1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’’یورپی یونین میں ’یونین‘ کی کمی‘‘

عدنان اسحاق 14 ستمبر 2016

یورپی کمیشن کے سربراہ ژان کلوڈ ینکر نے یورپی رہنماؤں سے کہا ہے کہ یکجہتی مسلط نہیں کی جا سکتی بلکہ یہ رضاکارانہ طور پر دل سے آتی ہے۔ ینکر نے یورپ میں عوامیت پسندوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر تشویش کا اظہار کیا۔

https://p.dw.com/p/1K1jq
تصویر: picture-alliance/dpa/P. Seeger

یورپی کمیشن کے سربراہ ژان کلوڈ ینکر نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین اپنی بقا کے خطرے سے دوچار ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آج کل یونین کی رکن ریاستیں زیادہ تر اپنے قومی مفادات کی ہی بات کر رہی ہیں۔ ان کے بقول، ایسے شعبوں کی تعداد انتہائی کم ہے، جن میں آپس میں یکجہتی کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے یورپی یونین میں بڑھتی ہوئی قوم پرستی سے بھی خبردار کیا۔

فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں قائم یورپی پارلیمان سے ان کے اس خطاب کا مقصد یورپی یونین کے سربراہی اجلاس سے دو روز قبل سربراہان مملکت و حکومت کو برطانیہ میں یورپی یونین سے انخلاء کے ریفرنڈم کے بعد پیدا ہونے والےحالات سے خبردار کرنا تھا۔

Frankreich Straßburg EU Parlament Jean-Claude Juncker
تصویر: picture-alliance/dpa/P. Seeger

عنقریب سلوواکیہ کے دارالحکومت برٹسلاوا میں ہونے والے اس سربراہ اجلاس میں برطانیہ کی نمائندگی نہیں ہو گی اور اس میں برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کے بعد کی صورتحال اور مستقبل کے حوالے سے طریقہٴ کار جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ یورپی یونین کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک کی جانب سے براٹسلاوا سربراہی اجلاس کے لیے جاری کیے جانے والے دعوت نامے پر لکھا ہے، ’’یہ ایک خوفناک غلطی ہو گی کہ اگر یورپی یونین بریگزٹ سے حاصل ہونے والے سبق کو نظر انداز کرے۔ اس کے علاوہ مہاجرین کے بحران سے جڑے مسائل پر بھی توجہ دینا لازمی ہے۔‘‘

ینکر کے مطابق، ’’ہم برطانوی عوام کی رائے کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اس فیصلے پر افسردہ بھی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بریگزٹ کے بعد بھی یورپی یونین اور برطانیہ کے تعلقات دوستانہ ہی رہیں۔ ساتھ ہی یورپی یونین کی جانب سے برطانیہ سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ انخلاء کی درخواست دینے کے معاملے میں جلدی کرے کیونکہ یہ دونوں کے مفاد میں ہے۔