 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔