1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستافغانستان

افغانستان: طالبان کی شہریوں کے لیے مزید پابندیاں

22 اپریل 2022

افغانستان میں عسکریت پسند طالبان کا کہنا ہے کہ وہ موبائل ایپ ٹک ٹاک اور پب جی نامی گیم پر پابندی عائد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایپس نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔

https://p.dw.com/p/4AIBp
طالبان قیادت نےعوام پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں تصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

یہ دونوں فون ایپس نوجوان افغانوں میں کافی مقبول ہیں جنہیں پہلے ہی انٹرٹینمنٹ کے بہت کم ذرائع میسر ہیں۔ گزشتہ سال اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان نے موسیقی، فلموں اور کئی ٹی وی ڈراموں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

طالبان حکومت کی کابینہ کا کہنا ہے، '' یہ ایپس نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔‘‘ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشنز کی وزارت کو ان ایپس کو بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

طالبان کی کابینہ نے وزارت کو ایسے ٹی وی چینلز کو بند کرنے کا بھی حکم دیا ہے جو 'غیر اخلاقی‘ مواد نشر کر رہے ہیں حالانکہ افغان چینلز پر زیادہ تر خبریں اور مذہبی مواد نشر کیا جاتا ہے۔

طالبان بین الاقوامی امیدوں کے خلاف

طالبان کی جانب سے بہت سخت قوانین کو نافذ نہ کرنے کے وعدے کیے گئے تھے۔ سن 1996 سے 2001 میں ان کی حکومت نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی تھی، خواتین کو اکیلے گھر سے نکلنے کی اجازت نہ تھی اور موسیقی اور رقص وغیرہ پر بھی پابندی عائد تھی۔ پتنگ بازی پر بھی پابندی تھی۔

اب اس نئی حکومت میں دھیرے دھیرے طالبان ایسی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جو کم ازکم مغربی دنیا کو قبول نہیں۔ طالبان نے اب بھی بچیوں کے سیکنڈری اسکولوں میں پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ کسی مرد کے بغیر اب بھی خواتین کو تنہا سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اس جنگ زدہ ملک میں صرف نو ملین افراد کو انٹرنیٹ کی رسائی حاصل ہے۔ 36 ملین آبادی کے ملک میں صرف چار ملین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیں۔

ب ج، ع ق (اے ایف پی)

افغان لڑکیوں کی ٹیم: ’فٹ بال کھیلنا آزادی کےمانند ہے‘