1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

چینیوں کے لیے بڑھتی نوازشات، بلوچوں کے بڑھتے تحفظات

8 جولائی 2021

گوادر اور مکران ڈویژن کے بعض دیگرعلاقوں میں بڑھتے ہوئے چینی اثرورسوخ کے خلاف مقامی افراد کا احتجاج زور پکڑتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا الزام ہے کہ ترقی کے نام پر ان کی آزادی کو سلب اور وسائل لوٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/3wCLg
تصویر: Ghani Kakar

گوادر اور مکران ڈویژن میں مقامی آبادی نے مختلف علاقوں میں نقل وحمل پرعائد کی گئی حکومتی پابندیوں پر بھی سخت تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ دوسری جانب گوادرکے ماہی گیر بھی ساحلی علاقوں میں چینی ٹرالرز کی ماہی گیری کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

چینی ٹرالرز کی ماہی گیری

بلوچ قوم پرست جماعتوں اور ماہی گیروں کی مقامی تنظیم کی کال پر ماہی گیروں نے گوادر اور مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں میں گزشتہ ہفتوں کے دوران کئی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ گوادر میں مقیم ماہی گیروں کی ایک مقامی تنظیم کے رہنما ستار دشتی کہتے ہیں کہ سی پیک اکنامک زونز میں چینی ٹرالرز کی ماہی گیری سے مقامی ماہی گیر نان شبینہ کے محتاج بنتے جا رہے ہیں۔

Pakistan Gwadar Wirtschaftskorridor mit China
تصویر: Ghani Kakar

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، 'گوادر سمیت دیگر ساحلی علاقوں میں مقامی لوگوں کی آکثریت کا واحد ذرئعہ معاش ماہی گیری سے وابستہ ہے۔ حکومت نے یہاں عوام کو روزگار کی فراہمی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں ۔ گوادر میں آب چینی ٹرالرزکو بھی ماہی گیری کے حقوق دئیے جا رہے ہیں۔ ہم نے غیر قانونی شکارمیں ملوث چینی ٹرالرز کی حکومت کو نشاندہی بھی کرائی ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔‘‘

 

بے روزگاری میں اضافہ

ستار دشتی کے بقول گوادر اور ملحقہ علاقوں کے آبی حدود میں چینی ٹرالرزکے غیر قانونی شکار سے مقامی لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں اور ان کے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا،''مقامی ماہی گیروں کے پاس وسائل کی بھی کمی ہے۔ گوادر کے ماہی گیروں کے پاس چھوٹی کشتیاں ہیں اور وہ گہرے پانی میں نہیں جا سکتے دوسری جانب گہرے چینی ٹرالرز میں ماہی گیری کے بڑے جال ہوتے ہیں جو نہ صرف بہت سی مچھلیوں کا شکار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ان چینی ٹرالرز سے سمندری ماحول بھی تباہ ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ

 ساحلی شہر گوادر میں مقامی آبادی نے اپنی زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ پر بھی شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔کوئٹہ کی احتساب عدالت میں گوادر اراضی اسکینڈل کے حوالے جمع کرائے ایک ریفرنس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گوادر کے ناگوری وارڈ میں سمندر کے قریب خصوصی محل وقوع کی حامل انتہائی قیمتی اراضی کی ریکارڈ میں ٹمپرنگ کی گئی ہے۔ بدعنوانی کے اس اسکینڈل میں صوبائی محکمہ مال کے تین تحصیلداروں سمیت آٹھ اہلکاروں پر ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ نیب کے مطابق سرکاری اہلکاروں نے دس لاکھ چونتیس ہزار چھ سو پچاس اسکوائر فٹ اراضی کے ریکارڈ میں ردو بدل کی ہے۔

Pakistan Gwadar | Premierminister Imran Khan bei Unterzeichnung Memorandum of Understanding mit China
تصویر: Pakistani Press Information Department/XinHua/picture alliance

حکومت پر مقامی شہریوں کو نظر انداز کرنے کا الزام

بلوچ قوم پرست جماعت، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ملک عبدالولی کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت بلوچ قیادت کو صوبے کے اہم فیصلوں میں نظر انداز کر رہی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''بلوچستان کے ساحل اور وسائل کے مالک مقامی لوگ ہیں۔ یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری پر جو تحفظات سامنے آرہے ہیں حکومت انہیں جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہے۔ گوادر میں چینی کمپنیوں کو جو فری ہینڈ دیا جا رہا ہے اس سے یہاں ایک غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ مقامی لوگ بڑھتی ہوئے چینی اثرو رسوخ کی وجہ سے اپنے مستقبل کے حوالے سے بہت فکر مند ہیں۔‘‘

ملک ولی کا کہنا تھا کہ بلوچ قوم ترقی کی کبھی مخالف نہیں رہی ہے لیکن ترقی کے نام پر اپنے استحصال پر کبھی خاموش نہیں رہے گی۔انہوں نے مزید کہا،''گوادر اور بعض دیگر ساحلی علاقوں میں مقامی لوگوں کے لیے چینی کمپنیوں کی وجہ سے سختیاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں۔ لوگوں کے نقل و حمل کو کئی علاقوں تک محدود کیا گیا ہے۔ روزگار کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ روزگار کی تلاش میں مقامی لوگ جب باہر نکلتے ہیں تو انہیں سکیورٹی کے نام پر روک دیا جاتا ہے۔ آپ خود اندازہ لگایے کہ گوادر کے لوگوں کی زندگی ترقی کے ان تمام دعوؤں کے باوجود کس قدر مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے۔‘‘

باڑ لگانے کی مخالفت

پانچ جولائی کو گوادر میں وزیراعظم عمران خان نے کئی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا تھا۔گوادرکے مخصوص علاقے کو الگ کرنے کے لیے کچھ عرصہ قبل باڑ لگانے کا کام بھی شروع کیا گیا تھا، جس کی مقامی لوگوں اور صوبے کی سیاسی قیادت نے شدید مخالفت کی تھی۔

بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین منیر احمد نے گوادر میں باڑ لگانے کے خلاف عدالت عالیہ سے بھی رجوع کیا تھا۔آئینی درخواست میں رہائشی علاقے میں باڑ لگانے کو شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیا گیا تھا۔ گوادر میں چینی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف سول سوسائٹی کے لوگ بھی سراپا احتجاج ہیں۔ شہری کہتے ہیں کہ چینی کمپنیوں کی وجہ سے حکومت نے ان کی آزادی سلب کر رکھی ہے اور انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔

صوبائی اسمبلی میں بھی بازگشت

سی پیک منصوبے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے عوامی تحفظات کی گونج بلوچستان اسمبلی میں بھی سنائی دی ہے۔ چھ جولائی کو اپوزیشن کی ریکوزیشن پر طلب کیے گئے اجلاس بھی بعض اراکین صوبائی اسمبلی نے حکومتی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔اپوزیشن کے اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ترقی کے نام پر صوبے کو کئی بحرانوں سے دوچار کیا ہے، جس سے عوام براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کے رکن ثںاء اللہ بلوچ کہتے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے حکومتی کارکردگی ہمیشہ مایوس کن رہی ہے۔

دعوے اور حقائق

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا،''دیکھیں ہم روز اول سے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ حکومت سی پیک کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔ اس منصوبے کے حوالے سے اب تک جو بھی دعوے سامنے آئے ہیں وہ زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ترقی کے عمل میں عوامی شمولیت کو یقینی بنائے۔ جب تک گوادر اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں کے تحفظات دور نہیں ہوں گے اس منصوبے کے دور رس نتائج سامنے نہیں آ سکتے ۔‘‘

ثناء اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے ہر کونے میں لوگ حکومتی بے حسی پر سراپا احتجاج ہیں مگر انہیں کوئی ریلیف نہیں مل رہا ہے،''بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، یہاں کے وسائل لوٹنے کے لیے ہر سطح پر سازشیں کی جا رہی ہیں۔ گوادر میں ماہی گیروں کے مسائل سمیت مقامی لوگوں کے دیگر خدشات پر اگر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی تو احتجاج کا دائرہ کار صوبے کے دیگر علاقوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو عوام کو غیر ملکیوں کے مفادات کے لیے دیوار سے نہ لگایا جائے۔ سکیورٹی کے نام پر لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے کبھی مثبت نتائج سامنے نہیں آ سکتے۔‘‘

واضح رہے کہ چینی کمپنیان گوادر کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں توانائی اور کان کنی کے شعبے میں بھی کام کر رہی ہیں۔پاکستان میں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر کے حامل سیندک پروجیکٹ پر کام کرنے والی چینی کمپنی کے خلاف بھی حال ہی میں مقامی لوگوں نے احتجاج کیا تھا۔

بلوچستان کا احساس محرومی دور کرنے کی کوشش کروں گا، عارف علوی