1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستشمالی امریکہ

امریکا حوثی ملیشیا کو دہشت گرد بلیک لسٹ سے نکال دے گا

6 فروری 2021

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ یمنی حوثی ملیشیا کو دہشت گرد بلیک لسٹ سے خارج کر دے گی۔ یہ بات جمعہ پانچ فروری کو بتائی گئی۔

https://p.dw.com/p/3oz2T
Jemen 2015 | Houthi-Rebellen bei Bab al-Mandab
تصویر: picture-alliance/AP Photo/W. Qubady

موجودہ امریکی صدر کی انتظامیہ کا یمنی حوثی ملیشیا کو دہشت گرد 'بلیک لسٹ‘ سے خارج کرنا بھی ٹرمپ دور کی پالیسیوں میں تبدیلی کا تسلسل ہے۔ حوثی ملیشیا کو بلیک لسٹ قرار دینے کا فیصلہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مدتِ صدارت کے آخری ایام میں کیا تھا۔ محض تین ہفتوں کے بعد ہی اس میں تبدیلی کا امکان سامنے آ گیا ہے۔امریکا نے یمن پر سعودی حملوں کی حمایت روک دی

حوثی ملیشیا کے بارے میں فیصلے کی وجہ

امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے حوالے سے فیصلہ یمن میں ابتر انسانی صورت حال کے تناظر میں لیا جا رہا ہے اور ویسے بھی سابقہ انتظامیہ نے اپنی مدت کے اختتام کی آخری گھڑیوں میں ایسا قدم اٹھایا تھا۔

USA Außenminister Pompeo Kubapolitik
رواں برس انیس جنوری کو سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھاتصویر: Saul Loeb/REUTERS

اہلکار کے مطابق اقوام متحدہ اور انسانی امداد کی تنظیمیں واضح کر چکی ہیں کہ ٹرمپ انتطامیہ کے فیصلے نے دنیا کے شدید ترین انسانی المیے کی صورت حال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ٹرمپ انتطامیہ کو حوثی ملیشیا کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے پر بین الاقوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔امریکا حوثی باغیوں کو دہشتگردی کی فہرست سے ہٹائے: عالمی تنظیمیں

یمنی تنازعہ اور ٹرمپ انتطامیہ

یہ امر اہم ہے کہ عمومی طور پر یمنی تنازعے کو شیعہ ایران اور اس کی سنی خلیجی ریاستوں کے درمیان 'پراکسی‘ جنگ قرار دیی جاتی ہے۔ رواں برس انیس جنوری کو سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

یہ حکومتی اعلان موجودہ صدر جو بائیڈن کے حلف اٹھانے سے ایک روز قبل کیا گیا۔ اس اعلان میں چند امدادی گروپوں کو استثنیٰ بھی دیا گیا لیکن اقوام متحدہ اور دوسرے کئی امدادی گروپوں نے اس فیصلے کی منسوخی کا مطالبہ کر رکھا تھا۔

Saudi-Arabien Riad | Einigung auf Friedensplan im Jemen
یمن کے صدر منصور ہادی اپنے اتحادی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئےتصویر: Reuters/Saudi Press Agency

اقوام متحدہ کی کوششیں اور امریکا

سن 2015 میں شروع ہونے والے یمنی تنزعے کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ مسلسل مصالحتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر بھی بٹھایا گیا لیکن بات آگے نہیں بڑھی۔ سعودی عرب صدر منصور ہادی کی حمایت میں ہے تو ایرانی حکومت حوثی ملیشیا کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔حوثیوں سے دہشت گرد کا لیبل ہٹالیں، امریکا سے اقوام متحدہ کی اپیل

یمن میں امریکی فوج کشی کی اولین منظوری صدر باراک اوباما کے دور میں دی گئی تھی اور اس مین القاعدہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ عرب دنیا کے اس ملک کو شدید اقتصادی بد حالی کے ساتھ ساتھ کورونا وبا کا بھی سامنا ہے۔ اقوام، متحدہ نے یمنی صورت حال کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران قرار دیا ہے اور وہاں کی اسی فیصد آبادی امداد کی منتظر ہے۔

Hassan Nasrallah
حوثی ملیشیا کے اراکین ایران نواز لبنانی لیڈر حسن نصراللہ کی تصویر کے ساتھتصویر: picture-alliance/AP/H. Mohammed

جو بائیڈن انتظامیہ کا فیصلہ اور ردعمل

حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم سے خارج کرنے کے امریکی فیصلے کا بھرپور خیرمقدم سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ترجمان اسٹیفنی دویارچ کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کا حالیہ فیصلہ لاکھوں یمنی باشندوں کو سکون و راحت کا باعث بنے گا  کیونکہ ان کی بنیادی ضروریات کا انحصار انسانی امداد پر ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کو بلیک لسٹ سے خارج کرنے سے ایسا تاثر مت لیا جائے کہ امریکا نے اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے چشم پوشی کر لی ہے۔

 ع ح، ا ب ا (اے پی، روئٹرز)