1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپ میں ای کولی کی وباء کیسے پھیلی؟

8 جون 2011

جرمنی سمیت کئی یورپی ملکوں میں ای کولی کہلانے والے مہلک بیکٹیریا کی وبا کیسے پھیلی، اس بارے میں کوئی بھی بات ابھی تک یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ اس بارے میں یورپی یونین کے رکن ملکوں کے درمیان مشورے مسلسل جاری ہیں۔

https://p.dw.com/p/11WiZ
عام طور پر یہ بیکٹیریا نقصان دہ نہیں ہوتاتصویر: picture alliance/dpa

اس جان لیوا مرض نے اب تک جرمنی کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ جرمنی میں اب تک اس بیکٹیریا کے ہاتھوں کم از کم 22 افراد ہلاک اور ڈھائی ہزار کے قریب بیمار ہو چکے ہیں۔ اب تک اس بیکٹیریا کی جرمنی سمیت یورپی یونین کے کم از کم 11 دیگر ملکوں میں موجودگی ثابت ہو چکی ہے۔ یورپ سے باہر یہ بیکٹیریا امریکہ بھی پہنچ چکا ہے۔ یورپ میں اس بیکٹیریا سے متاثرہ افراد کی تشخیص ہالینڈ، فرانس، برطانیہ اور کئی دیگر ملکوں میں ہو چکی ہے۔

لیکن ہلاک اور بیمار ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد اب تک جرمنی میں ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں سے یہ مہلک جرثومہ مبینہ طور پر پھیلنا شروع ہوا تھا۔ اس وجہ سے جرمنی اور کئی دیگر ملکوں کے زرعی شعبے بھی متاثر ہوئے ہیں کیونکہ وہاں کے کسانوں کو کھیرے، ٹماٹر اور دیگر سبزیوں فروخت نہ ہونے کے سبب بھاری نقصانات اٹھانا پڑے۔

شروع میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شمالی جرمنی میں یہ بیکٹیریا اسپین سے درآمد کردہ کھیروں کے ذریعے پہنچا تاہم بعد میں یہ دعوے غلط ثابت ہوئے۔ اس پر اسپین میں وزیر صحت کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ جرمنی میں ہیمبرگ کی صوبائی حکومت کو ہسپانوی کسانوں کی مالی تلافی کرنا ہو گی کیونکہ ہیمبرگ کے حکام نے بغیر کسی ثبوت کے یہ غلط دعویٰ کر دیا تھا کہ یہ بیکٹیریا اسپین سے جرمنی پہنچا۔

NO FLASH Spanien Spanische Gurke Gurken
اس جان لیوا مرض نے اب تک جرمنی کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہےتصویر: AP

بعد ازاں جرمن حکام نے یہ بھی کہا کہ یہ بیکٹیریا شمالی جرمنی کے ایک زرعی فارم کے مختلف بیجوں سے پھوٹنے والے پودوں کے ذریعے پھیلا جو مختلف شہروں میں تاجروں اور ریستورانوں کو فروخت کیے گئے تھے۔ پھر یہ اندازے بھی غلط ثابت ہوئے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ای کولی نامی مہلک بیکٹیریا شمالی جرمنی میں کس جگہ سے وبائی انداز میں پھیلا۔

ای کولی بیکٹیریا کا تعلق ایسے جرثوموں سے ہے جو انسانوں سمیت بہت سے جانداروں کے نظام ہضم خاص طور پر آنتوں میں پائے جاتے ہیں۔ ای کولی بیکٹیریا کا پورا نام Escherichia coli ہے جسے مختصراً E.coli کہا جاتا ہے۔

یورپی یونین کے صحت کے امور کے کمشنر جون ڈالی کہتے ہیں، ’’سب سے پہلے تو ہم نے وہ سارے نیٹ ورک فعال کر دیے جن کا مقصد بحرانی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا ہے اور اس مشاورت کا مقصد بیکٹیریا کے پھیلاؤ سے متعلق صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ فوری وارننگ اور ری ایکشن سسٹم کے تحت ہم اپنے فوڈ اور فیڈ سسٹم کو اس بیکٹیریا کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہے ہیں اور معلومات کا تیز رفتار تبادلہ عمل میں آ رہا ہے۔‘‘

عام طور پر یہ بیکٹیریا نقصان دہ نہیں ہوتا۔ اگر کبھی کوئی انسان اس کے باعث بیمار ہو بھی جائے تو نتیجہ اسہال سے لے کر نمونیا تک کی بیماری کی صورت میں نکلتا ہے۔ لیکن زیادہ تر ای کولی اپنی اصلی حالت میں جان لیوا نہیں ہوتا۔ تاہم جرمنی میں اس قسم کا بیکٹیریا mutation کے عمل سے گزر کر جن دیگر ملکوں تک پہنچ گیا، اس کا سائنسی نام 0104H4 ہے۔ یہ بیکٹیریا بہت زہریلے مادے پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے اسے Shiga toxin-producing ای کولی یا STEC بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ STEC نامی یہ بیکٹیریا انسانوں میں وبائی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس بیکٹیریا کا شکار ہونے والے اکثر مریض چند روز میں دوبارہ صحتیاب ہو جاتے ہیں لیکن STEC یا EHEC جو زہریلے مادے پیدا کرتا ہے وہ آنتوں سے دوران خون میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر ایک ایسی جان لیوا بیماری کا سبب بنتے ہیں جو HUS کہلاتی ہے۔ اس بیماری میں مریض کے خون میں سرخ خلیے تباہ ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی گردوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: کشور مصطفیٰ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں