گولڈن گلوب ایوارڈز، بوہیمین رہپسڈی سب سے کامیاب فلم

برطانوی روک بینڈ کوئین کی کہانی پر بنائی گئی فلم بوہیمین رہپسڈی نے گولڈن گلوب ایوارڈز کا میلہ اپنے نام کر لیا۔ یہ فلم اس بینڈ کے رکن فریڈی کو مرکزی کردار بنا کر تخلیق کی گئی ہے۔

اس فلم نے گولڈن گلوب ایوارڈز کے لیے فیورٹ سمجھی جانے والی فلم ’اے اسٹار از بورن‘‘ یا ’ایک ستارے کا جنم ہوا‘‘ کو شکست دے دی۔

76 ویں گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب میں بہترین ڈرامہ اور بہترین اداکار کا ایوارڈ لے کر بوہیمین رہپسڈی نے ایک طرح سے ایک غیرمتوقع کامیابی حاصل کی، کیوں کہ زیادہ تر افراد کا خیال تھا کہ ’اے اسٹار از بورن‘ یہ ایوارڈ جیت جائے گی۔ اس فلم میں رامی مالک نے مرکزی کردار ادا کیا ہے اور بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی انہی کو ملا۔

گولڈن گلوب ایوارڈز، ’تھری بل بورڈز‘ کی بڑی کامیابی

گولڈن گلوب ایوارڈز، میرل اسٹریپ ٹرمپ پر برس پڑیں

آسکر نامزدگی حاصل کرنے والے روسی ہدایت کار کو تنقید کا سامنا

لیڈی گاگا بھی ’اے اسٹار از بورن‘ کا حصہ ہیں۔ اس فلم کے حوالے سے عمومی رائے یہ تھی کہ یہ آئندہ آسکر ایوارڈ تک اپنے نام کر سکتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ فلمی دنیا کے سب سے معتبر اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) کی امسالہ تقریب 24 فروری کو منعقد ہو گی۔

گولڈن گلوب ایوارڈز کی اس تقریب کی میزبانی سینڈرا اوہ اور اینڈی سیمبرگ نے کی، جس دوران وہ مختلف چٹکلے بھی سناتے رہے۔

سینڈرا اوہ بھی ٹی وی ڈرامے ’کِلنگ ایو‘ ’یا قاتل شام‘ میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیت گئیں۔ انہوں نے اس موقع پر کوریا میں مقیم اپنے والدین کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تیسرا موقع ہے کہ انہوں نے کوئی گولڈن گلوب ایوارڈ جیتا ہے۔

امسالہ گولڈن گلوب ایوارڈز میں بہترین اداکار کا ایوارڈ جیتنے والے رامی مالک اس سے قبل ٹی وی ڈرامے ’مسٹر روبوٹ‘ میں بہترین اداکاری کے شعبے میں دو مرتبہ گولڈن گلوب کے لیے نام زد ہو چکے ہیں، تاہم یہ ان کی زندگی کا پہلا گولڈن گلوب ہے۔

عمدہ کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز

فلم کے شعبے میں منفرد تجربہ

نہ صرف ’بوائے ہُڈ‘ کو ’بہترین ڈرامہ‘ ایوارڈ ملا بلکہ لِنک لیٹر کو بہترین ہدایتکار اور پٹریسیا آرکیٹ کو بہترین معاون اداکارہ کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ یہ فلم میسن نامی لڑکے (ایلر کولٹرین) اور اُس کے کنبے کی بارہ برسوں پر پھیلی ہوئی داستان بیان کرتی ہے۔ فلم بنانے پر بھی پورے بارہ برس لگے، جن میں اداکاروں کو وقت کے ساتھ ساتھ بڑے ہوتا دکھایا گیا ہے۔

عمدہ کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز

ایک ایوارڈ ایمی ایڈمز کے لیے

اٹلی میں پیدا ہونے والی امریکی اداکارہ ایمی ایڈمز کو مزاحیہ فلموں کے شعبے میں بہترین اداکارہ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ فلم ’بِگ آئیز‘ میں اُنہوں نے پچاس کے عشرے کی ایک ایسی مصورہ کا کردار ادا کیا ہے، جسے کامیابی نہیں مل پاتی۔ اُس کی بنائی ہوئی تصاویر کو اچانک اُس وقت کامیابی ملنا شروع ہو جاتی ہے، جب اُس کا شوہر (اداکار کرسٹوفر والٹس) لوگوں پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ تصاویر اُس کی بنائی ہوئی ہیں۔

عمدہ کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز

’مَیں شارلی ہوں‘

گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریبِ تقسیم میں پیرس میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ فرانس سے تعلق رکھنے والے فلم کمپوزر الیگذانڈر دیسپلا کی طرح شو بز کی کئی مشہور شخصیات نے حملے کا نشانہ بننے والے جریدے ’شارلی ایبڈو‘ کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لیے ’مَیں شارلی ہوں‘ کا بینر اٹھا رکھا تھا۔

عمدہ کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز

’بوائے ہُڈ‘ کے لیے تین ایوارڈز

’بہترین ڈرامہ‘ قرار پائی، ہدایتکار رچرڈ لِنک لیٹر کی فلم ’بوائے ہُڈ‘، جسے تین ایوارڈز سے نوازا گیا۔ گولڈن گلوبز کو امریکا میں آسکر ایوارڈز کے بعد اہم ترین فلمی اعزاز تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ ٹی وی پروڈکشنز کے لیے بھی دیا جاتا ہے اور اس رجحان کی نشاندہی کرتا ہے کہ آسکر ایوارڈز کس کس کے حصے میں آئیں گے۔

عمدہ کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز

’گرینڈ بوڈاپیسٹ ہوٹل‘ کی ٹیم

گولڈن گلوب ایوارڈز سنجیدہ (ڈرامہ) فلموں کے ساتھ ساتھ میوزیکل یا کامیڈی فلموں کے شعبے میں بھی دیے جاتے ہیں۔ اس شعبے میں ’گرینڈ بوڈاپیسٹ ہوٹل‘ بہترین فلم قرار پائی۔ ’بوائے ہُڈ‘ اور ’گرینڈ بوڈاپیسٹ ہوٹل‘ دونوں فلمیں پہلے پہل برلن کے فلمی میلے میں دکھائی گئی تھیں۔

عمدہ کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز

بہترین اداکارہ جولین مُور

ڈرامائی فلموں کے شعبے میں جُولین مُور کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔ اُنہوں نے یہ اعزاز فلم ’اسٹل ایلس‘ میں اپنی عمدہ اداکاری پر حاصل کیا۔ اس فلم میں اُنہوں نے الزہائمر کی ایک انوکھی اور موروثی قسم میں مبتلا خاتون کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ فلم مارچ میں جرمن سینماؤں کی زینت بنے گی۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ یہ بیماری خاندان کے اندر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔

عمدہ کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز

ایک نیا فلمی ستارہ

جہاں جولین مُور جیسی اداکارہ پہلے بھی بے شمار مرتبہ اعزازات حاصل کر چکی ہے، وہاں ڈرامے کے شعبے میں بہترین اداکار کا اعزاز حاصل کرنے والے اَیڈی رَیڈ مین کو یہ اعزاز پہلی مرتبہ حاصل ہوا، جو اُن کے عالمی کیریئر کی ابتدا کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس برطانوی اداکار نے ’دی تھیوری آف ایوری تھِنگ‘ میں اپنے نامور ہم وطن یعنی ماہرِ طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ کے کردار میں رنگ بھرا ہے۔

عمدہ کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز

’برڈ مین‘ کی ٹیم کے چہروں پر مسکراہٹیں

’بوائے ہُڈ‘ کے بعد کامیاب ترین فلم ’برڈ مین‘ رہی۔ اس فلم کے لیے بہترین اسکرپٹ کا ایوارڈ ہدایتکار الیخاندرو گونزالیس ایناریتُو (دائیں سے دوسرے) نے وصول کیا۔ اُنہوں نے یہ اسکرپٹ اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر لکھا۔ میکسیکو سے تعلق رکھنے والے اس ڈائریکٹر کی فلم کے حصے میں دوسرا بڑا اعزاز اُس وقت آیا، جب مائیکل کِیٹن کو بہترین مزاحیہ اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

عمدہ کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز

غیر ملکی زبان کی بہترین فلم

روسی فلم ’لیویاتھان‘ کو غیر ملکی زبان کی بہترین فلم کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فرانسیسی میلے ’کن‘ میں بھی اعزاز حاصل کرنے والی اس فلم میں ہدایتکار آندرے زویاگنتسیف (دائیں) نے ایک ایسے شخص کی داستان بیان کی ہے، جو سائبیریا میں تنہا زندگی گزارتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اُسے خطرناک سیاستدانوں کی طرف سے خطرہ ہے۔

عمدہ کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز

بہترین ٹی وی ڈرامہ

آسکر اور گولڈن گلوب میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ جہاں آسکر ایوارڈز کا فیصلہ کئی ہزار ارکان پر مشتمل ا یک بڑی امریکی اکیڈمی کرتی ہے، وہاں گولڈن گلوبز دینے کا فیصلہ بیرونی دنیا سے امریکا میں متعین کیے گئے معدودے چند صحافی کرتے ہیں۔ ایک اور فرق یہ ہے کہ گولڈن گلوب بہترین ٹی وی پروڈکشن کے لیے بھی دیے جاتے ہیں، جیسے کہ اس سال ’دی افیئر‘ کو بہترین ڈرامہ سیریز کا ایوارڈ دیا گیا۔

عمدہ کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز

عمر بھر کی خدمات کے بدلے میں

امریکی اداکار جارج کلونی کو فلم کے لیے اُن کی اب تک کی خدمات کے بدلے میں خصوصی گولڈن گلوب ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اُنہوں نے اپنی تقریر میں پیرس کے دہشت گردانہ حملوں کا تذکرہ کیا۔ اُنہوں نے دنیا بھر میں پیرس حملے کے متاثرین کے لیے یک جہتی کے پیشِ نظر کہا کہ یہ ایک ’غیر معمولی دن‘ ہے۔ اُنہوں نے بھی اپنی تقریر کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا، ’مَیں شارلی ہوں‘۔

ایوارڈ وصول کرتے ہوئے انہوں نے کوئین بینڈ کے ارکان فرائن مے، روجر ٹیلر اور فریڈی مرکری کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فریڈی مرکری کا کردار ذاتی طور پر ان کے دل کے نہایت قریب اس لیے بھی تھا کہ اس میں ایک تارک وطن کی جدوجہد اور شناخت کی تلاش جیسے معاملات دکھائے گئے ہیں۔ ’’میں نے کوشش کی کہ بہ طور تارک وطن جو جو کچھ میں نے محسوس کیا، یا ابھی تک کرتا ہوں، اسے سامنے رکھ کر ہی یہ فلمی کردار ادا کروں۔‘‘

ع ت، م م (اے ایف پی، ڈی پی اے)