1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت اور چین کے درمیان بات چیت کے باوجود کشیدگی برقرار

صلاح الدین زین ڈی ڈبلیو بھارت
23 جولائی 2020

بھارت اور چین کے درمیان سفارتی اور فوجی سطح پر کئی دور کی بات چیت کے باوجود سرحد پر حالات کشیدہ ہیں اور لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے دونوں جانب بڑی تعداد میں فوجیں جمع ہیں۔

https://p.dw.com/p/3fkhk
Indien China Konflikt Indian Air Force
تصویر: Getty Images/AFP/T. Mustafa

بھارت اور چین حساس ترین لداخ سیکٹر میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فوجی اور سفارتی سطح کی گفت و شنید کے باوجود کسی خاص پیش رفت میں اب تک ناکام رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ فریقین نے کشیدگی کم کرنے کے مقصد سےلائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے بعض مقامات سے فوجیوں کی منتقلی کا عمل شروع ہوگیا ہے تاہم موجودہ صورت حال سے لگتا ہے کہ یہ عمل پھر سے تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔

بھارتی میڈیا میں فوجی ذرائع سے یہ خبریں شہ سرخیوں میں ہیں کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے جن اقدامات پر عمل کرنا تھا اس میں کوئی خاص  پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پینگانگ جھیل اور ڈیپسانگ سیکٹر میں فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کے تعلق سے تعطل برقرار ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آنے والے موسم سرما تک یہ صورت حال برقرار رہ سکتی ہے۔

بھارت کے ایک خبرساں ادارے کے مطابق، '' چین کی جانب سے تناؤ میں کمی کا کوئی عندیہ نہیں ہے کیونکہ ان کی طرف سے اب بھی بھاری فوجی ساز و سامان، جیسے ایئر ڈیفنس سسٹم، فوجی گاڑیاں اور لانگ رینج آرٹیلری کے ساتھ ہی تقریبا ً40 ہزار فوجی محاذ پر تعینات ہیں۔'' اطلاعات کے مطابق چینی فوج نے کئی متنازعہ علاقوں میں اپنی چوکیاں قائم کر لی ہیں جہاں سے وہ ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔   

 لداخ کی معروف جھیل پینگانگ میں بھارت اور چین دونوں کی فوجیں گشت کرتی ہیں۔ جھیل میں بھارت کی پیٹرولنگ کا دائرہ فنگر آٹھ تک ہوا کرتا تھا تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق تنازعہ کے بعد سے چینی فوج نے بھارت کی پیٹرولنگ کا دائرہ فنگر چار تک محدود کر دیا ہے۔ اسی طرح ڈیپسانگ سیکٹر میں بھی چینی فوج حقیقی کنٹرول لائن کے تقریباً 18 کلو میٹر تک اندر داخل ہوگئی ہے اور ان دونوں علاقوں کے تنازعہ کے حوالے سے فریقین میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں میں اس تعطل کے لیے چین پر یہ کہہ کر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ فوج کو جن مقامات سے ہٹانے پر اتفاق ہوا تھا وہاں سے چینی فوجیں نہیں ہٹ رہی ہیں اس لیے یہ عمل رک گیا ہے۔ خبروں کے مطابق اس پر بات چیت کے لیے  دونوں ملکوں کے سینئر سفیر جمعہ 24 جولائی کو پھر سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

   

گزشتہ 17 جولائی کو بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے لداخ کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کے حل کے لیے گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہے اور کچھ حد تک پیش رفت بھی ہوئی ہے، تاہم اس سے کتنی پیش رفت ہوگی وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا تھا، ''سرحدی تنازعہ کے حل کے لیے بات چیت چل رہی ہے لیکن اس سے کس حد تک معاملہ حل ہوگا وہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتے۔ میں آپ کو اس بات کی یقین دہانی کراسکتا ہوں کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت بھارت کی ایک انچ بھی زمین نہیں لے سکتی ہے۔  اگر بات چیت کے ذریعے حل نکل آئے تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہوگا۔''

بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے ساتھ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور بھارتی فوج کے سربراہ جنرل مکند منوج نروانے بھی لداخ کے دورے پر آئے تھے۔

جوہری اسلحوں سے لیس دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان گزشتہ تین ماہ سے حالات کشیدہ ہیں۔ جون کے وسط میں لداخ کی وادی گلوان میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تصادم کے واقعے میں کم از کم 20 بھارتی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ اس تصادم میں چینی افواج کے ہلاک ہونے کی بھی خبریں ہیں تاہم بیجنگ نے اس سلسلے میں کوئی تفصیلات نہیں جاری کی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کی بڑی تعداد میں افواج اب بھی حقیقی کنٹرول لائن پر موجود ہیں۔

گزشتہ روز وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے فضائیہ کے کمانڈرز کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے وقت کہا تھا کہ انہیں کسی بھی صورت حال کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے سرحد پر صورتحال اس طرح کشیدہ ہے کہ اس کے جلدی حل ہونے کے آثار کم ہیں۔

بھارتی فوج کی شمالی ونگ کے سابق کمانڈر جنرل ڈی ایس ہوڈا نے اس صورت حال پر بھارتی میڈیا سے بات چیت میں کہا، ''گیند تو اب بھارت کے پالے میں ہے۔ چونکہ چینی پہلے ہی ان علاقوں میں آ بیٹھے ہیں جسے بھارتی علاقہ کہا جا تا ہے تو انہیں اس صورت کو برقرار رکھنے میں خوشی ہوگی۔ اب بھارتی حکومت کو اس بات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔"

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں