1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

'طالبان سابقہ فوجیوں کے لیے عام معافی پر عمل درآمد کریں‘

5 دسمبر 2021

امریکا، جرمنی اور برطانیہ سمیت بیس ممالک نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کی گمشدگی یا ان کو قتل کر دیے جانے کے الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/43r6B
تصویر: Oliver Weiken/dpa/picture alliance

ان ممالک کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اس ہفتے انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس سال اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک سو سے زائد سابقہ افغان سکیورٹی اہلکاروں کو یا تو قتل کر دیا گیا یا پھر وہ لاپتہ ہیں۔

عام معافی کو ملک بھر میں لاگو کیا جائے

بیس ممالک کا مشترکہ بیان امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے، ''ہم اس بات پر زور دینا چاہتے ہیں کہ یہ الزامات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو ظاہر کرتے ہیں اور طالبان کی جانب سے سابقہ افغان فورسز کو دی جانے والی معافی کے خلاف ہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے، ''ہم طالبان سے فوری مطالبہ کرتے ہیں کہ سابقہ افغان فورسز اور سابقہ سرکاری ملازمین کے لیے اعلان کی گئی ایمنسٹی یا معافی کو ملک بھر میں فوری لاگو کیا جائے۔‘‘

ان بیس ممالک جن میں کینیڈا، جاپان اور سویڈن بھی شامل ہیں، نے ہیومن رائٹس واچ کے الزامات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مذکورہ ممالک کا کہنا ہے کہ افغان فوجیوں کی ہلاکتوں یا ان کی گمشدگی کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ان کے خلاف لیے جانے والے ایکشن کو عوامی سطح پر شائع کیا جائے تاکہ مزید ہلاکتوں اور گمشدگیوں کو روکا جا سکے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے مقامی کمانڈر بھی افغان فورسز کے سابقہ اہلکاروں کی تلاش میں ہیں۔ رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ طالبان حکومتی ریکارڈ کی مدد سے ایسے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں جنہوں نے عسکریت پسندوں کو ہدف بنایا تھا۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے خود سرنڈر کر دیا اور انہیں عام معافی کا حکومتی خط بھی دیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق مقامی طالبان کمانڈروں نے اپنی فہرستیں بنائی ہیں اور ان میں درج افراد کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ناقابلِ معافی اقدامات کے مرتکب ہیں۔

ب ج / ع آ (ڈی پی اے)