1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہشمالی امریکہ

کینیڈا: مسلم خاندان کے مشتبہ قاتل کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ

15 جون 2021

وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس حملے کو نفرت انگیز دہشت گردانہ حملہ قرار دیا تھا جس کے بعد یہ کارروائی ہوئی ہے۔ ایک نوجوان نے پاکستانی نژاد مسلم خاندان پر ٹرک چڑھا کر چار افراد کا قتل کر دیا تھا۔

https://p.dw.com/p/3uuup
Kanada Trauer um getötete muslimische Familie
تصویر: Carlos Osorio/REUTERS

کینیڈا میں سرکاری وکلاء نے 14 جون پیر کے روز بتایا کہ اس ماہ کے اوائل میں جس بیس سالہ شخص پر ٹرک چڑھا کر ایک ہی مسلم خاندان کے چار افراد کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا اس کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔

کینیڈا کے صوبے انٹاریو کے لندن شہر میں چھ جون کی شام کو پاکستانی نژاد ایک مسلم خاندان چہل قدمی کر رہا تھا تبھی ایک نوجوان نے ان پر اپنا ٹرک چڑھا دیا تھا۔ اس حملے میں 46 سالہ ایک مرد، ان کی 44 سالہ اہلیہ، ان کی 15 برس کی بیٹی اور 74 برس کی ماں موقع پر ہی انتقال کر  گئی تھیں۔ حملے میں نو برس کا ان کا بیٹا بھی بری طرح سے زخمی ہوا تھا تاہم وہ بچ گیا ہے۔

متاثرہ کنبے کے رشتہ داروں نے ان کی شناخت  46 سالہ سلمان افضل،  44 سالہ مدیحہ، پندرہ سالہ بیٹی یمنی اور سلمان افضل کی 74 سالہ والدہ کے طور پر کی تھی۔ نو سالہ بیٹے فائز کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ متاثرہ کنبے کے دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ خاندان چودہ برس قبل کینیڈا آیا تھا۔

Kanada Trauer um getötete muslimische Familie
تصویر: Carlos Osorio/REUTERS

کیس کے بارے میں حکام کیا کہتے ہیں؟

محکمہ پولیس نے اس کیس سے متعلق ایک بیان میں کہا، ''وفاقی اور صوبائی اٹارنی جنرل نے یہ الزام عائد کرتے ہوئے دہشت گردی کی کارروائی شروع کرنے کے لیے اپنی رضامندی دے دی ہے کہ قتل اور اقدام قتل کی کوشش کرنے کی وارداتیں بھی دہشت گردی کی ہی سرگرمیاں ہیں۔''

 پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس قتل کے مبینہ ملزم نتھانیئل ویلٹمین نے قتل کی یہ واردات ایک خاص مقصد کے تحت انجام دی اور وہ دانستہ طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ان پر دہشت گردی کے مقدمے کے ساتھ ساتھ پہلے درجے کے قتل اور اقدام قتل کے چار الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ابھی تک کوئی ایسا سراغ نہیں ملا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ ماضی میں ملزم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ رہا ہو یا پھر کسی انتہا پسند گروپ سے ان کا تعلق ہو۔ پیر کے روز انہیں جب عدالت میں پیش کیا گیا تو نیتھانیئل نے بتایا کہ اس کے پاس ابھی کوئی وکیل نہیں ہے۔  عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ21  جون مقرر کی ہے۔

Kanada Trauer um getötete muslimische Familie
تصویر: Carlos Osorio/REUTERS

اس حملے پر رہنماؤں کا رد عمل کیا رہا؟

ملک کے بیشتر بڑے رہنماؤں نے اس حملے کی پر زور الفاظ میں مذمت کی۔ وزیر اعظم جسٹن ٹرودو نے پارلیمان سے اپنے خطاب میں اس حملے کو نفرت انگریز دہشت گرادنہ حملے سے تعبیر کیا تھا۔ 

نائب وزیر اعظم کرسٹیا فری لینڈ نے دہشت گردی کا کیس درج کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا، ''ہمارے لیے اسے دہشت گردی کا نام دینا بہت ضروری ہے...اور ہمارے لیے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ہم اس بات کی شناخت کریں کہ سفید فام بالادستی سے کینیڈا اور کینیڈا کے شہریوں کو کتنا بڑا خطرہ لاحق ہے۔''

کیوبیک سٹی میں مسجد پر حملہ، متاثرین کے ساتھ اظہار یک جہتی

کینیڈا میں مسلم تنظیم 'دی نیشنل کونسل آف کینیڈیئن مسلمز' (این سی سی ایم) نے بھی دہشت گردی کا کیس درج کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ادارے کا کہنا تھا، ''ہم دہشت گردی اور اسلامو فوبیا کی کارروائیوں سے کبھی بھی گھبرانے والے نہیں ہیں۔'' 

کینیڈا میں مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے حملے ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ سن 2017 میں ایک نوجوان نے کیوبیک سٹی کی ایک مسجد میں نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی۔ اس حملے میں چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

ص ز/ ج ا (روئٹرز، اے ایف پی)

ہمیں اسلاموفوبیا کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے، جسٹن ٹروڈو

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں