1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

برطانوی ادارہ صحت کی غلطی، اہم ڈیٹا ضائع ہو گیا

11 اپریل 2010

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس NHS کی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ مردہ جسموں کے اعضاء کے عطیات کے ضمن میں فاش غلطی سرزد ہوئی ہے۔

https://p.dw.com/p/MtF1
تصویر: UHN & TGWHF

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے زیر انتظام جاری انسانی جسم کے اعضاء کے عطیات یا ’اورگن ڈونیشن‘ پروگرام کے تحت لاکھوں افراد نے اپنے ناموں کا اندراج کرا رکھا ہے۔ ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے جسم کے خاص اعضاء بطور عطیہ کسی مستحق کو منتقل کر دئے جائیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے، جو مرنے کے بعد اپنے جسم کے تمام اعضاء کے عطیات دینے کی وصیعت کر دیتے ہیں۔ تاہم زیادہ تعداد ایسے ڈونرز کی ہے، جو کوئی ایک عضو، اس نیک مقصد کے لئے مختص کر دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ رجحان آنکھوں کا عطیہ دینے کا پایا جاتا ہے۔ یہ تمام کوائف ایک رحسٹر میں جمع کئے جاتے ہیں۔

Herz wird für Transplantation vorbereitet
عطیات کئے گئے اعضاء دیگر انسانوں میں پیوند کر دئے جاتے ہیںتصویر: AP

1999 ء میں بہت سے ڈونرز کی اعضاء سے متعلق ترجیحی فہرست کی تفصیلات غلطی سے کمپوٹر سسٹم سے مٹ گئی۔ اس کے سبب کم از کم 21 ایسے کیسس کا پتہ چلا ہے، جن میں مردہ ڈونرز کی خواہش یا ترجیح کے بر خلاف کوئی دوسرا اورگن ان کے جسم سے نکال کر کسی ضرورت مند کو عطیے کے طور پر لگا دیا گیا۔

برطانیہ کے ہیلتھ سیکریٹری اینڈی برنہم نے اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کو ایک فاش غلطی سمجھیں اور اس کی وجہ سے اعضاء کے ڈونیشن یا عطیات دینے جیسے نیک کام سے پیچھے نہ ہٹیں۔ اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ ان اہم کوائف کو محفوظ کرنے کے لئے ایک نیا سسٹم تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ مستقبل میں ایسی کوتاہیاں سرزد نہیں ہوں گی۔

تاہم برطانوی ہیلتھ سیکریٹری نے بتایا کہ تقریباً 8 لاکھ ڈونرز کے کوائف سسٹم کی خرابی کے سبب متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کوائف کو عطیات دینے کے عمل میں بروئے کار نہیں لایا جائے گا اور جن مردہ افراد کے یہ کوائف ہیں ان کے گھر والوں کو تمام تفصیلات سے آگاہ کردیا گیاہے۔ اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ مستقبل میں بے حد ہوشیاری سے اورگن ڈونیشن کے رجسٹرز کی حفاظت کرے گا اور آئندہ اس قسم کی کوتاہی نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک عوام ہیلتھ سروس کی طرف سے کوئی خبر نہ سنتے تب تک اُنہیں بالکل اطمینان سے اعضاء کے عطیات کا کام جاری رکھنا چاہئے۔ ادھر ایک Patients Pressure Group کے سرکردہ کارکن Joyce Robins نے کہا ہے کہ موجودہ برطانوی حکومت کا ڈیٹا کلیکشن یا کوائف جمع کرنے کا سسٹم خوفناک حد تک ناقص ثابت ہوا ہے۔ انہیں نے اس امر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ مردہ انسانوں کے جسموں کے اعضاء کے عطیات سے متعلق حساس ڈیٹا کے ساتھ اتنی لاپرواہی برتی گئی۔

دریں اثناء برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ’بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ‘ ادارے نے اورگن ڈونرز کے 4 لاکھ ناقص ریکارڈز کی تصحیح کر دی گئی ہے۔

رپورٹ : کشور مصطفیٰ

ادارت : عاطف توقیر