1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کو دی جائے، بھارتی سپریم کورٹ

9 نومبر 2019

بھارتی سپریم کورٹ نے اجودھیا میں منہدم کی جانے والی بابری مسجد اراضی کی ملکیت ہندوؤں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

https://p.dw.com/p/3SjiC
Bildergalerie 20 Jahre nach dem Herabreißen der Babri-Moschee
تصویر: AFP/Getty Images

بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی قیادت چیف جسٹس رنجن گوگوئی کر رہے تھے۔ انہوں نے آج ہفتے کی صبح فیصلہ پڑھتے ہوئے بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کو دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے مسلمانوں کو اجودھیا شہر ہی میں ایک نئی مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل زمین دینے کی ہدایت بھی کی۔بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت نے یہ زمین ایک ٹرسٹ کے حوالے کی جائے گی جو مندر کی تعمیر کو یقینی بنائے گی۔

Indien Hindu-Nationalisten fordern den Bau eines Tempels
تصویر: Getty Images/AFP/S. Hussain

 چار سو باسٹھ برس قدیمی بابری مسجد کو ہندووں نے سن 1992 میں منہدم کر دیا تھا۔ بعد ازاں ہونے والے فسادات میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے ، جن میں زیادہ تر تعداد مسلمانوں کی تھی۔ اس کے بعد سے تقریباً 2.77 ایکڑ رقبہ والی یہ اراضی پولیس کی نگرانی میں تھی۔ آج عدالتی حکم آنے سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام پے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی،'' میری اپنے ہم وطنوں سے درخواست ہے کہ امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپنی روایت کو قائم رکھا جائے‘‘۔ 

'بابری مسجد - رام جنم بھومی اراضی ملکیت‘ کا مقدمہ بھارتی سیاست میں گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی سیاست میں اہم خیال کیا جاتا رہا ہے۔ اس مقدمے میں سن 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک غیر معمولی فیصلہ سناتے ہوئے مذکورہ اراضی کو معاملے کے اصل فریقوں یعنی سنی وقف بورڈ اور نرموہی اکھاڑہ کے ساتھ ساتھ رام للا کو تین برابر حصوں میں تقسیم کر دیا۔

بابری مسجد کی تاریخ

مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے سپہ سالار میر باقی نے بادشاہ کے حکم پر سن 1528-29 میں اترپردیش کے علاقے اجودھیا میں جو مسجد بنوائی، اس کا نام بابری مسجد رکھا گیا۔ ہندوؤں کے ایک بڑے طبقے کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد اس مندر کو توڑ کر بنوائی گئی جہاں پر ان کے بھگوان رام پیدا ہوئے تھے۔

Die Babri-Moschee vor der Zerstörung 1992
تصویر: CC-BY-SA-Shaid Khan

یہ تنازعہ پہلی مرتبہ انیسویں صدی میں برطانوی دور حکومت میں سامنے آیا اور 1885میں فیض آباد ضلع (جہاں اجودھیا واقع ہے) کے کمشنر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ بابری مسجد میں باضابطہ نمازیں ہوتی رہیں لیکن 22-23 دسمبر سن 1949 کی رات کو مسجدکے درمیانی گنبد کے نیچے بھگوان رام کی مورتی رکھ دی گئی اور ہندوؤں کے ایک طبقہ نے دعوی کیا کہ بھگوان رام پرکٹ (نمودار) ہوگئے۔

اس کے بعد صورت حال کشیدہ ہوگئی اور حکومت نے مسجد پر تالا لگا کر وہا ں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی۔ اجودھیا کے مسلمانوں نے مسجد میں مورتی رکھنے کے خلاف مقدمہ درج کرایا اور مورتی ہٹانے کا مطالبہ کیا جس کے بعد ہندوؤں نے بھی مسجد کی زمین پر ملکیت کا مقدمہ دائر کر دیا۔

بابری مسجد سیاسی مسئلہ

قوم پرست ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سن 1980 کے اواخر میں اسے سیاسی مسئلہ بنا دیا اور بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک ملک گیر تحریک شروع کی۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کی قیادت میں اس تحریک میں بی جے پی کی مربی تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ متعدد شدت پسند ہندو تنظیموں نے رام مندر تحریک کو 'ہندوؤں کے وقار‘ کی مہم میں تبدیل کردیا۔

Indien Rückblick 70 Jahre Zerstörung der Babri Masjid Moschee in Ayodhya
تصویر: Getty Images/AFP/D. E. Curran