1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغان سرحد کے قریب عسکریت پسندوں کا پاکستانی فوجیوں پر حملہ

1 مئی 2019

پاکستانی فوج کے مطابق افغان سرحد کے قریب عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں اس کے تین فوجی مارے گئے ہیں۔ ان حملہ آوروں نے سرحد پار طالبان کے ایک سابقہ گڑھ سے پاکستان میں داخل ہو کر ملکی فوجی دستوں پر فائرنگ شروع کر دی تھی۔

https://p.dw.com/p/3HmRR
تصویر: picture-alliance/AP

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ یکم مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان آرمی کے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان عسکریت پسندوں کی طرف سے آج بدھ کو شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں پاکستانی دستوں پر اچانک فائرنگ شروع کیے جانے کے بعد اطرف کے مابین باقاعدہ جھڑپ شروع ہو گئی تھی، جس میں تین پاکستانی فوجی مارے گئے اور سات زخمی بھی ہو گئے۔

پاکستان فوج نے اس جھڑپ کے بارے میں جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کوئی تفصیلات بتائے بغیر حملہ آوروں کو پہنچنے والے جانی نقصان کے بارے میں صرف یہ کہا کہ اس لڑائی میں ’بیسیوں عسکریت پسندوں‘ کو ہلاک یا زخمی کر دیا گیا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ سرحد کی لمبائی تقریباﹰ 2400 کلومیٹر یا 1500 میل بنتی ہے لیکن اس کی پوری طرح اور مستقل نگرانی تقریباﹰ ناممکن ہے۔ اسلام آباد اور کابل دونوں ہی ایک دوسرے پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقے سے سرحد پار کر کے دوسری طرف مسلح کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسندوں کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے۔

Grenzzaun zwischen Afghanistan und Pakistan
شمالی وزیرستان میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر تعمیر کردہ باڑ اور وہاں پہرہ دیتا ایک پاکستانی فوجیتصویر: Reuters/C. Firouz

دونوں ممالک کے مابین سرحد کا کام وہ ڈیورنڈ لائن کرتی ہے، جو 1896ء میں برطانوی نوآبادیاتی دور میں طے کی گئی تھی۔ کابل اس لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم نہیں کرتا اور پاکستان کے اس منصوبے کے بھی خلاف ہے، جس کے تحت اسی لائن کے ساتھ ساتھ پاکستانی دستے ایک سرحدی باڑ بھی تعمیر کر رہے ہیں۔

م م / ا ا / اے پی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں